برمنگھم کی سیاسی ڈائری

Birmingham Political Candidates

Birmingham Political Candidates

تحریر : ایس ایم عرفان طاہر
٧ مئی کی تا ریخ ایک یا د گار یا دیں چھوڑتی ہوئی ماضی کے دریچوں میں چھپ گئی لیکن اس کے اثرات لمبے عرصے تک تروتازہ رہیں گے جنرل اور لوکل انتخابات کے حوالہ سے سیاسی حلقوں میں گہما گہمی رہی امیدواران شب و رو ز اپنی فتح یا بی کے لیے کوشش کرتے ہو ئے دکھائی دیے لیکن بعض کو تو شاید بیٹھے بیٹھا ئے ہی اپنی گذشتہ خدمات کا ثمر باآسانی حاصل ہو گیا اجتماعی اور قومی سطح پر مقابلہ دو روائیتی حریفوں لیبر اور کنزرویٹو جماعتوں میں ہی رہا البتہ سکاٹش نیشنل پارٹی نے بھی غیر معمولی نتائج دیے۔

عظیم برطانیہ کے دارلخلافہ لندن کے بعد دوسرے بڑے شہر برمنگھم جسے ایشین یعنی پاکستانی ، انڈین ، بنگلہ دیشی ، کشمیری اور دیگر کمیونٹیز کا گڑھ بھی سمجھا جاتا ہے میں مجمو عی سطح پر قومی اور لوکل سیٹو ں پر لیبر پارٹی کا ہی غلبہ اور رحجان دکھائی دیا یہا ں کی کل 10 قومی سیٹوں میں سے 9 سیٹیں لیبر کا مقدر ٹھہریں ان 9 خو ش نصیبوں میں شامل ہیں گیسیلاسٹا ئورٹ ، جیک ڈرومی ، روگر گاڈسف ، لئیم بیرن ،خالد محمود ، شبانہ محمود ، رچرڈ برڈن ، سٹیو میکب ، جیس فلپس جبکہ محض ایک سیٹ پر کنزرویٹو ایم پی نے اپنی پو زیشن بحال رکھی جبکہ دو مسلم ایم پی خالد محمود اور شبانہ محمود نے اکثریت سے کامیابی حاصل کی ان دونوں امیدواران کا تعلق وادی کشمیر جنت نظیر ہ سے ہے جو فخر ہیں کشمیری عوام کااور ترجمان ہیں انکے جذبات و احساسات اور نظریات کے، دنیا کے بڑے جمہوری ملک برطانیہ کے پارلیمنٹ کے اندر،ایم پی خالد محمود نے 2001 کو لیبر رہنما جیف روکر کی جگہ انتخابات میں با قاعدہ حصہ لیا

حالیہ انتخابات میں چو تھی مرتبہ بطور ایم پی منتخب ہو ئے ہیں جبکہ شبانہ محمود نے 2010 کو پہلی مرتبہ انٹرنیشنل سیکرٹری فار ڈویلپمنٹ کا عہدہ چھوڑنے کے بعد عام انتخابات میں حصہ لیا اور حالیہ انتخابات میں دوسری مرتبہ بطور ایم پی منتخب ہوئی ہیں ۔ مڈلینڈز میں لیبر پارٹی کی مقبولیت اور اس کے وابستگان کی کثیر تعداد موجود ہے جنہوں نے اس کی کامیابی اور قومی سطح پر اسے تقویت پہنچا نے کے لیے بھرپور اور عملی جد وجہد بھی کی لیکن شاید پارٹی میں قیادت کے فقدا ن کے حوالہ سے پیدا ہو نے والا خلاء پو را نہیں کیا جا سکا مضبوط اور مربوط پالیسیز کے باوجود بھی قومی سطح پر مایوس کن صورتحال لمحہ فکریہ ہے ! برمنگھم مقامی سطح پر اگر بات کی جا ئے تو طویل عرصہ سے لیبر کا راج دکھائی دیتا ہے اور سب سے بڑی خو ش قسمتی کی بات تو یہ ہے کہ مقامی سطح پر سب سے بڑا عہد ہ لا رڈ مئیر آف برمنگھم تاحال لیبر کے پاس ہے

Labour Party

Labour Party

اس کے علاوہ لیڈر آف کونسل سرایلبرٹ بور اور ڈپٹی لیڈر آف کونسل این وارڈ کا تعلق بھی لیبر پارٹی سے ہی ہے۔ کونسل کی 120 نشستوں میں سے موجودہ وقت میں 79 لیبر کے پاس ہیں جبکہ 30 کنزرویٹو اور صرف 11 نشستیں لبرل ڈیموکریٹ کے پاس ہیں لیکن آمدہ لا رڈ مئیر آف برمنگھم کونسلر رائے ہیسل کا تعلق بھی لبرل ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے حالیہ ٧ مئی کو ہو نے والے مقامی سطح کے انتخابات میں 40 نشستوں پر مختلف پارٹیو ں کے امیدواروں نے حصہ لیا ان میں سے کچھ تو محض فرسٹ ٹائم الیکشن میں حصہ لینے والے تھے جبکہ بعض نے اپنی پرانی پو زیشن بحال رکھنے کے لیے تگ ود و کی ان میں نمایا ں طور پر موجودہ لارڈ مئیر آف برمنگھم کونسلر شفیق شاہ نے اپنی کونسل نشست کو دوبارہ بحال رکھا اور اکثریتی کامیابی سے ہمکنار ہو ئے انکے علا وہ کونسلر عنصر علی خان جو کسی تعارف کے محتاج نہیں

انہوں نے ویسٹ مڈلینڈز کونسل لیول پر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے ایک بے مثال ریکارڈ قائم کیا 9200 ووٹ لیکر اپنے مد مقابل سے 7805 ووٹ کی اکثریت حاصل کی ، کونسلر وسیم ظفر ، کونسلر حبیب الرحمن ، کونسلر نواز علی جن کا تعلق بنگلہ دیشی کمیونٹی سے ہے کے علاوہ کونسلر ماجد محمود ، کونسلر محمد افضل اور کونسلر بشارت داد پہلی مرتبہ کونسل ممبر کی حیثیت سے اپنے عہد ے کا حلف اٹھا ئیں گے ۔ اگر ایسٹ و یسٹ مڈلینڈز کا بغور جا ئزہ لیا جا ئے تو یہا ں پر اکثریتی تعداد لیبر پارٹی کی چا ہنے والی ہے کیونکہ یہ برطانیہ کا دل اور متوسط طبقہ والا علاقہ سمجھا جاتا ہے جہاں پر ہر طبقہ فکر کے لوگ آباد ہیں اسی لیے یہا ں پر اکثریتی بسنے والے لیبر پارٹی کو متوسط اور درمیانے طبقہ کی آواز اور جما عت سمجھتے ہو ئے زیادہ ترجیح دیتے ہیں تمام امیدواران نے ماضی کی غلیطیوں کو اجا گر کرتے ہو ئے اور ایک دوسرے پر تنقید اور اصلاح کے حوالہ سے اپنی اپنی الیکشن کمپین چلائی لیکن کامیابی اسی کو ملی جس کا مقدر تھی

مقامی کونسل کے الیکشن کے حوالہ سے لیبر نے 29 کنزرویٹو نے 10 جبکہ لبرل ڈیموکریٹ نے صرف 2 سیٹیں حاصل کی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقبل قریب میں رونما ہو نے والے نتا ئج اور آئوٹ پٹ کے بر عکس جو بلند و بانک دعوے اور وعدے کیے گئے انکے اثرات عوام الناس پر کیا مرتب ہو نگے کیا اکثریتی قوت حاصل کرنے والی پارٹی حکومت بنا کر عوام کو ڈلیور کر پا ئے گی یا جن افراد نے اپنے اپنے حلقوں میں مختلف سطح پر درپیش مسائل کو منظر عام پر لا نے کے بعد اسے اپنے ایجنڈے اور ترجیحات میں شامل کرنے کا با قا عدہ اعلان کیا کیا وہ عوامی توقعات پر پو را اتر پائیں گے یا پھر سیاسی بیانات عام انتخابات کے سیزن تک فضاء میں گم ہو جائیں گے ۔ عظیم برطانیہ میں رہنے والا ہر شہری بہتر سے بہتر کی تلا ش میں امید اور خواہشات کا دامن تھا مے اپنے حکمرانوں اور سیا ستدانوں کی طرف متوجہ ہے۔

SM IrfanTahir

SM IrfanTahir

تحریر : ایس ایم عرفان طاہر