برسلز: فاروق عبداللہ نے کشمیرکی تقسیم کی تجویز دے کر کشمیریوں کے جذبات مجروح کئے ہیں، علی رضا سید

Kashmir

Kashmir

برسلز: کشمیر کونسل ای یوکے چیئرمین علی رضا سیدنے مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کے کشمیرکی تقسیم کے بارے بیان کومسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ ایک احمقانہ اور ناقابل عمل تجویزہے اور فاروق عبداللہ نے یہ بیان دے کرکشمیریوں کے ساتھ مذاق کیاہے۔برسلز سے جاری ہونے والی کشمیرکونسل ای یو کی پریس ریلیز میں کہاگیاہے کہ کونسل کے چیئرمین علی رضا سید نے کہاہے کہ فاروق عبداللہ کوچاہیے کہ اس طرح کے بیانات دے کر کشمیریوں کے احساسات کے ساتھ نہ کھیلیں۔

واضح رہے کہ فاروق عبداللہ نے جمعہ کے روز جموں میں اخباری رپورٹروں سے باتیں کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ جموں و کشمیر(مقبوضہ کشمیر) بھارت کا حصہ ہے اور بھارت کا حصہ رہے گا اور پاکستان کے زیراہتمام کشمیر (آزادکشمیر) پاکستان کا حصہ ہے اور پاکستان کا حصہ رہے گا۔بھارت نوازکشمیری رہنماء نے یہ بھی تجویز دی کہ ان دونوں کشمیری خطوں کو انہی ملکوں کے آئینی نظام میں ضم کیاجائے۔

علی رضا سید نے فاروق عبداللہ کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہاکہ کشمیرایک عالمی تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اور فاروق عبداللہ کا دعویٰ ہرگز قابل قبول نہیں۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کشمیری ایک قوم ہے اور کشمیریوں کے لیے کشمیرکی تقسیم قابل قبول نہیں۔
چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے کہاکہ فاروق عبداللہ کشمیرکے متعلق ان تاریخی حقائق کو نظر انداز کررہے ہیں جن کے مطابق کشمیرکبھی بھی بھارت کاحصہ نہیں۔ان کا بیان حقائق کے منافی ہے اور حقیقت سے روگردانی کی ہے ۔

اصل بات یہ ہے کہ کشمیرایک متنازعہ علاقہ ہے اور ہر گزبھارت کا حصہ نہیں۔ فاروق عبداللہ نے اس طرح کا بیان دے کر تاریخی حقائق چھپانے کی کوشش کی ہے۔ علی رضاسید نے یاددلایاکہ 1948 ؁ء میں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گئے تھے اور کشمیریوں سے انھوں نے وعدہ کیاتھا کہ انھیں ان کا حق خودارادیت دیاجائے گا۔ لیکن ساٹھ سال سے زاہد عرصہ گزر جانے کے باوجود کشمیراپنے اس حق سے محروم ہیں اور بھارت کی طرف ڈھائے جانے والے سنگین مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ بھارت نے کشمیریوں کو ان کا حق دینے کے بجائے ان کی سرزمین پر قبضہ برقرار رکھا ہواہے اور مسئلہ کشمیرکے منصفانہ حل میں روکاٹ بناہواہے۔

کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے کہاکہ عالمی برادری کو مسئلہ کشمیرکی حقیقت کو سمجھناچاہیے کیونکہ اس مسئلے کے حل کے بغیر خطے میں امن نہیں ہوسکتا۔ انھوں نے کہاکہ کشمیری مصمم ہیں کہ حق خودارادیت کے حصول تک انکی پرامن جدوجہدجاری رہے گی۔بھارت ظالمانہ ہتھکنڈے اختیارکرکے تحریک آزادی کشمیر کو دبانہیں سکتا۔ ایک لمبے عرصے سے کشمیرپر بھارتی ریاستی دہشت گردی جاری ہے۔

علی رضاسید نے عالمی برادری سے مطالبہ کیاہے کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل میں اپنا کردار اداکرے تاکہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اس مسئلے کا حل تلاش کیاجاسکے۔انھوں نے کہاکہ بھارت کا رویہ مسئلہ کشمیرکے حوالے سے انتہائی غیرسنجیدہ ہے اور عالمی برادری خصوصاً امریکہ اور یورپی یونین کو اس مسئلے حل کے لیے اپنااثرورسوخ اورکردار اداکرناہوگاکیونکہ جنوبی ایشیاء میں امن کے لیے مسئلہ کشمیرکاپرامن حل اشد ضروری ہے۔