بلوچستان، خیبرپختونخوا میں طوفانی بارش، 13 افراد جاں بحق

Rain

Rain

کوئٹہ (جیوڈیسک) طوفانی بارشوں نے بلوچستان میں تباہی مچا دی، پشین اور شیرانی میں چھتیں گرنے سے بچوں اور خواتین سمیت تیرہ افراد جاں بحق ہو گئے ، نوشکی میں سیلابی ریلا آٹھ گھر بہا کر لے گیا، ٹانک میں چھت گرنے سے بچہ اور کروڑ لعل عیسن میں دو خواتین دم توڑ گئیں۔

آسمان سے برستا پانی قہر بن گیا، مسلسل طوفانی بارش نے بلوچستان میں زندگی مفلوج کر دی ، شیرانی کے علاقے شنا پونگا میں مکان کی چھت گرنے سے ماں تین بیٹیوں اور بیٹے سمیت جاں بحق ہو گئی، لورالائی میں پرائمری اسکول کی چھت گرنے سے چار بچیاں زخمی ہو گئیں۔

نوشکی کے علاقے سید پالیزئی میں ریلا آٹھ گھروں کو بہا لے گیا، پنچپائی میں دس فٹ سے زیادہ ریلوے ٹریک بھی پانی میں بہہ گیا، کوئٹہ، چمن، ژوب، پشین کے علاقے کلی عاجیزئی سیداں میں بھی مکان کی چھت گر گئی، ملبے تلے دب کر پانچ افراد جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے۔

سبی، نصیر آباد، قلعہ عبداللہ، خضدار، جھل مگسی اور دیگر علاقے بھی شدید بارش کی لپیٹ میں ہیں، سڑکیں بند ہونے سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہے، لوگ بھی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ادھر خیبر پختونخوا میں بھی بادل وقفے وقفے سے برس رہے ہیں، ٹانک کے گاؤں ورو میں مکان گرنے سے بچہ جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

پنجاب میں لیہ کی تحصیل کروڑ لعل عیسن میں بھی مکان کی چھت گرنے سے دو خواتین دم توڑ گئیں راولپنڈی ، اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان اور دیگر علاقوں میں بھی برستے بادلوں نےجل تھل ایک کر دیا، لاہور میں ژالہ باری بھی ہوئی، اندرون سندھ سکھر اور لاڑکانہ سمیت کئی علاقوں میں بھی بارش ہوئی۔

محکمہ موسمیات نے اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کراچی بھی رم جھم کی پیش گوئی کی ہے۔