سیرت رسول کو اپنائے بغیر زندگی بے معنی ہے: پروفیسر علیم الدین بلخی

Hazrat Muhammad PBUH

Hazrat Muhammad PBUH

پٹنہ (ذیشان نعیم فردوسی) ہمارے سارے مسائل کا حل رسول اللہ کی سیرت میں ہی ہے۔ اس کو اپنائے بغیر نہ تو ہماری دنیا سنور سکتی ہے اور نہ ہی آخرت کا میاب ہو سکتی ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں رسول کی اتباع لازمی ہے، اس کے بغیر ہماری زندگی بے معنی ہے۔

صحابہ کرام نے آپ کی پوری اتباع کی، وہ دنیا میں بھی سرخرو ہوئے اور انہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت بھی مل گئی۔ یہ باتیں حکیم سید شاہ پروفیسر علیم الدین بلخی ندوی سجادہ نشیں خانقاہ بلخیہ فردوسیہ فتوحہ نے ایک جلسۂ سیرت رسول کو خطاب کرتے ہوئے کہیں۔وہ آج عالم گنج لوہرا گھاٹ میں حافظ ذیشان نعیم فردوسی کے والد جناب محمد نعیم مرحوم کے چہلم کے موقع پر اظہار خیال کر رہے تھے۔

مرحوم کے لئے ایصال ثواب کا ذکر کرتے ہوئے شاہ علیم الدین بلخی نے فرمایا کہ کسی حدیث سے ایصال ثواب کے ناجائز ہونے کا ثبوت نہیں ملتا بلکہ رسول اللہ کے عمل سے ایصال ثواب کا ہی جواز ثابت ہے۔ قربانی کسی دوسرے کے لئے بھی کی جا سکتی ہے۔ حج بدل بھی دوسروں کے لئے ہوتا ہے۔ لیکن اس کا ثواب دوسروں تک یا مرنے والوں تک پہنچتا ہے۔ پھر کسی کے لئے قرآن پڑھا جائے تو اس کا فائدہ مرنے والوں کو کیوں نہیں پہنچ سکتا۔

اس سے پہلے سید شاہ ابصار الدین بلخی فردوسی نے بھی جلسۂ سیرت پاک کو خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ موت فنا نہیں بلکہ نقل مکانی ہے اس لئے کہ انسان کی روح فنا نہیں ہوتی۔ اللہ کے مقربین اسے رفیق اعلیٰ کا وصل قرار دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب منکرین نے شہدا کو مردہ کہا تو اللہ نے ان کو بے شعور قرار دیتے ہوئے کہا کہ موت کا ادراک و احساس وہ نہیں کر سکتے بلکہ اہل ایمان ہی سمجھتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں اور رزق بھی پاتے ہیں
موت اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

جلسہ کی شروعات حافظ و قاری محمد ذیشان نعیم فردوسی کی تلات کلام پاک سے ہوئی۔ سید شاہ نصر الدین بلخی فردوسی نے جناب رسالت مآب میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا۔ دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔ حاضرین مجلس میں محمد وسیم ، محمد اسرائیل، محمد مبین، محمد ارشاد، محمد مصطفی رضا اور محمد نوشاد وغیرہ کی شرکت قابل ذکر ہے۔