برلن میں منہاج القرآن انٹرنیشنل کی جانب سے یوم عاشور پر محفل شہدائے کربلا کا اہتمام

Berlin MQI Ashura Mefil Karbala Shuhda

Berlin MQI Ashura Mefil Karbala Shuhda

جرمنی (APNAانٹرنیشنل/بیورو چیف) برلن بیورو ومرکزی آفس برلنMCBیورپ کے مطابق منہاج القرآن انٹرنیشنل برلن کی جانب سے٢٣ اکتوبر ٢٠١٥ء کو یوم عاشور پر محفل شہدائے کربلا کا اہتمام کیا گیا،جس میں سوگواران حسین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ نماز جمعہ سے قبل جامع مسجد منہاج القرآن کے امام و خطیب علامہ حافظ قاری طارق علی نے مرکزی خطاب کیا۔انہوں نے سیدالشہدائ،امام المومنین، حضرت حسین کے فلسفہء شہادت پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی راہ حق میں استقامت، باطل کے مقابلے میں سچ کی حمایت ،دین کی حفاظت، میدان کربلا میں انکی شجاعت اوریزید کی فوج کے ہاتھوں شہادت کا ذکر کیا۔

انہوں نے پیغام حسین کو پھیلانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ” دین حق پرڈٹ جانے اور باطلانہ قوتوں سے ٹکرا جانے کا جو پیغام حضرت امام حسین نے دنیا کے سامنے پیش کیا، وہ فقیدالمثال ہے۔دنیائے اسلام میںعزت و آبرو سے جینے کے لئے ہمیں اس پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔یہ پیغام رہتی دنیا تک دنیا کے مجبور و مقہور،مسکین و مظلوم لوگوں اور پسے ہوئے طبقات کے لئے مشعل راہ ہے۔ آج ہمیں اس کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔”

نماز جمعہ کے بعدشہدائے کربلا کیلئے قرآن خوانی کی گئی۔پھر جواداحمدنے امام الشہداء حضرت حسین اور محمد اشرف نے امام الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضورمنقبت ونعت کا نذر انہ پیش کیا۔اسکے بعدتحریک منہاج القرآن کے میڈیا کوآرڈینیٹر برائے یورپ اور پاکستان عوامی تحریک یورپ کے چیف کوآرڈینیٹرمحمد شکیل چغتائی نے مختصر خطاب کے بعدسید الشہداء و شہدائے کربلا کی شان میں منقبت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ” میں یوم عاشور پر امت مسلمہ اور خصوصاً پاکستانی مسلمانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ امام عالی مقام کے جذبہ ء ایثاروقربانی اورعملی جدجہد کی پیروی کرتے ہوئے باطل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں اور اپنی اپنی جماعتوں اورپارٹیوں میں رہتے ہوئے اس دور کے یزیدوں کا مقابلہ کریں۔یہی حسینیت کی پہچان اورشہدائے کربلا کا روز قیامت تک قائم رہنے والافلسفہء حق و انصاف ہے۔”

پھرصدر مجلس شوریٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل برلن،سابق صدرپاکستان عوامی تحریک برلن،خضر حیات تارڑ نے شہادت حسین پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ”امام حسین کا مکہ و مدینہ چھوڑ کر کوفہ کا سفر،دیائے فرات پر قیام اور کربلا میں جام شہادت نوش کرنا اسلامی تاریخ کا انمٹ باب ہے۔جس میں ہمارے لئے بہت بڑا سبق ہے۔اسلام کو زندہ کرنے کے لئے شہدائے کربلا کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔پاکستان میں کرپشن اور دہشت گردی کے خلاف جو جنگ جاری ہے، پاکستان عوامی تحریک اسکی حامی ہے اور ملک میں اسلامی انقلاب کے لئے کوشاں ہے،جس کے لئے حضرت حسین اور انکے رفقاء کی عظیم الشا ن و لازال شہادت سب سے بڑی مثال ہے۔”

اسکے بعد اشتیاق چوہدری نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیش کی۔آخر میںعلامہ طارق علی نے تحریک منہاج القرآن کی دین اسلام کے لئے کی گئی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے انقلابی جدوجہد پر قائم رہنے کا عندیہ دیا۔اس کے بعدانہوں نے شہدائے کربلا کے لئے فاتحہ خوانی کی اور دنیائے اسلام کی سربلندی کے لئے دعا فرمائی۔محفل کا اختتام لنگر حسینی پر ہوا ،جس کے بعد یہ محفل برخواست ہوگئی۔