برما کوئی تو جاگے ؟

Monir Ahmed

Monir Ahmed

تحریر: شاہ بانو میر
ہر طرف ہو کا سناٹا ہے ہر ٹی وی چینل جو ایک آبرو باختہ کو سر عام جرم میں ملوث پاتا ہے لیکن اس کے جرم کو بھی تشہیر بنا کر نوٹ کمانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ـ جیل کے اندر اسکی ہر ادا کو صرف سپر ماڈل کے نام پر اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے سوتے جاگتے کھاتے پیتے دکھانا اپنا فرضِ اولین سمجھتا ہے ـ یہ لمحہ لمحہ بریکنگ نیوز دیتے وقت کے طاقتور ادارے برما کے حساس موضوع پر سرتاپا خاموش ہیں جیسے مسلم دنیا کے حکمران ـ وجہ شائد یہ ہے کہ یہ لڑکیاں ان کے فائیو سے سیون اسٹار ہوٹلز میں آنے والے بین القوامی مشاہیر کی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی دلبستگی کا سامان کرتی ہیں ـ

لہذا کاروباری مفادات کی وجہ سے ان کے جیل جانے پر بھی ان کی ہر ہر ادا کو کیش کر کے اپنے چینل کی ریٹنگ میں اضافہ کیا جا رہا ہے ـ جبکہ برما کی تصاویر آہوں سسکیوں چیخ و پکار ان کے ہم جیسے ابن الوقت قارئین کو ذہنی کوفت میں مُبتلا کریں گے ـ لہٰذا ٹینشن سے بچا بھی جا رہا ہے اور بچایا بھی جا رہا ہے ـ مگر میں اب سوچ رہی کہ ہم کیسے بے حس کم ظرف ہو گئے ان چینلز کو موردِ الزام ٹھہرانے سے پہلے مجھ سمیت سب اپنا مُحاسبہ تو کریں ـ میں قرآن پاک کیلیۓ رو رو کر دہائی دے رہی ہوں ـ رمضان المبارک سر پے ہے ـ رمضان میں تزکیہ نفس اور گرمی کی شدت میں طویل روزوں کو استاذہ جی کے اسباق سے قرآن پاک سے آسان کرنے کا عمل شروع ہے ـ حوصلے بڑہائے جا رہے نئی توانائی لائی جا رہی تا کہ روزوں کا مقدس مہینہ تمام تر فضیلتوں رحمتوں کے ساتھ گزار کر اللہ سے قریب ہو سکیں ـ

انسانیت کا سبق دینے والا قرآن کیا مجھ سے خوش ہے کہ میں معمولاتِ زندگی کو ویسے ہی سرانجام دے رہی ہوں اپنے دینی بہن بھائیوں کے قتل عام پر بھی؟ ایسی بے حسی کے ساتھ میرا قرآن پاک کی طرف بلانے کا عمل اللہ کے ہاں مقبول ہوگا؟ جب میں ایک طویل روزے کیلیۓ حوصلہ ہمت دلوا رہی ہوں جو سترہ گھنٹے کا ہوگا اور سحری افطاری وقت اللہ پاک کی عطا کردہ انواع و اقسام کی نعمتوں سے ہر گھر میں روزہ داروں نے روزہ کھولنا ہے ـ دوسری طرف؟ کھلے سمندر سر پے آگ برساتا سورج چِلچِلاتی دھوپ معصوم بھوکے شِیر خوار بچّے بوڑھے نادار لوگ کمزور عورتیں نہ کشتی پر چھت اور نہ خوراک نہ لباس ؟ ان کے لئے میں نہ بلا رہی نہ ان کے لئے کچھ کر رہی کیا میں درست ہوں؟ اس جدید مہذب ترقی یافتہ دور میں جب ایک کلک پر ساری دنیا میں خبر ایک لمحہ میں پہنچ جاتی ـ نجانے یہ بِلکتے روتے چیختے ننگ دھڑنگ انسان کسی بھی 4 ارب کی اس دنیا میں دکھائی نہیں دے رہے؟

Human Traffickers

Human Traffickers

ان سیکڑوں لوگوں کا اتنا طویل روزہ بغیر کسی سحری افطار کے؟ کسی حساس دل کو کسی نو دولتیے کو جو اپنا نام ساری دنیا کو دولت خرچ کر کے سنانا چاہتا ہے دکھائی نہیں دے رہے ـ روپے پیسے کو بےدریغ ایان جیسی بلیک میلر حسینہ پر لٹانے والے انہیں تحفظ فراہم کر کے خود کو نمایاں کرنے والے آج کہیں ابدی نیند سو گئے کیا؟ جن کی شہریت چھین لی گئی جن کے گھر چھین لئے گئے انسانی اسمگلروں نے موقع غنیمت جان کر رہی سہی کسر پوری کر دی جان بچا کر نکلنے والوں کو ناقص کشتیوں میں بیچ منجدھار میں لا کر پٹرول ختم ہونے کی خبر سنا کر زندگی کی قید سے آزاد ہونے کا حکم صادر کر دیا ـ انسانی حقوق کے سوداگر نجانے اس سودے میں کب کوئی فائدہ مند تجارت کا پہلو دیکھ سکیں گے ـ ایسی امداد پر صرف آخرت کے انعام کے وعدے کی شرط ہے ـ اور آج تو اس ہاتھ دے اور اس ہاتھ لے کا قانون درج ہے ـ کیسے کوئی بغیر کسی مفاد کے ان بیچاروں کیلیۓ کچھ کرے گا؟

اہل پاکستان کہاں ہے آپ کا وہ غیور انداز وہ انسانی ہمدردی وہ اسلامی سوچ خدارا جاگو حکمران بھول جاؤ صرف یہ یاد رکھو کہ اس امّت کو اب بچانا صرف ہم سب نے ہے کسی حاکم کسی سیاسی لیڈر نے نہیں کچھ تو کرو رمضان سر پر ہے اللہ کے لئے اپنی خوراک میں کمی کر کے ان کیلیۓ رمضان المبارک کے اعلیٰ درجات کے حصول کیلیۓ ان بے سرو سامان لوگوں کو اسلامی بہن بھائی سمجھتے ہوئے ان کو امداد بھجوانے کا اہتمام کریں ـ ایسا طویل روزہ ہے جن کا جس نے اس وقت کربلا کو یاد دلا دیاـ برما کے اندر انسانی محبت و آشتی کا نام نہاد مذہب بدھا کے پیرو کار اتنے اسلام سے خوفزدہ ہو گئے کہ وہ آج جلاّد بنے قصائی بنے کہیں تو سیکڑوں معصوم بچوں کو لٹا کر ان کے ہاتھوں کے اوپر سے موٹر سائیکل گزار رہے ـ

کہیں معصوم فاقہ زدہ ہڈیوں کے پنجر بچے کو بھاری بوٹوں والے روند کر بے غیرتی کی نئی انسانیت سوز داستان رقم کر رہےـ کہیں سیکڑوں کو بلا قصور آگ جلا کر صفحہ ہستی سے مِٹا دیا گیاـ کہیں ان کے گھروں کو جلا کر ان کو کھلے آسمان تلے ظلم سہنے کیلیۓ چھوڑ دیا گیاـ مسلمان ایک جسم کی مانند ہے جب ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو درد سارا جسم محسوس کرتا ہے ـ واقعی؟ پوری امّتِ مسلمہ کے بے حس بے غیرت بِکاؤ حکمران اپنی عیاشیوں کے حصول کیلیۓ بِکے ہوئے وہ بے حِس کیا بولیں گے ـ کون بنے گا عمرؓ کس کو قوم اور امت پُکارے نہ ان کو اپنا ملک سہار رہا اور نہ ہی کوئی اسلامی ملک ان کو سہارا دینے کو تیار ؟ سمندری مخلوق کی خوراک بننے والے یہ ہڈیوں کے پِنجر نما انسان نجانے اس بار ہمارے رمضان کو اپنی آہوں سسکیوں بھوک پیاس سے نجانے کس درجے پر لے جائیں گے ـ کاش کوئی تو جاگے؟

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر: شاہ بانو میر