ابا جی کی پہلی برسی پر!

Rao Khalil

Rao Khalil

فرانس (راؤ خلیل احمد) سیانے کہتے ہیں کہ ماں مر جائے تو بچے اس دن بگڑ جاتے ہیں اور اگر باپ مر جائے تو ماں بچوں کو ایک سال تک بگڑنے نہیں دیتی ۔ 1969 میں ماں کی وفات کے بعد زندگی کے 46 سال دوستوں کی ماؤں میں اپنی ماں کو ڈھونڈتے ہوئے بن بگڑے گزرے مگر یہ سال اباجی کے بغیر بہت کڑا گزرا۔ تپتے سحراہ میں بن سائے کے پایا۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو پیرس میں چھوڑ کر پاکستان جانا مشکل مرحلہ ہوتا ہے ۔ مگر ابا جی کو ملنے کی خوشی سب سے زبردست ہوتی تھی ۔
مگر اب زندگی کی حقیقت ہی بدل گئی ، پیرس سے پاکستان جانے کی خوشی ہی ختم ہو گئی۔

وہ منتظر ہی نہیں !
وہ دعا دینے والا ہی نہیں !
وہ چاہنے والا ہی نہیں!
وہ رخصت کرنے والا بھی نہیں رہا

جو بیٹے کی جدائی کے غم کو بیٹے کی زمہ داریوں پر قربان کر دیتا تھا۔ ابا جی سے جدائی کے ان لمحات کا درد آج بھی سونے نہیں دیتا۔مگر یہ حقیقت ہے جس کا سب نے سامنا کرنا ہے ۔میری یہ دعا ہے جو دوست اس حقیقت کا سامنا کر چکے ہیں اللہ ان کے والدین کے درجات بلند فرمائے۔ اور آج کے دن کی مناسبت سے سب دوستوں سے درخواست ہے کہ اللہ کے کلام کا کچھ پڑھ کر اپنے والدین کے ساتھ ساتھ میرے والد کو بھی بخش دیں ۔ شکریہ۔