برطانیہ کے یورپین یونین سے نکلنے کے فیصلے سے آئرلینڈ میں موجودہ ویزہ درخواستیں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، عمران خورشید

Wasim Butt

Wasim Butt

آئرلینڈ ڈبلن (فرخ وسیم بٹ) 23 جون 2016 کو برطانیہ میں ہونے والے ریفرنڈم میں عوام کی اکثریت نے یورپین یونین سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے اس فیصلے کے بعد برطانوی حکومت یورپین یونین کو لذبن ٹریٹی کے آرٹیکل 50 کے تحت اپنی علیحدگی کی درخواست دے گی۔

اس سارے پراسس میں دو سال یا اس سے زیادہ تک کا عرصہ لگ سکتا ہے اس عرصے کے دوران کوئی بھی یورپین ملک کسی بھی یورپین شہری پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگا سکتا اور یورپین اور برطانوی شہری دوسرے یورپین ممالک میں آ جا ستے ہیں اور وہاں کام بھی کر سکتے ہیں۔

اسی طرح آئرلینڈ میں بسنے والے ہزاروں برطانوی شہری جو اپنی فیملی کی ویزہ درخواستوں کا انتظار کر رہے ہیں ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ اگر کوئی نئی درخواست بھی کرنا چاہتا ہے تو اس پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے اور آئرش حکومت اس درخواست کو لینے کی پابند ہو گی۔

جب تک کہ برطانیہ ایک معاہدے کے ذریعے یورپین یونین سے علیحدہ نہیں ہو جاتا جس میں دو سال یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے اس لیے میرا خیال میں اگر کوئی ابھی بھی Free Movament Rights استعمال کرنا چاہتا ہے تو کر سکتا ہے اور اسے اپنی فیملی کی ویزہ درخواست جلد سے جلد جمع کروا دینی چاہیے۔