انجمن فروغِ اردو ادب ، کویت کے زیرِ اہتمام آٹھواں عالمی مشاعرہ

Abdulla Abasi Mike per

Abdulla Abasi Mike per

کویت (سعید نظر) کویت کی ادبی تاریخ گواہ ہے کہ کویت گزشتہ نصف صدی سے اردو شعروادب کا گہوارہ رہا ہے۔ کتب کی اشاعت، مہمان شعراء وادباء کی پذیرائی اور تسلسل کے ساتھ منعقد ہونے والی شعری محفلوں کا سلسلہ اس کے گواہ ہیں۔ اسی ضمن میں کویت کی فعال ادبی تنظیم انجمن فروغِ اردو ادب کویت نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے آٹھویں عالمی مشاعرہ کا انعقاد مقامی پانچ ستارہ ہوٹل سوئس بیل پلازہ میں کیا۔ نہایت پروقار اور شاندارمحفلِ مشاعرہ کا انعقاد انجمن کے بانی و صدر جناب عبداللہ عباسی کی کوششوں کی منھ بولتی تصویر تھی جس کے لیے تمام اہلِ علم و دانش نے عبداللہ عباسی کی تعریف اور حمایت میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

٩ اکتوبر ٢٠١٥ء کی اس خوبصورت شام میںجہاں امریکہ سے معروف اور مقبول شاعر فرحت شہزاد نے شرکت کی وہیں ہندوستان سے ڈاکٹر سنیل کمار تنگ اور فیض خمار اور سعودی عربیہ سے شیراز مہدی شامل ہوئے۔ ساتھ ہی کویت کے تقریبا تمام اہم شعرائے کرام نے اپنا اپنا کلام پیش کیا۔ اس خوبصورت تقریب کو فرحت شہزاد کی موجودگی کی مناسبت سے شامِ فرحت کا نام دیا گیا تھا۔ م

حترم فرحت شہزاد کی شاعری سے ایک زمانہ آشنا اور مداح ہے، آپ کے غزلیں دینائے موسیقی کے قریب قریب سبھی قدآور گلوکاروں نے گائی ہیں جن میں مہدی حسن، غلام علی، جگجیت سنگھ اور لتامنگیشکر کا نام سرِ فہرست ہے۔ مشاعرہ کی صدارت فرحت شہزاد نے کی جبکہ سفیرِ پاکستان برائے کویت عزت مآب محمد اسلم خان صاحب بحیثیت مہمانِ خصوصی جلوہ افروز تھے۔ دیگر معزّز مہمانان میں حافظ محمد بشیر، محمد صالح بروڈاورہوشدار خان کی موجودگی نے شامِ فرحت کو فرحت و انبساط کے جذبات سے معمور کیا۔

تقریب کا آغاز محترم محمد حافظ شبیر کی خوبصورت قرات سے ہوا اس کے بعد محترمہ روبیلا عادل نے ایک حمد پیش کرکے محفل کو پرنور کیا، پھر معروف نعت خواں قمر نے نعت پیش کی۔ بعد ازیں انجمن کی روایت کے مطابق مہمانان کو اسناد پیش کی گئیں۔ سال ٢٠١٥ء کے لیے محترم خالد سجاداور محمد کمال اظہر کو بہترین شاعر کا ایوارڈ شیلڈ اور سند سے نوزا گیا۔ اسی تقریب میں الحافظ کمپنی کی جانب سے حسنِ کارکردگی کے لیے محترم عبداللہ عباسی، سائیں نواز اور مہمان شاعر فرحت شہزاد کو یادگار شیلڈ حافظ محمد بشیر کے ہاتھوں پیش کی گئی۔

جبکہ الشائع پرنٹنگ پریس کی طرف سے جنرل مینیجر محمد رمضان بھٹّی نے عبداللہ عباسی کی مسلسل کامیاب محفلوں کے انعقاد کے لیے لوحِ سپاس پیش کیا۔ کویت کے مشہورومعروف شاعر افروزعالم کی تازہ تصنیف “کویت میں ادبی پیش رفت” کی رسمِ اجراء بھی عمل میں آئی۔ ٤٠٠ سفحات کی اس کتاب کو افروز عالم نے بڑی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے، یہ کتاب کویت میں اردو ادب کی اب تک کی تاریخی دستاویز ہے۔ اس موقع سے محترم فخرِ عالم، محمد ہوشدار خان، محمد صالح بروڈ اور محترم عرفان کریم نے اپنے مختصر خیالات کااظہار کیا اور افروز عالم کو مبارکباد پیش کی۔

اس کے بعد محفلِ شعروسخن کا آغاز ہوا۔ ہندوستان سے تشریف لائے فیض خمار کے شاندار ترنم آمیز شاعری اور سنیل کمار تنگ کے طنزومزاح سے لبریز کلام کے ساتھ ساتھ ناظمِ مشاعرہ شیراز مہدی کی خوبصورت نظامت اور گفتگو نے مشاعرہ کے ماحول کو خوبصورت ترین بنا دیا تھا ۔ صدرِ تقریب فرحت شہزاد کی شاعری نے اس مشاعرہ کو ایک یادگار شام بنادیا تھا۔ میزبان شعراء میں کمال اظہر، مسرت جبیں زیبا, فیاض وردگ، شاہجہاں جعفری، سعید نظر، اسلم عمادی، عامر قدوائی، صابر عمر, عماد بخاری، مسعود حساس، بدر سیماب، نسیم زاہد، خالد سجاد ، صدا حسین صدا، صداقت حسین ترمذی، اور راناظہیر مشتاق، شامل تھے۔ محفل کا اختتام رات دیر گئے سفیرِ پاکستان کی دلچسپ تقریر پر ہوا۔ مشاعرہ کے اختتام پر حاضرین ِ کرام کے لیے لذیذ عشائیہ کا اہتمام تھا۔