برسلز: عالمی برادری کشمیریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہے، علی رضا سید

Kashmir Council

Kashmir Council

برسلز: چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضاسید نے کہاہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ برسلز میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ کشمیر کونسل ای یو دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی طرف دلوانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ اجلاس انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقد ہوا جس میں کونسل کے اراکین نے شرکت کی۔ شرکاء نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی گھمبیر صور تحال پر تشویش ظاہر کی اور بھارت کے بڑھتے ہوئے مظالم کی پرزو ر مذمت کی۔

یادرہے کہ ہرسال دس دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منایاجاتاہے جس کی منظوری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1948 میں یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کے تحت دی تھی۔علی رضاسید نے عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خراب صورتحال پر احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کشمیرمیں انسانی حقوق کو بری طرح پامال کررہاہے تاکہ کشمیریوں کی آزادی کی پرامن تحریک کو دبایاجاسکے۔

انھوں نے کہاکہ بھارت گذشتہ سات دہائیوں سے مجرمانہ طورپر کشمیریوں کی نسل کشی میں ملوث ہے لیکن عالمی برادری غیراخلاقی طورپر ان المناک مظالم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔علی رضاسید نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کے گھمبیر صورتحال کے بارے میں ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیاجس میں کہاہے کہ بھارت کی فورسز مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی ہزاروں خلاف ورزیوں میں ملوث ہے جن میں ماورائے عدالت قتل عام، تشدد، جبری گمشدگی اور جنسی تشددبھی شامل ہے۔

کشمیری طلباء کو بھی نشانہ بنایاجارہاہے اور جبری گمشدگی اب بھی جاری ہے جیساکہ گذشتہ ماہ انسانی حقوق کی ایک تنظیم ’’وائس آف ویکٹمز‘‘ نے بڈگام کے علاقے میں بارہ مزیدبے نام قبروں کاانکشاف کیاہے۔ چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے مزید کہاکہ یہ بھی ایک قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے کہ کئی سالوں سے بھارت مقبول بٹ شہید اور افضل گرو شہید کے اجساد کو ان کے لواحقین کے حوالے نہیں کررہا۔یہ لوگوں کو دبانے کاایک ظالمانہ حربہ ہے اور انسان کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کتنابھیانک ظلم ہے کہ یہ دونوں شہیدمرنے کے بعد بھی بھارت کے قیدی ہیں۔

واضح رہے کہ ’’سٹریکچرزآف وائلنس :جموں و کشمیرمیں انڈین سٹیٹ ‘‘ کے عنوان سے انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں تشدد کی کھلی اجازت دے رکھی ہے۔ آٹھ سو صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہاگیاہے کہ انٹرنیشنل ٹریبونل اور ایسوسی ایشن آف پرینٹس آف ڈساپیریڈپرسنز نے اس رپورٹ میں نوے کی دہائی سے ایک ہزار سے زائد ماورائے عدالت اور172جبری گمشدگی اور جنسی ہراست کے کیسوں کی نشاندہی کی ہے۔

اس رپورٹ کو تیار کرنے میں دو سال لگے ہیں اور اس میں کہاگیاہے کہ انسانی حقوق کی پامالی کے تین سو تینتیس کیسوں کی تحقیق کی گئی ہے اور 972 افراد کو ذمہ دار قرار دیاگیاہے۔علی رضاسید نے کہاکہ اگرچہ اعلیٰ سطحی بھارتی افسران بھی انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں لیکن ان تمام مجرموں کو بھارت نے کسی بھی مقدمے سے مبرا قراردیاہواہے۔کشمیرکے لوگ امن چاہتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ انہیں انصاف بھی چاہیے۔کیونکہ انصاف کے بغیر امن کبھی بھی قائم نہیں ہوسکتا۔چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل ، یورپی اداروں اور دیگر عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیاکہ وہ مقبوضہ کشمیرانسانی حقوق کی پامالی کو روکیں اور بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ انسانی حقوق کے مجرموں کو انسداد جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں پیش کرے۔