ابھی تک کی اطلاع کے مطابق نیس واقعہ میں 84 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی

Paris Attack

Paris Attack

پیرس (زاہد مصطفی اعوان سے) نیس میں جو واقعہ ہوا اس میں ابھی تک کی اطلاع کے مطابق 84 افراد جاں بحق ہوگئے اور 150 سے زائد زخمی ہیں ان میں سے 50 سے 60 ایسے ہیں جو زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔

ٹرالے کو ایک فرد ہی چلا رہا تھا اور اس نے دو کلومیٹر دور سے ہی عوام کو روندنا شروع کر دیا تھا داعش نامی تنظیم نے 13 نومبر 2015 کو بھی ایسی خون کی ہولی کھیلی تھی جس میں 130 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے اس کے بعد برسلز ایئرپورٹ پر بھی یکے بعد دیگرے 5 سے 6 دھماکے کئے گئے تھے جس میں بھی متعدد اموات ہوئی تھیں۔ سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے ایمرجنسی میں بھی 3 ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔

فرانس کے صدر نے رات گئے اپنے خطاب میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے عوام کو اعتماد میں لیا دہشتگردوں نے جب چارلی ہبدو پر فائرنگ کرکے قتل کیا تھا تب سے لیکر آج تک فرانس میں دہشت گردوں نے ڈھیرے ڈال رکھے ہیں اور آئے روز کوئی نہ کوئی واردات کر دیتے ہیں عوام میں شدید بے چینی کی کیفیت ہے آخر بتائیں کب تک لوگ دہشت گردوں کو اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے رہیں گے۔

اقوام متحدہ کو کشمیر، فلسطین اور دنیا کے تمام ممالک سے دہشت گردوں اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے لائحہ عمل بنانا ہو گا فرانس میں 13 نومبر کے بعد تجارت اور کاروبار زندگی شدید متاثر ہوا ہے عوام میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

ایئرپورٹ، ٹرین، میٹرو، بس سٹاپ اور ذرائع آمدو رفت کے مضافات میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور فوج تعینات کی گئی ہے۔