اپنے چار نکاتی فارمولے پر عمل درآمد کروانے کے لیے پاکستان کو سفارتی جدوجہد کرنی ہو گی، علی رضا سید

Ali Raza Syed

Ali Raza Syed

برسلز (پ۔ر) کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے پاکستان کی طرف سے کشمیرسے فوجوں کے انخلاء کی تجویز کو قابل ستائش اور انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے چار نکاتی فارمولے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بامعنی اور حقیقت پسندانہ موقف پیش کیاہے لیکن اس فارمولے پر عمل درآمد کروانے کے لیے پاکستان کو اپنی سفارتی جدوجہد تیز تر کرنے ہوگی۔ عالمی سطح پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا ہو گا۔

خطے میں امن کے حوالے سے بھارت کا رویہ غیرسنجیدہ ہے اوروہ حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ مسئلہ کشمیرتیرہ ملین کشمیریوں کی تقدیر کا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کی حقیقت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔

علی رضا سید نے کہاکہ وزیراعظم پاکستان کے چارنکاتی فارمولے پر عمل درآمد سے خطے میں امن قائم کرنے اور خوشحالی لانے میں مدد ملے گی اور مسئلہ کشمیرکو حل کرنے کے لیے ایک سازگارماحول پیدا ہو گا۔

انھوں نے کہاکہ نوازشریف کے فارمولے کے بقیہ تین نکات بھی اہم ہیں جن میں ایل او سی پر سیزفائر کو برقراررکھنے ، اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی طرف سے نگرانی بڑھانے اور طاقت کے استعمال اور استعمال کی دھمکی دینے سے گریز کرنے اور سیاچن سے فوج کی دستبرداری جیسی تجاویز شامل ہیں۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے زوردیاکہ دیرینہ مسئلہ کشمیرکو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کیاجائے اور اس سلسلے میں عالمی برادری کو اہم کردارادا کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہاکہ عالمی برادری کو سمجھ لیناچاہیے کہ کشمیری اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں اور بھارت ان کی یہ تحریک آزادی وحشیانہ اقدامات کے ذریعے دباناچاہتاہے۔ ان وحشیانہ اقدامات میں ماورائے عدالت قتل عام، بے جا حراست ، جنسی تشدد وغیرہ شامل ہیں۔نئی دہلی کشمیریوں کا بنیادی حق تسلیم نہیں کررہا اور اسی وجہ سے آج مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی کا بازار گرم ہے۔

انھوں نے مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤوں کے خلاف حالیہ اقدامات کی بھی مذمت کی جس میں نظربندی ، گرفتاریاں اور بیرون ملک جانے سے روکنا وغیرہ شامل ہے۔

علی رضا سیدنے اقوام متحدہ کی سلامتی کی قراردادوں کے بارے میں کہاکہ یہ قراردادیں مسئلہ کشمیرکا بہترین حل فراہم کرسکتی ہیں اور ان قرار دادوں کو نظراندازنہیں کرنا چاہیے۔عالمی برادری خاص طورپر اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیرکو حل کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیں۔جنوبی سوڈان، مشرقی تیمور اور کوسوو کا مسئلہ حل ہوسکتاہے تو کشمیرکا دیرینہ تنازعہ حل کیوں نہیں ہوسکتا۔ عالمی برادری کو کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لیناہوگا اور وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کروانا ہوں گی۔