برلن: ہوٹل Centrovital میں BüSo کا سالانہ اجلاس

Berlin Hotel Centrovital BüSo Annual Meeting

Berlin Hotel Centrovital BüSo Annual Meeting

جرمنی (APNAانٹرنیشنل نیوز/انجم بلوچستانی) برلن بیورو اور مرکزی آفس برلنMCBیورپ کے مطابق١٤ نومبر٢١٠٥ء بروز اتوار برلن کے ہوٹل Centrovital کے کانفرنس ہال میں Bürgerrechtsbewegung Solidarität (BüSo) ،جو ١٩٩٢ء میں وجود میں آئی تھی، کے اراکین کا باقاعدہ عام اجلاس Dr. Wolfgang Lillgeکی صدارت میں منعقد ہوا،جس میں اراکین کے علاوہ مختلف جرمن سیاسی پارٹیوںا ور سماجی تنظیمات کے عہدیداران، مہمانان اعزازی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔اجلاس کی نظامتکے فرائض mmen Elke Fi نے سر انجام دئے۔چیرمین ایشین جرمن رفاہی سوسائٹی AGRS ،پاکستان عوامی تحریک PATیورپ کے چیف کوآرڈینیٹر اورعالمی چیرمین کشمیر فورم انٹر نیشنل KFI محمد شکیل چغتائی اجلاس میں شریک ہونے والے واحد ایشین کمیونٹی رہنما تھے،جوپارٹی رہنما Stephan Ossenkopp کی دعوت پر مہمان اعزازی کے طور پرتشریف لائے۔

اجلاس کا آغازBüSoاور شلرانسٹیٹیوٹ کے مشترکہ”سنگنگ کور” سے ہوا۔شلر انسٹیٹیوٹ کیElodie Viennot نے ہم نوائوں کے ساتھ دو نغمے پیش کئے۔پھر ناظم اجلاسElke Fimmen نےBüSo کی وفاقی صدر، Schiller Institut کی خالق و سربراہ مسزHelga Zepp-LaRouch کی سماجی ،ادبی اور سیاسی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں دعوت خطاب دی۔ جنہوں نے”نئی شاہراہ ریشم کے بارے میںBRICS ممالک کی حکمت عملی”کے موضوع پراپنا تفصیلی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ”سب سے پہلے ہم سانحہ ء پیرس پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدیدمذمت کرتے ہیں۔

مختلف یورپی رہنمائوں نے یورپ و امریکہ کی مشرق بعید، افریقہ اور ایشیا کے بارے میںپالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہیں باز رکھنے کی کوشش کی،جس میں ناکامی ہوئی۔اس کے نتیجہ میں پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔یورپ اور خصوصاً جرمنی نے شام میں جنگ کی وجہ سے پناہ گزینوں کیلئے سرحدیں کھول دیں۔حالانکہ اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا گیا کہ اس سے داعش یاISISکے منصوبوں کو تقویت پہنچے گی اور” خلافت” کا خواب دیکھنے والوں کا فائدہ ہو گا۔

آپ نے یہ خبریں سنی ہونگی کہ” نیویارک کے ٹریڈ ٹاورزکی ١١ ستمبر کی تباہی کے تانے بانے سعودی عرب سے ملتے ہیں،جو آج بھی دہشت گردوں کی تربیت اور سر پرستی کر رہا ہے۔”ان حالات میںہماری پارٹی کا موقف بڑا واضح ہے۔میرے شوہرLaRouchامریکہ میں ان پالیسیوں کے خلاف سر گرم عمل ہیں اور ہم یورپ میںاسکی مخالفت کرتے رہیں گے۔ ہم اپنی پارٹی کی جانب سےBRICS ممالکبرازیل،روس،چین ،انڈیا و جنوبی افریقہ کے شاہراہ ریشم کے بارے میں مشترکہ اقتصادی منصوبہ اوران ممالک کی اپنے علاوہ دیگر ممالک میں بھی غربت،پسماندگی و جہالت کے خلاف نئی معاشی حکمت عملی کوبروئے کار لانے کی پر زور حمایت کرتے ہیں۔ہم جرمنی کی تمام مقتدر پارٹیوں کوقائل کرنے کی کوشش کریں گے،جس میں ہمیں جزوی کامیابی حاصل ہو ئی ہے اور ہماری جدوجہد جاری ہے۔”

اسکے بعد سوال و جواب کی ایک طویل نشست ہوئی،جس میںزیادہ تر سوال جرمنی کی اندرونی سیاست،معاشی مشکلات اور پناہ گزینوں کے بارے میں تھے۔جن پر مسز لارو ش نےBüSo کی پالیسیوںکاحوالہ دیتے ہوئے مدلل جواب دئیے اورسامین کو مشوروں سے نوازا۔ اس موقعہ پرایشین کمیونٹی رہنما شکیل چغتائی نے مسز لاروش کے مقالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے سعودی عرب کے خلاف چارج شیٹ قرار دیا اور ا ن سے سوا ل کیا کہ وہ”اس ضمن میں اسرائیل کا تذکرہ کرنا کیوں بھول گئیں،جسکا نام ١١ ستمبر کے حوالے سے اخبارکی زینت بنتا رہا؟ انہیں فلسطینیوں پر اسرائیل ا ور کشمیریوں پرانڈیا کے بہیمانہ مظالم کیوں نظر نہیں آتےِ؟انکی پارٹی اس بارے میں کیا کہتی ہے؟صرف امریکہ اور برطانیہ کی مخالفت کافی نہیں،انہیںاسرائیل اور انڈیا کی غیر جمہوری،غیر اخلاقی اور غیر انسانی پالیسیوںکو بھی غلط قراردینا ہوگا۔

میں شخصی بادشاہت کے حق میں نہیں اور مجھے امید ہے کہ تمام اسلامی ممالک میںمشاورتی جمہوری نظام نافذ ہو گا،تاہم ہمیں١١ستمبر کو بنیاد بنا کرصرف سعودی عرب کو مطعون کرنا مناسب نہیں۔” انہوںنے کہا کہ” میںاس نظریہ سے متفق نہیں کہ مستقبل میںروس اور امریکہ کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگردنیا نے مسلئہ کشمیر کے حل میں دلچسپی نہ لی تواس خطہ کی دو ایٹمی قوتوں یعنی پاکستان اور انڈیا میں ایٹمی جنگ کے خطرات زیادہ ہیں۔لہٰذا آپ کو انڈیا کی حمایت سے قبل اس بارے میں بھی غور کرنا چاہئے۔انڈیا میں ہونے والے تازہ واقعات، گائے کا گوشت کھانے کے شبہ میںمسلمانوں کا قتل اور کشمیری مسلمانوں پر مظالم نے انڈیا کی نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم کا پردہ چاک کر دیا ہے۔آپ ان غیر جمہوری اور انسانیت سوز رویوں کی حمایت کس طرح کر سکیں گے؟”۔

مسز لاروش نے اسرائیل کے فلسطینیوں پر کئے جانے والے ظلم و ستم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ”ہم ایسے تمام اقدامات کی مذمت کرتے ہیں اور فلسطینیوں کے حقوق تسلیم کرتے ہوئے ان کی حمایت کرتے ہیں۔” تاہم انہوں نے انڈیا کے بارے میں کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا اورنہ ہی انڈیا میں ہونے والے و اقعات پر کوئی تبصرہ کیا۔انہوں نے انڈیا اور پاکستان کے اختلافات کو برٹش انڈیا کے زمانہ میں سلطنت برطانیہ کی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ” برطانیہ نے آزادی کے بعد جان بو جھ کر کشمیر کو ان نئے ممالک کے درمیان ایک تنازع بنا کر چھوڑ دیا،تاکہ یہ دونوں ممالک اپنی توانائیاں جھگڑوں میں صرف کرتے رہیں۔یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں نریندر مودی کی شکل میں ایک ایسا ہندو لیڈر ملا ہے۔

جو پہلی مرتبہ،تمام اختلافات بھلا کر،چین کے ساتھ چلنے کو تیار ہے۔شاہراہ ریشم پرBRICS ممالک کی مشترکہ حکمت عملی میں انڈیا کا کردار قابل قدر ہے۔یہ صحیح ہے کہ پاکستان کے ساتھ انڈیا کے تعلقات کبھی ٹھیک نہیں رہے، مگر میںاس بات کی قائل ہوں کہ شام کے موجودہ حالات کے تناظر میںروس اور امریکہ کے مابین ایٹمی جنگ کے خطرات کہیں زیادہ ہیں۔”اس نشست کے آخر میں سنگنگ کور کی جانب سے مزید دو نغمے پیش کئے گئے،جنکی مرکزی گلوکارہ حسب سابق ایلوڈی وینوٹ تھیں،جنہوں نے چرچ کی مخصوص گلوکاری اورآواز کے زیر و بم کا شاندار مظاہرہ کیا۔