افغان طالبان سیاسی نظام کا حصہ بنیں۔ امریکہ

America

America

واشنگٹن (جیوڈیسک) امریکہ نے افغان امن مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنے پر پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے افغان امن مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا، امید ہے کہ پاکستان مستقبل میں بھی مثبت کردار ادا کرتا رہے گا، چاہتے ہیں کہ طالبان کے افغان حکومت سے امن مذاکرات ہوں، یہ طالبان کے لئے اچھا موقع ہے کہ وہ ملک میں امن کے ساتھ اپنی زندگیاں دوبارہ شروع کر سکیں، طالبان ملک کے سیاسی نظام میں شامل ہو جائیں۔

واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان امریکی محکمہ خارجہ مارک ٹونر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ طالبان کے افغان حکومت سے امن مذاکرات ہوں، طالبان کو چاہیے کہ وہ افغان حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرتے ہوئے قانونی طور پر ملک کے سیاسی نظام کا حصہ بنیں۔ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات ملتوی ہونے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں یہ مصالحت کے لئے سب سے بہتر وقت ہے اور اسے ایک اہم موقع سمجھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے۔

اب یہ فیصلہ طالبان کو کرنا ہے کہ انھیں افغانوں کے ساتھ جنگ کو جاری رکھتے ہوئے اپنے ملک کو نقصان پہنچانا ہے یا پھر افغانستان میں امن کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ مارک ٹونر نے طالبان کے نئے امیر اختر منصور اور ملا عمر کے بیٹے کے درمیان اختلافات کی خبروں سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے آگاہ ہے اور اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کہیں داعش خطے کے لئے خطرہ نہ بن جائے۔

ادھر چین نے افغانستان میں امن و مفاہمتی عمل کیلئے پاکستان اور دیگر فریقین کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیو کانگ نے کہا کہ چین مذاکرات کی تاخیر کی وجوہات بخوبی سمجھتا ہے جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام فریقین افغانستان میں قومی یکجہتی اور پائیدار امن پر توجہ دیں اور ملک میں امن اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھائیں۔ یہ تمام افغان عوام‘ فریقین کے مفاد اور علاقائی امن و سلامتی کے حق میں ہے۔