شعور

Azan

Azan

تحریر: وقارانسا
میں مضمحل سا اپنے تھکے قدموں کے ساتھ چل رہا تھا سڑک کے دونوں اطراف کچھ ٹھیلے والے اور خوانچہ فروش اپنی روزی کما رہے تھے دکانیں بھی تھیں – میں ایک جرابوں بنیان والے ٹھیلے پر ٹھہر کر جرابیں دیکھنے لگا اسی اثنا میں اذان کی آواز آئی سفید باریش بزرگ نے تیزی سے اپنے ٹھیلے کو بڑے پلاسٹک سے ڈھانپنا شروع کیا اور اس کے گرد ایک رسی گھمائی اور مجھ سے گویا ہوئے بیٹا بعد میں جو لینا ہو لینا نماز کا وقت ہو گیا میں موذن کے بلاوے کے بعد کمانے کی لالچ میں نہیں ٹھہرتا اس نے اپنی بیساکھی اٹھائی اور چل دیا میں حیرت سے اس کی بیساکھی کی ٹھک ٹھک کی آواز سن رہا تھا وہ ایک پاں سے معذور تھا – میرے دل میں جیسے چھناکے سے کچھ ٹوٹا-تذبذب کی کیفیت میں میں وہیں ایک طرف کھڑا ہو گیا – دکانیں اور بھی تھیں لیکن نجانے کیوں میں آگے نہ بڑھ سکا۔

بزرگ نے واپس آکر پھر رسی کو کھولا اور بیساکھی رکھ کر ساتھ رکھی چھوٹی سی کرسی پر بیٹھ گیا اس کے چہرے پر حیرت اور تاسف کے ملے جلے تاثرات تھے – اور اس کی سوالیہ نگاہیں میری طرف اٹھیں پریشان ہو کیا ؟ وہ اتنی دیر سے میرے اس کیفیت میں کھڑے رہنے کو دیکھتے ہوئے بولا میں نیایک سرد آہ بھری اور میری آنکھوں نے اس کی بات کا اقرار کیا جب تم اللہ کو ناراض کرو گے تو خوش کیوں کر رہو گے ؟ موذن کے بلاوے پر تم کھڑے رہ گئے!اگر تم اللہ سے بات کر آتے تو یوں پریشان نہ ہوتے یاد رکھو اللہ اپنی طرف چل کر آنے والوں کی طرف دوڑ کر آتا ہے باتیں میرے دل کو لگیں میں پاس بیٹھ گیا وہ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے پوچھ رہا ہو کہ کیا بات ہے ؟۔

Prayer

Prayer

میں بھی اللہ ہی سے مانگتا ہوں لیکن میری دعا قبول نہیں ہوتی میں افسردگی سے بولا اس کے سامنے سر جھکا اور دل بھی – دل سے رو اور گڑگڑا کر مانگو دعا کی قبولیت کے لئے جلدی نہ کرو وہ توہمارے ارادے اور دل کا معاملہ سمجھتا ہے-جب اس کے احکام بجا لاتے ہوئے خود کوتوڑ کرعاجزی اختیار کرو گے دکھاوے سے بچو گے تو پھر اس کو پا گے اور اس سے پا گے صرف دنیا کے لئے رو گے تو دنیا ملے گی آخرت کے لئے رو گے تو آخرت اچھی ہو گی اسی کی ذات کو اپنی سوچ کا محور بنا ابھی تمہارے اندر اس کی سچی محبت نہیں آئی اللہ کو تمہارا رونا گڑگڑانا اور سر سجدے میں جھکانا پسند ہے وہ دے تو بھی اس کا احسان ہے نہ دے تو بھی وہ جانتا ہے کیا ھمارے لئے بہتر ہے۔

میں نماز پڑھ بھی لوں تو میرا دل جیسے خالی رہتا ہے اسے سکون نہیں ملتا- میں نے بتایا اس بات سے تو تمہیں رونا آنا چاہییکہ جب عبادت کی لذت محسوس نہ ہو اور نہ اطاعت کا لطف ہر کام میں ناکامی ہوتی ہے سمجھ نہیں آتی کیا کروں کہ کامیاب رہوں-میں نے اپنی پریشانی بتائی اگر کامیاب ہونا چاہتے ہو تو حلال روزی کما یہ مت سوچنا کہ امیر ہونا کامیابی ہے – کامیاب تو وہ ہے جس کو دل کا سکون حاصل ہے اوریہ سکون رزق حلال میں ہے اس نے میری طرف دیکھا اور پھر گویا ہوا۔

حلال روزی دو گے تو بچے فرمانبردار رہیں گے ورنہ حرام کھا کر وہ حرام کاموں میں ہی ملوث رہیں گے- دولت کے پیچھے مت بھاگو-یہ ٹھہرنے والی چیز نہیں دنیا اپنے پیچھے بھاگنے والوں کو ذلیل کر دیتی ہے یہ زوال پذیر ہے اللہ کی اطاعت میں کسی سے آگے جانے کی کوشش نہ کرو تو یہ رونے کا مقام ہے اپنی خوشیوں کی تلاش میں ایسے بد حواس نہ ہو جا کہ افراتفری میں دوسروں کی خوشیاں پاں تلے کچل ڈالو یاد رکھو ھماری خوشیاں دوسروں کی خوشیوں سے وابستہ ہیں-دوسروں کو خوشیاں دو گے تو تمہیں باآسانی اپنی خوشیاں مل سکیں گی۔

Allah

Allah

ایک اطمینان کی لہر میرے چہرے سے ہویدا تھی-وہ مجھے رستے پر لانے میں کامیاب ہو چکے تھے – میرے دل میں وہ اطمینان کی لہر اتر رہی تھی میرے اندر توڑ پھوڑ ہو رہی تھی۔ میری کیفیت دیکھ کر بولے اچھے لوگوں کا اللہ امتحان بہت لیتا ہے مگر ساتھ نہیں چھوڑتا اور برے لوگوں کو اللہ بہت کچھ دیتا ہے مگر ساتھ نہیں دیتا۔ جا مالک حقیقی کی طرف اپنا رستہ سیدھا کرو اپنے مزاج میں صبر ڈال لو بہت سی مشکلیں آسان ہو جائیں گی- میں نے وفور مسرت سے ان کے ھاتھ تھام لئے میرے آنسو میرے ھاتھ پر گر رہے تھے میں نے آج حقیقی شعور پالیا تھا۔

تحریر:وقارانسا