برسلز: تنخواہیں بند کر کے اب بھارت کشمیریوں کا معاشی قتل عام شروع کر دیا ہے، میر شاہی جہاں

Mir Shahijahan

Mir Shahijahan

برسلز (پ۔ر) بلجیم میں قائم غیر منافع بخش کشمیری تنظیم ’’کشمیر انفو‘‘کے چیئرمین میر شاہی جہاں نے کہاہے کہ بھارت نے کشمیریوں کے جسمانی قتل عام کے ساتھ ساتھ اب انکا معاشی قتل عام بھی شروع کر دیا ہے۔

برسلز سے اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ موصول ہونے والی میڈیارپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں کٹھ پتلی حکومت نے ہزاروں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بند کررکھی ہیں یا بند کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔اس کے علاوہ لوگوں کو نوکریوں سے برطرفی کی بھی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

میر شاہی جہاں نے کہاکہ کشمیری پہلے ہی سات دہائیوں سے قتل عام کا شکارہیں اوراب حکومت لوگوں کی تنخواہیں بندکرکے ان کا معاشی قتل عام کرناچاہتی ہے جوایک انتہائی تشویشناک بات ہے۔

انھوں نے کہاکہ یہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب وادی میں ساڑھے تین ماہ سے مسلسل کر فیونافذ ہے اور ساتھ ہی گرفتاریوں اور ہڑتالیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت کی مرکزی حکومت اور بھارت نواز ریاستی حکومت کا رویہ غیرانسانی اور غیر جمہوری ہے۔عالمی برادری کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔