عبث ہے شکوہ تقدیر یزداں

Pakistan

Pakistan

تحریر: خضر حیات تارڑ، برلن، جرمنی
جرمنی مطابق صدر مجلس شوریٰ MQI اور سابقہ صدر PAT برلن خضر حیات تارڑ نے پاکستان کے موجودہ حالات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، جو اپنا انٹرنیشنل کی وساطت سے پیش خدمت ہیں: بانی پاکستان محمد علی جناح کی رحلت کے بعد قوم کی بدقسمتی کہ اُسے اب تک بہت کم ایسے لیڈر میسر آئے ہیں جنہوں نے کوشش کی ہو کہ قوم کے پسماندہ اور مظلوم غریب عوام کو ذلت آمیز زندگی سے نجات دلا کر خوشحال اور باوقار بنایا جائے۔

وہ ایسا کرتے بھی کیوں؟انہیں تو قوم کے بجائے ذاتی مفاد ات عزیز تھے۔وطن عزیز میں کئی دہائیوں سے دھن،دھونس ودھاندلی سے کرسی اقتدار پر قابض حکمرانوں کی مصلحت آمیز سیاست نے ملک کو جس حال میں پہنچا دیا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔سیاست کو دھوکا اور فراڈ کا کھیل بنا دیا گیا ہے۔

نام نہاد لیڈران نے جمہوریت کے نام پر عوام کو دھوکا دیتے ہوئے ،سودے بازی،خریدو فروخت اور مک مکا سے قومی وسائل کو ذاتی جاگیر سمجھتے ہوئے بیدردی سے لوٹا ہے اور لوٹ رہے ہیں، جبکہ عوام پاکستان زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو ترس رہے ہیں، بچے بیچنا اور خود کشیاں ان کا مقدر بنا ہوا ہے۔

Tahir ul Qadri

Tahir ul Qadri

موجودہ کرپٹ، استحصالی،سیاسی و انتخابی نظام کی وجہ سے عوام دشمن حکمران اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں جو حقیقی جمہوریت کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔یہ اسٹیس کو قوتیں اس استحصالی نظام کی محافظ ہیں”کیونکہ ان کی بقا اسی نظام میں ہے۔

یہ نظام چند ہزار لوگوں کا تو ہو سکتا ہے مگر ١٩کروڑ عوام کا ہر گز نہیں۔عوام بنیادی ضرورتوںتک سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ہر روز مرتے اور جیتے ہیں۔یہ ایک ہی دفعہ باہر نکل کر غاصبوں سے اپنے حقوق چھین کیوں نہیں لیتے؟اس نظام سے چھٹکارہ کیوں نہیں پا لیتے؟پس اس شعور کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔

لہٰذا اس استحصالی اور فرسودہ سیاسی و انتخابی نظام کی تبدیلی،حقیقی جمہوریت،عوام کے حقوق کی بحالی و بازیابی،آئین کی بالا دستی اور اقتدار میں عوام پاکستان کی حقیقی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے ڈاکٹر محمد طاہر القادری جیسی با صلاحیت،باکردارشخصیت کی قیادت میں قوم کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

ہمیں قیام پاکستان کے مقاصد اور آزادی کے حقیقی معنی و مفہوم سے بھی آشنا ہونا ہو گا،تاکہ قومی تعمیر کے جذبوں سے سرشار ہو کر اجتماعی کاوشوں کے ذریعے غفلت کے پردوں کو چاک کریں اور اپنی تقدیر کو بدلیں اس لئے کہ

عبث ہے شکوہ تقدیر یزداں تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے

K. H. Tarar

K. H. Tarar

تحریر: خضر حیات تارڑ، برلن، جرمنی