بزم ارباب ذوق ، لکھنؤ کا آن لائن عالمی طرحی مشاعرہ

Mushaira

Mushaira

لکھنؤ (رپورٹ ڈاکٹر ہارون رشید) سوشل میڈیا وہاٹس اپ کی بڑھتی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صاحبان شعر و سخن نے اردو شعرو ادب کے فروغ کے لئے اس کا استعمال شروع کیا اور قابل قدر نتائج سامنے آنے لگے ۔ سوشل میڈیا پر سرگرم ‘بزم ارباب ذوق’نے عالمی شہرت یافتہ شاعر ندیم نیر کی سرپرستی اور نگرانی میں ‘فی البدیہہ’ عالمی طرحی مشاعرہ کا اہتمام کیا جس کے لئے واصف فاروقی کے تین مصرعوں۔
شربت دیدار پی کر تشنگی بڑھ جائے گی ”
“جو بھی کرنا ہے وہ اردو کے لئے کرنا ہے”
“زندگی میں ایسے بھی امتحان ہوتے ہیں”

پر نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرون ممالک سے بھی شعرا نے طبع آمائی کی۔ مشاعرے کی صدارت کرتے ہوئے افروز عالم (کویت ) نے کہا کہ عام طور سے سوشل میڈیا کے مشاعرے شعرا کے مزاج میں ہم آہنگی نہ ہونے کی بنا پر انتشار کے شکار ہو جاتے ہیں؛ لیکن ‘بزم ارباب ذوق’ کے مشاعرے میں صرف معیاری شاعری محبتیں اور پر خلوص جذبوں کا اظہار ہی دیکھنے میں آیا انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر وہاٹس اپ کا اردو شعر و ادب کے فروغ کے لئے بہترین استعمال پر میں ڈاکٹر ہارون رشید ، ندیم نیر اور واصف فاروقی کو خصوصی طور سے مبارکباد دیتا ہوں۔ مہمان خصوصی واصف فاروقی نے کہا کہ سوشل میڈیا وہاٹس اپ پر بزم ارباب ذوق کی تشکیل ایک خوش آئند قدم ہے۔

مختلف ممالک سے اتنے با کما ل صا حبان فکر و نظر شعرا کی شرکت نے اس محفل کو عالمی سطح کا بنا دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا آج کے دور کا موثر ذریعہ ہے اہالیان اردو کو اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ڈاکٹر عرشی بستوی نے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج اردو جس پر آشوب دور سے گذر رہی ہے اور تنگ نگاہی کا شکار ہے ایسے دور میں ڈاکٹرہارون رشید جیسے با کمال ادیب و صحافی کی سعی سے وہاٹس اپ اردو کے حق میں انتہائی فعال اور متحرک ثابت ہورہا ہے ۔اسلامیہ کالج لکھنؤمیں شعبہ تاریخ کے صدر پرویز ملک زادہ نے کہاکہ آج سوشل میڈیا سے اردو شعرو ادب کو فروغ مل رہا ہے اور نئی نسل میں ادب سے دلچسپی بڑھ رہی ہے۔مزید مسرت اس بات کی ہے کہ اردو رسم الخط کا چلن بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔منتخب اشعار نذر قارئین ہیں:

ذکر شب بھر تیرے گیسو کے لیٔے کرنا ہے
صبح تک گفتگو خشبو کے لیٔے کرنا ہے
افروز عالم (کویت)
تیرے آنے سے گلوں کی تازگی بڑھ جائے گی
میرے دل کے گلستاں کی دلکشی بڑھ جائے گی
نسیم زاہد(کویت)
میرے اپنے تجربے کی بات ہے یہ اے نظر
”شربت دیدار پی کر تشنگی بڑھ جائے گی”
سعید نظر(کویت)
فاصلے آتے رہیں تو یوں بڑھے گا اشتیاق
تیرے میرے درمیاں وارفتگی بڑھ جائے گی
مہتاب قدر(جدہ)
لکھتے لکھتے جب غزل کی سادگی بڑھ جائے گی
شعر میں تاثیر ہوگی نغمگی بڑھ جائے گی
باقی احمد پوری(لاہور)
آشنائی خود سے ہو گی بے خودی بڑھ جائے گی
موت سے جب زندگی کی دوستی بڑھ جائے گی
افتخار راغب(دوحہ قطر)

مصلحت بھی ہوتی ہے کچھ گمان ہوتے ہیں
جب سیاسی بازی گر ہم زبان ہوتے ہیں
سفیان قاضی(مدھیہ پردیش)
دھوپ اور بارش کے سائبان ہوتے ہیں
شہر میں تو ایسے بھی کچھ مکان ہوتے ہیں
ندیم نیر(کانپور)
جب بھی ہم بزرگوں کے درمیان ہوتے ہیں
اپنے سر پہ رحمت کے سائبان ہوتے ہیں
شائستہ ثنا(کانپور)
روح کی ہتھیلی پر اشک ٹوٹ جاتے ہیں
زندگی میں ایسے بھی امتحان ہوتے ہیں
(ذوق انجم)

دل کی بے قراری کے ترجمان ہوتے ہیں
کس نے کہہ دیا آنسو بے زبان ہوتے ہیں
سلیم جاوید
باغ سے پھوٹتی خوشبو کے لئے کرنا ہے
جو بھی کرنا ہے وہ اردو کے لئے کرنا ہے
ذکی انجم صدیقی(دیوبند)
تیرے دامن پہ چمکنے کی اجازت مل جائے
اہتمام اتنا ہر آنسو کے لئے کرنا ہے
عرفان لکھنوی
سج گئے ہیں یوں تیرے خواب میری آنکھوں میں
گھر کی میز پر جیسے پھول دان ہوتے ہیں
شگفتہ یاسمین غزل(کولکاتہ)
سچ کہیں تو اے یارو یہ جہاں ہے مطلب کا
لوگ اب کہاں کس پر مہربان ہوتے ہیں
زینت احسان (ممبئی)
صحن جاں میں آپ کی آمد سے ہو گا فائدہ
اس اندھیرے گھر میںتھوڑی روشنی بڑھ جائے گی
ڈاکٹر عرشی بستوی

کسب فیض کرتے ہیں بے زبان ہوتے ہیں
جب بھی ہم بزرگوں کے درمیان ہوتے ہیں
اچانک مووی(مؤ)
زیست میں گذرتے ہیں سانحات جتنے بھی
کامیابی کے اکثر پائدان ہوتے ہیں
ڈاکٹر ہارون رشید(لکھنو)
کچھ جہان میں ایسے صاحبان ہوتے ہیں
جن کے نام سے روشن خاندان ہوتے ہیں
طیب عثمانی(محمودآباد)
حوصلے گر چپ رہے تو بزدلی بڑھ جائے گی
وقت کے ان سرکشوں کی سرکشی بڑھ جائے گی
دیدار بستوی
دل پہ کیا گذرتی ہے کچھ بتا نہیں سکتے
ہم سے جب کبھی اپنے بد گمان ہوتے ہیں
اسلام فیصل(لکھنؤ)

پھول کے واسطے خوشبو کے لئے کرنا ہے
جو بھی کرنا ہے وہ اردو کے لئے کرنا ہے
عکس لکھنوی
مسکرا کر گلستاں سے وہ گذر جائیں اگر
اور بھی تابش گلوں کی تازگی بڑھ جائے گی
سلیم تابش(لکھنؤ)
میں تو سمجھا ان کے آنے سے خوشی بڑھ جائیگی
کیا خبرت تھی میری آنکھوں کی نمی بڑھ جائے گی
قمر سیتاپوری

ظلم کی طرفداری ہم کبھی نہیں کرتے
امن کے لئے لیکن یک زبان ہوتے ہیں
معید رہبر(لکھنؤ)
اپنے واسطے خود جو امتحان ہوتے ہیں
وہ زمیں پہ رہ کر بھی آسمان ہوتے ہیں
رشید قریشی(مدیر لاریب لکھنؤ)
جو خدا کے بندوں پر مہربان ہوتے ہیں
وہ نظر میں بھی اس کی بھی قدردان ہوتے ہیں
ارشد طالب لکھنؤی
الفت و عقیدت کی قدر جو نہیں کرتے
دوستی کی دنیا میں بے نشان ہوتے ہیں
طارق سخا

ان کے علاوہ مشاعرے میں ڈاکٹر صغریٰ صدف (پاکستان) سید معراج جامی (پاکستان) خالد شریف(پاکستان) ثقلین اکبر(پاکستان) پرویز مظفر(یو کے)ڈاکٹر صادقہ نواب سحر(ممبئی) رئیسہ خمار(ناسک) پونم کوثر(لدھیانہ) افروز کسائ، قاری شمشیر عالم صاحب پوری ، کوثر اعظمی، اسماء خورشید، شیخ عامر قریشی، وغیرہ شریک محفل رہے۔