برسلز: سیمینار کے مقررین نے مسئلہ کشمیر کے مذاکرات کے ذریعے پرامن حل پر زور دیا

Brussels

Brussels

برسلز: کشمیر کونسل ای یو اور انٹرنیشنل کونسل فارہیومن ڈی ویلپمنٹ (آئی سی ایچ ڈی) کے زیراہتمام 27 اکتوبر کے روز یوم سیاہ کے موقع پر بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں ایک سیمینار منعقد ہوا۔

یادرہے کہ بھارتی فوجوں نے 27 اکتوبر 1947ء کو کشمیرکے بڑے حصے پر قبضہ کرلیاتھا اور کشمیرکے دونوں حصوں میں موجود باشندے اور دنیاکے دوسرے خطوں میں رہنے والے ان کے کشمیری ہم وطن ہرسال 27 اکتوبر کوہرسال احتجاجاً یوم سیاہ کے طورپر مناتے ہیں۔

’’کشمیر: جنوبی ایشیاء میں امن کی کنجی ‘‘ کے عنوان سے سیمینارکو انعقاد یورپین پریس کلب برسلزمیں ہوا جس نظامت کے فرائض ’’الزابتھ پوسٹون‘‘ نے انجام دیئے۔ سمینارکے مقررین نے مسئلہ کشمیرکے مذاکرات کے ذریعے پرامن حل اور مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کروانے پر زوردیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے رکن برسلز پارلیمنٹ ڈینیل کارون نے کہاکہ بھارت اور پاکستان کو مسئلہ کشمیرکا ایک پرامن حل تلاش کرناہوگا۔ اس مسئلے پر مذاکرات ہونے چاہیے، مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بندکی جائیں اورکشمیریوں کوا ان کے حقوق دیئے جائیں۔

ڈینیل کارون نے مزید کہاکہ خطے میں ترقی کے لیے امن بہت ضروری ہے اورامن سے ہی خوشحالی آسکتی ہے۔کشمیرایک جنت نظیر علاقہ ہے اور امن سے ہی اسکی خوبصورتی برقرار رہ سکتی ہے۔ایک اور رکن برسلزپارلیمنٹ ڈاکٹر منظورظہور نے کہاکہ بھارت کو کشمیرسے نکل جاناچاہیے کیونکہ کشمیراس کا حصہ نہیں۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں ڈاکٹر منظور نے کہاکہ ایک ایٹمی جنگ خطے میں چھڑ سکتی ہے۔ انھوں نے مسئلہ کشمیرکا مناسب حل تجویزکرتے ہوئے کہاکہ بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرناہوگا۔

برسلزمیں پاکستانی سفارتخانے کے قونصلر محمود اخترنے مسئلہ کشمیرکے قانونی پہلووں پر روشنی ڈالی اور اس مسئلے پر پاکستان کا موقف واضح کیا۔ اخترمحمود۔ انھوں نے پاورپوائنٹ کے ذریعے ایک پریزنٹیشن دے کر تنازعہ کشمیرکے قانونی پہلووں کو اجاگرکیااورپاکستان کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔ محموداخترنے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ بھارت کشمیریوں کے ساتھ وعدہ پورا نہیں کررہا۔ بھارت نے کشمیرپرزبردستی قبضہ کیا اور آج تک اس کا قبضہ برقرار ہے۔ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہوناچاہیے۔ جب تک کشمیریوں کوحق خودارادیت نہیں مل جاتا،ہم کشمیرکا مقدمہ لڑتے ہیں ۔

اس موقع پر کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے اپنے خطاب میں کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل بغیر جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اس مسئلے کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کیاجائے اور عالمی برادری کو بھارت اور پاکستان کے مابین اس تنازعے کے حل میں مدد دینی چاہیے۔ایک جوہری جنگ کے خطرے کے بارے میں انھوں نے کہاکہ ایک ایٹمی جنگ نہ صرف خطے کیلئے تباہ کن ہے بلکہ اس سے پوری دنیا متاثرہوگی۔مشرق وسطیٰ میں جنگ کی مثال دیتے ہوئے چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے کہاکہ شام کی جنگ کی وجہ سے یورپ میں تارکین وطن کا ایک سنگین بحران پیدا ہوگیاہے۔

اگربھارت اور پاکستان مابین جنگ ہوتی ہے تو یہ جنگ دنیاکے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گی۔انھوں زوردیاکہ کشمیرکونسل ای یو کوشش کررہی ہے کہ خطے میں امن کی خاطر دوایٹمی طاقتوں کے مابین ثالثی کے لیے یورپی یونین سمیت عالمی برادری اپنا کردار اداکریں۔سیمینارمیں بڑی تعدادمیں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی اور کشمیرپر بھارتی قبضے کی مذمت کی۔انھوں نے کشمیریوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ کشمیریوں کی عظیم جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے تاکہ انھیں حق خودارادیت مل جائے تاکہ انہیں بھارت کے ناجائز قبضے سے نجات مل سکے۔

انھوں نے کہاکہ بھارت کی موجودہ حکومت ایک نسل پرست حکومت ہے اور اس کاغلط رویہ پوری دنیاکے امن کے لیے خطرے کا باعث ہے۔مسلمانوں کے علاوہ، بھارت کے اندر چھوٹی قومیتیں جن میں سکھ بھی شامل ہیں، مودی حکومت کے رویے سے نالاں ہیں۔تقاریر کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوااورمقبوضہ کشمی رمیں انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔واضح رہے کہ 27 اکتوبر 1947 ؁ء کو بھارت نے کشمیرمیں اپنی فوجیں داخل کرکے اس کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ک شمیری ہرسال اس دن کو یوم سیاہ کے طورپر مناتے ہیں۔