علی رضاسید نے سوپور میں بے گناہ کشمیریوں کی پے درپے شہادتوں پر تشویش ظاہر کیا ہے

Ali Raza Syed

Ali Raza Syed

برسلز (پ ۔ ر) کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے مقبوضہ کشمیرکے علاقے سوپورمیں بے گناہ کشمیریوں کے قتل کے پراسرار واقعات پر سخت تشویش ظاہرکرتے ہوئے ان پے درپے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انھوں نے برسلزسے اپنے ایک بیان میں کہاکہ عالمی برادری کو اس طرح کے مظالم کا نوٹس لیناہوگا تاکہ ان واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہوسکے۔

یادرہے کہ سوموار کے روز ضلع بارامولاکے علاقے سوپور میں اعجازاحمد رشی نامعلوم نقاب پوشوں نے شہید کردیا اور اس سے چوبیس گھنٹے پہلے ایک اور بے گناہ شخص معراج الدین ڈار کو قتل کردیاگیاتھا۔ گذشتہ تین ہفتوں میں اس علاقے میں بے گناہ سویلین کے قتل کی یہ چھٹی واردات ہے۔

ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے علی رضاسید نے کہاکہ سویلین کی شہادتوں سے پوری مقبوضہ وادی میں پریشانی،ہراس اور سخت تشویش پھیل گئی ہے اور لوگ احتجاج کرنے گھروں سے باہرنکل رہے ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ بھارت اس سے پہلے بھی آزادی پسند کشمیریوں کو قتل کرکے ان پرتشدد اقدامات کو لوگوں کو دبانے کے لیے حربے کے طورپر استعمال کرتارہاہے تاکہ وہ اپنی پرامن آواز بلند نہ کرسکیں۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے کہاکہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے بے گناہوں کا قتل عام ہرگز قابل قبول نہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ ان واقعات کا فوری طوری پر نوٹس لے اور بھارت کو اس طرح کے وحشیانہ ہتھکنڈوں سے روکے۔ انھوں نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور سوپورمیں بے گناہوں کے قتل عام اور بھارت کے غیرجمہوری رویے کا نوٹس لیں۔علی رضاسید نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت اورہمدردی کا اظہارکیا اور کہاکہ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے پیاروں کی مغفرت کرے۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضاسید نے کہاکہ کشمیری اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں اور اس مقصد کے لیے بہت زیادہ قربانیاں دے رہے ہیں۔تمام آزادقوموں اور ممالک کوتحریک آزادی کشمیر کی جدوجہدکی حمایت کرنی چاہیے۔ اگرچہ بھارت مظالم کے ذریعے آزادی کے راستے میں روکاوٹیں ڈال رہاہے، لیکن یہ تحریک اپنے منطقی انجام کو ضرور پہنچے گی اور ایک دن کشمیرکو بھارتی چنگل سے آزادی مل کررہے گی۔ اس تحریک کو کوئی روک نہیں سکتا۔کشمیرکے مسئلے کا عادلانہ حل نہ صرف خطے بلکہ دنیامیں امن کے لیے ضروری ہے۔