بہتر مستقبل کی تلاش، ہزاروں میسح تھائی لینڈ اور ملائشیاء منتقل

Christian Immigrant

Christian Immigrant

بنکاک /کوالالمپور (ڈاکٹر عامر حسین) پاکستان سے مسیح برادی کے ہزاروں لوگ بہتر مستقبل کے لیئے تھائی لینڈ اور ملائشیا جاکر اقوام متحدہ میں سیاسی پناہ کے لیئے درخواستیں دے چکے ہیں۔ جن میں مسیح برادری کو پاکستان میں محفوظ نہ ہونے کی کہانی لکھی جاتی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ پاکستان سے اس وقت ہزاروں مسیح برادی کے لوگ بہتر مستقبل کی خاطر امریکہ، کنیڈا، یورپ، آسٹریلیاء اور نیوزی لینڈ جانے کے خواب سجائے پاکستان سے ملائشیاء اور تھائی لینڈ ہجرت کر چکے ہیں،جنہوں نے بینکاک اور کوالالمپور کے اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کو یہ وجہ بتائی ہے کہ مسیح برادی کو پاکستان میں تحفظ فراہم نہیں جس کی وجہ سے وہ ملک چھوڑ کرسیاسی پناہ کے لیئے اِن ممالک کو آئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی توسط سے کسی ترقیافتہ ملک جانے کے منتظر ہیں۔ اِن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے مذہب کو تبدیلی کا بہانہ بنا کر اقوام متحدہ کو کہا کہ مذہب کی تبدیلی کی وجہ سے وہ ملک میں محفوظ نہیں، پاکستانیوں کے اِس اقدام سے دُنیا بھر میں پاکستان کو ایک اوربڑی بدنامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس پر اب تک پاکستانی حکومت نے کوئی ایکشن لیا اور نہ ہی کوئی بیان جاری کیا۔

اس سلسلے میں جب ملائشیاء میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر سید حسن رضا سے اُن کا مئوقف لیا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ قواعد وضوابط کے مطابق پاکستان کے خلاف کہانی بیان کرکے سیاسی پناہ لینے کی وجہ سے پاکستانی شہری کی نیشنلٹی بلاک کی جا سکتی ہے ، اُنہو ں نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین سے اُن پاکستانیوں کی تعداد و ڈیٹا پوچھا گیا تو اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین پاکستانیوں کے بارے میں ڈیٹا دینے سے اِنکاری ہے۔

جس کی وجہ سے ہمیں یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ کون سے لوگ پاکستانی پاسپورٹ استعمال کر رہا ہے اورکون اقوام متحدہ کا مہاجر کارڈ ایک ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔ ۔ ایک سروے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملی بھگت کے ذریعے ایسے کئی افراد کو سفارت خانوں کی جانب سے اب بھی پاسپورٹ جاری ہو رہے ہیں۔ مذید انکشاف کی توقع ہے۔

مذید معلومات کے لیئے ڈائل کریں : 00601126643602