وسطی یورپ میں ایک ملین دستخطی مہم کے آخری مرحلے میں ویانا میں کیمپ لگایا، کشمیریوں کے حقوق کی حمایت کا اعلان

Signature Camp Austria

Signature Camp Austria

ویانا۔آسٹریا(پ۔ر) وسطی یورپ کے تین ملکوں ہنگری، سلواکیہ اور آسٹریا میں کشمیرپر دستخطی مہم کافی کامیاب رہی ہے اور اس دوران متعدد لوگوں نے دستخط کرکے کشمیریوں کے حقوق کی حمایت کا اعلان کیا۔یہ تین روزہ مہم کشمیرکونسل یورپ (ای یو) کی ایک ملین دستخطی مہم کا حصہ ہے جو ایک عرصے سے یورپ میں جاری ہے اور ابتک بڑی تعدادمیں یورپی باشندوں سے کشمیریوں کے حق میں اوران کے حقوق کی پامالی کے خلاف دستخط لئے جاچکے ہیں۔ دودن ہنگری اور سلواکیہ میں قیام کے بعد منگل کی شام کو کشمیرکونسل یورپ کی ٹیم کونسل کے چیئرمین علی رضاسید اورسینئرنائب صدر چوہدری خالدمحمودجوشی کی قیادت میں آسٹریا پہنچی اوربدھ کے روزتین روزہ مہم کے آخری روز دارالحکومت ویانامیں ایک روزہ کیمپ لگایاگیا۔بڈاپسٹ اوربراٹیسلاواکی طرح، ویانامیں بھی مہم بڑی کامیاب رہی اور لوگوں نے دستخط کرکے کشمیریوں کے حقوق کی حمایت کی اور ان کے خلاف مظالم پر تشویش ظاہرکی۔

یورپ میں کشمیرکونسل ای یوکی طرف سے ایک ملین دستخطی مہم ایک عرصے سے جاری ہے۔ ابتک اس مہم کے دوران جس کا آغاز بلجیم سے ہوا تھا، یورپ کے متعدد ممالک جن میں برطانیہ، ہالینڈ، ناروے اورسویڈن بھی شامل ہے، کے لوگوں سے کشمیریوں کی حمایت میں دستخط لئے جاچکے ہیں۔اس مہم کو یورپی ممالک میں متعدد مقامی این جی اوز اور سماجی کارکنوں کی حمایت و معاونت حاصل ہے۔وسطی یورپ کے تین ملکی دورے کے اختتام پرچیئرمین کشمیرکونسل یورپ علی رضاسید نے کہاکہ ان کا یہ تین روزہ دورہ کافی کامیاب رہااور اس دوران لوگوں نے نہ صرف کشمیرپر آگاہی حاصل کی بلکہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہرکی۔ انھوں نے بتایاکہ خاص طورپر نوجوانوں او ریونیورسٹی طلباء نے کشمیرکے بارے میں خاصی دلچسپی ظاہرکی۔ اس دوران دستخطوں کے ساتھ ساتھ لوگوں میں کشمیرکے حوالے سے بروشرز اور معلوماتی پمفلٹس اورکشمیر۔فری کے نعرے والی متعدد ٹی شرٹ بھی تقسیم کی گئی۔

علی رضاسیدنے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیاکہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بندکروائیں اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوانے میں ان کی مددکریں۔ انھوں نے ماوارائے عدالت قتل عام، جبری گمشدگی، جنسی تشدد اوربے نام قبروں کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیرمیں مظالم کو فوری طورپر روکاجائے اور مسئلہ کشمیرکا مناسب اورمنصفانہ حل تلاش کیاجائے۔

یادرہے کہ اس ایک ملین دستخطی مہم کا مقصدیورپی ممالک سے دس لاکھ افرادکے دستخط جمع کرکے مسئلہ کشمیرخصوصاً مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کے معاملے کو یورپی پارلیمنٹ کے اندر پیش کرناہے تاکہ اس تنازعے کو زیادہ سے زیادہ اجاگرکیاجاسکے اور مقبوضہ کشمیرمیں جاری بھارتی مظالم کو روکاجاسکے۔ کشمیرکونسل یورپ اس مہم کے علاوہ دیگر ذرائع خصوصاً کانفرنسوں، سیمیناروں اور ملاقاتوں کے ذریعے مسئلہ کشمیرکوعالمی سطح پر اجاگرکرتی رہتی ہے۔ خاص طورپر مقبوضہ کشمیرمیں مظلوم کشمیریوں پربھارتی مظالم کے خلاف آواز بلندکرناان اہداف میں شامل ہے۔