حلقہ فکر و فن کا عالمی یومِ خواتین پر تجدید عہد

Women Day Talk

Women Day Talk

الریاض (وقار وامق) ہر سال کی طرح اس بار بھی دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا، اس موقع پراکثر و بیشتر مرد حضرات نے خواتین کی صلاحیتوں کو نہ صرف صراہا بلکہ بعض مماللک میں تو خواتین کو تحائف سے نواز کر ان کی خدمات کا اعتراف بهی کیا گیا۔

اسی مناسبت سے حلقہء فکر و فن ریاض نے ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری کی رہائش گاہ کاشانہء ادب پر ایک اجلاس منعقد کیا، جس میں یہ تجدید عہد کیا گیا کہ حلقہء فکر و فن کے مرد عہدیداران اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کی مناسب پزیرائی کی جاتی رہے گی اور خواتین لکھاریوں کی ہمیشہ کی طرح حوصلہ افزائی جاری رہے گی۔

اس اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر حناء امبرین نے سرانجام دئیے جبکہ صدارت ڈاکٹر ریاض چودھری نےکی۔ڈاکٹر حناء امبرین نے تمام سینئر ممبران کو استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی ہر شے عورت کے وجود کے بنا ادھوری ہے، انہوں نے کہا کہ ان تمام مرد حضرات کو خراجِ تحسین جنہوں نے خواتین کا ساتھ دے کر ان کو معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے میں ساتھ دیا، حنا امبرین نے مزید کہا کہ وہ خواتین جو علم وادب میں اپنا سکہ منوا رہی ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں کیونکہ آج کے دور میں جو کام قلم کے ذریعے یہ خواتین ادا کر رہی ہیں وہ ناقابل فراموش ہے۔

اس موقع پر حلقہء فکروفن کے سیکریٹری جنرل وقار نسیم وامق نے اظہار خیال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا کہ خواتین کو حلقہء فکروفن کے پلیٹ فارم پر آئندہ بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو لے کر آگے بڑھنے کا بھرپور موقعہ دیا جاتا رہے گا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ خواتین کے حقوق کے حامی ہیں اور دور حاضر کی ان تمام خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو شعروادب میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔

اعجاز کاشمیری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے کردار کو معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ظاہر کرتے ہوئے عہدِ حاضر اور عہدِ ماضی کی خواتین کے کردار کو سراہا۔ ڈاکٹر طارق عزیز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک صحت مند معاشرے کو پروان چڑھانے کے لئے خواتین کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا انہوں نے کہا کہ دین اسلام بھی ہمیں خواتین کو ان کے جائز حقوق اور مقام دینے کی تعلیم دیتا ہے، اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک ممکن ہو خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کی پذیرائی ضرور کرنی چاہیےاس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔

فکروفن کے نمائندہ شعراء عبدالرزاق تبسم، وقار نسیم وامق اور ڈاکٹر حناء امبرین نے اپنا منظوم کلام پیش کر کے اس اجلاس میں خواتین کو بهرپور خراجِ تحسین پیش کیا آخر میں ڈاکٹر ریاض چودھری نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ وہ خواتین کی ترقی کے حامی ہیں اور ہر موڑ پر ان کی حوصلہ افزائی اپنا فرض سمجھتے ہیں انہوں نے حلقہء فکروفن کی خدمات کو بھی سراہا کہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اس اجلاس کو منعقد کر کےان کی حوصلہ افزائی کا تجدید عہد کیا۔

آخر میں شرکائے تقریب کے اعزاز میں فکروفن کی جانب سے پرتکلف عشائیہ دیا گیا۔