علامہ اقبال کی شاعری سوچ کو نوجوان نسل میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے، سید احمد معروف

Consulate General of Pakistan Birmingham United Kingdom

Consulate General of Pakistan Birmingham United Kingdom

برمنگھم ( ایس ایم عرفان طاہر سے ) علامہ اقبال کی شاعری سوچ اور افکار کو نوجوان نسل میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے ، جو قومیں اپنے اسلاف کی خدمات اور قربانی کو فراموش کردیں توتاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی ہے انکا احتساب فطری عمل کا تقاضا ہے ، اخوت کی پاکستانی غریب گھرانوں کے لیے قرض حسنہ سکیم اور انہیں معاشی استحکام بخشنے کے لیے گراں قدر خدما ت قابل ستائش ہیں۔

ان خیالات کا اظہار قونصلر آف پاکستان برمنگھم سید احمد معروف نے قونصلیٹ آف پاکستان برمنگھم میں مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے حوالہ سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سٹیج سیکرٹری کے فرائض معروف ٹی وی آرٹسٹ محمد عرفان بٹ نے سر انجام دیے۔

اس موقع پر پاکستان سے تشریف لا ئے ہو ئے سنیئر صحافی ، شعراء ، مصنف ، ادیب ،اہل قلم مجیب الرحمن شامی ، امجد اسلام امجد ،ڈاکٹر محمد امجد ثاقب ایگزیکٹو ڈائر یکٹر اخوت انٹریسٹ فری مائیکرو فنانس ،سرور منیر رائو ، غرید ہ فاروقی ، عادل عباسی ، شازیہ خان، عثمان شامی سمیت مقامی سطح پر ساجد یونس سماجی سفیر پولیس اینڈ کرائم کمشنر ویسٹ میرکیہ ، ڈا کٹر امتیا ز احمد ، معروف شاعرہ طلعت سلیم ، عامر احمد، مظہر حسین ، غضنفر محمود ، شاہینہ ، صا ئمہ ہا رون اور دیگر نے خصوصی شرکت کی ۔ قونصلر آف پاکستان برمنگھم نے کہاکہ علامہ اقبال کے حقیقی پیغام اور انکے با رے میں معلومات کا خاصا فقدان موجود ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان کے شاعرانہ اور فلسفانہ پیغام کو سمجھنے کے لیے ہر شخص کو اجتما عی اور انفرادی سطح پر کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر محمد امجد ثا قب نے کہاکہ علامہ اقبال ایک ہمہ جہد اوصاف کی مالک شخصیت تھے جنہوں نے اپنے شاعرانہ اسلوب کے زریعہ سے خودی ، اخوت ، وطنیت اور توحید و رسالت کا پیغام دیا ۔ انہوں نے کہاکہ اقبال نے معاشرے میں عدل و انصاف کے وجود کو رواداری ایثار اور بھا ئی چارے کا بنیادی تصور قرار دیا ۔ انہوں نے کہاکہ جس معاشرے میں تمام انسانوں کو مساوی حقوق اور انصا ف حاصل ہو اور اخوت کے اصول اپنا ئے جائیں تو وہاں قدورت نفرت اور عداوت جنم نہیں لے سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسلام دہشت و وحشت کے خاتمہ اخوت کی جہا نگیری اور عالمگیر محبت کا حکم دیتا ہے جو اقبال کی شاعری کا بنیادی پہلو ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اخوت انٹریسٹ فری مائیکرو فنانس درحقیقت اقبال کے پیغام اخوت کی حقیقی اور عملی شکل ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ اخوت کا آغاز قرض حسنہ سے کیا گیا تھا ۔ انہو ں نے کہاکہ ابتدائی ایا م میں محض بیس گھرانوں کو معاشی ترقی فراہم کرنے کے لیے قرض حسنہ دیا گیا جو انہوں نے استعمال کرنے کے بعد بہتر انداز میں واپس کردیا موجودہ پندرہ سال مکمل ہو نے تک اخوت ایک رضاکا ر سے شروع ہو کر پھر کا روان اور اب ایک تحریک کی صورت اختیا رکر چکی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اخوت نے اب تک 18 ارب سے زائد خطیر رقم کے قرض حسنہ 10 لاکھ گھرانوں کو فراہم کرکے 70 لاکھ افراد کی معاونت کی ہے ۔ انہوں نے قرض حسنہ کے طور پر استعمال ہو نے والی اس رقم کو نہ صرف ان گھرانوں نے استعمال کرکے واپس کردیا ہے بلکہ آج ان میں سے 70 فیصد افراد اس سکیم کے باقاعدہ فنانسر بن چکے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اتنی زیادہ رقم کی عوام الناس کو فراہمی اور پھر 99% تک دیانتداری سے واپسی پاکستان کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کی عملی تصویر ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسی طرح ہم ایک قوم بن کر ایک دوسرے کے اچھے برے وقت میں معاونت کا سلسلہ شروع کردیں تو دن بدن بہتری کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔

مجیب الرحمن شامی نے کہاکہ علامہ محمد اقبال تصور پاکستان کے خالق تھے ۔ انہوںنے ایک آزاد اور خو د مختار اسلامی ریاست کا خواب دیکھا اور قائد اعظم محمد علی جنا ح نے اسے عملی جا مہ پہنایا ۔ انہوں نے کہاکہ لاکھ مسائل مصائب اور مشکلات کے باوجود بھی آزادی جیسی نعمت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جسم کے کسی ایک حصے کو چوٹ لگے تو پو رے جسم کو درد محسوس ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک الگ مملکت کے قیام اور وجوہا ت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ اوورسیز پاکستا نیوں کی بدولت ملک کے اندر جو معاشی استحکام اور بہتری پیدا ہو ئی ہے اسے کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بسنے والے اور تا رکین وطن دونوں ایک دوسرے کو مشکل کی ہر گھڑی میں طا قت فراہم کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اخوت کے مشن کی طرح ہر فرد پاکستان کو بہتر اور خو شحال بنانے میں انفرادی سطح پر کوشش کرے تو بہتری کی فضاء قائم ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بسنے والے کسی ایک معاشی طور پر کمزور گھرانے کو مضبوط تارکین وطن اپنے ساتھ جوڑ لیں تو خوشحالی کی طرف باآسانی بڑھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم محض اتفاق و اتحاد اور با ہمی ربط سے پاکستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں ۔ امجد اسلام امجد نے کہاکہ علامہ اقبال کی زندگی کے برطانیہ اور یورپ میں گزرے ہو ئے تین سالوں نے انقلاب برپا کر دیا اور یہاں سے انہو ں نے مشرق و مغرب کے سماج روایات اور دیگر تقسیموں کا موازنہ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ اقبال نے اپنی شاعری کے زریعہ سے جواں سال نسل کے دلوں کو روشنی فراہم کی ہے اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ وہ اس روشنی سے استفادہ کریں ۔ انہو ں نے کہاکہ اقبال کی شاعری ہر طبقہ فکر کے لیے ایک تغیر و تبدل اور بہتری کا پیغام دیتی ہے ۔ انہوں نے کہاہمیں چاہیے کہ انکے پیغام کو سمجھتے ہو ئے آگے دنیا میں عام بھی کیا جائے۔