عدالتوں کو اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ میاں عبد الحمید

Mian Abdul Hameed

Mian Abdul Hameed

برنلے (پ ر) پاکستان مسلم لیگ ق کے مرکزی نائب صدر میاں عبد الحمید نے سابقہ وزیر اعظم کو گیارہ میگا کرپشن میں ملوث کیسوں میں پہلی ہی پیشی پر ضمانت مل جانے کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کتنا باعث شرم اور زیادتی ہے کہ چھ چھ سال تک جیل میں سڑنے والے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں کہ حضور ہماری ابھی تک پہلی پیشی نہیں ہورہی اورہم جیلوں میں سڑرہے ہیں مگر ان کی کوئی سننے والا ہی نہیں اس لئے کہ غریب ہیں؟ دوسرا ستم یہ ہے کہ بڑے بڑے ملک کی دولت لوٹنے والوں کو عدالت میں حاضری ہی سے استثنادے دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ عدالتوں کو اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

عدل کی کرسی پر بیٹھنے سے سیاسی خوف کے حصار سے بھی نکلنے کی ضرورت ہے بڑوں کو سلام اور غریبوں کو رگڑا، عدالتیں یہ ذہن میں رکھیں انہوں نے بھی اللہ کی عدالت میں پیش ہو نا ہے منصوبوں پر ناموں کی تختیاں لگانے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے میاں حمید نے کہا حکومت کوئی منصوبہ مکمل کرتی ہے تو وہاں کسی وزیر یا وزیر اعلیٰ یاوزیر اعظم کے نام کی تختی لگا دی جاتی ہے یہ روش ختم ہونی چاہیئے کیونکہ بنائے گئے منصوبے بر سر اقتدار لوگوں کی جیبوں سے مکمل نہیں ہوتے وہ قومی خزانے سے بنتے اور چلتے ہیں ملکی ترقیاتی منصوبے بنانا اور مکمل کرنا حکومتوں کے فرائض میں شامل ہوتا ہے۔

بے نظیر انکم سپورٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس سکیم کا نام تبدیل ہو نا چاہیئے اس کو قائد اعظم یا پاکستان انکم سپورٹ کا نام دیا جائے اور اس کاانچارج عبد الستار ایدھی جیسا ایماندار و غیر جانب دار شخص مقرر ہونا چاہیئے سیاسی لوگوں کو اس کا انچارج بنانا بد دیانتی ہے اور یہ قومی خزانے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کے مترادف ہے۔