کراؤن پراسیکیوشن کے مقدمے کو سنجیدہ نہ لینا مایوس کن ہے۔ سجاد کریم

Sajjad Karim

Sajjad Karim

نیلسن (پ ر) یورپی یونین کے حوالے سے امسال جون میں ہونے والے ریفرنڈم کی مہم کے دوران یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی کے ہیرو گیٹ کے رہائشی پچپن سالہ ایک حمایتی نے نارتھ ویسٹ سے کنزر ویٹو پارٹی کے رکن یورپی پارلیمنٹ سجاد کریم کو ٹویٹر پر برا بھلا کہتے ہوئے گھر آکر نپٹنے کی دھمکی بھی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر نائجل فراج کو کچھ ہؤا تو ہم جانتے ہیں تم کدھررہتے ہو؟ مقامی اخبار کے مطابق بلیک برن لنکا شائر میں پیدا ہونے والے رکن یورپی پارلیمنٹ کو تضحیکی انداز میں امیگرینٹ بھی کہا تھا نارتھ یارکشائیر پولیس نے اس شخص کو گرفتار کر لیا تھااور دوران تفتیش اپنے اقبالی بیان میں ملزم نے اقرار بھی کیا۔

اس کے باوجود پچھلے ہفتے سجاد کریم کو متعلقہ پولیس آفیسر کی جانب سے مکتوب لکھ کر آگاہ کیا گیا ہے کہ کراؤن پراسیکیوشن کے فیصلے کی روشنی میں ملزم کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی لہٰذا کیس ختم کیا جا رہا ہے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سجاد کریم نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کراؤن پراسیکیوشن سے فیصلے پر نظر ثانی کے مطالبہ کے ساتھ فیصلے کی وضاحت بھی مانگ لی ہے پینڈل سے ممبر پارلیمنٹ اینڈریو سٹیفنسن نے بھی اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جان کر بے حد دکھ ہؤا ہے کراؤن پراسیکیوشن نے ملزم کو بغیر کسی چارج کے رہا کرنے کا فیصلہ دیا ہے جبکہ اس نوعیت کے معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیئے جہاں ممبرپارلیمنٹ یا ممبر یورپی پارلیمنٹ رائے دہندگان کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی قانونی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش میں ایسے حالات سے دوچار ہو اور ادارے اس مقدمے کو سنجیدہ نہ لیں مایوس کن ہے۔

ر بل ویلی سے کنزر ویٹو پارٹی کے رکن برطانوی پارلیمنٹ نائجل ایون نے اس خبر پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہیں یہ فیصلہ ان اوباش لوگوں کے لئے سبزجھنڈی نہ ثابت ہو جن کا سوشل میڈیا پر بیٹھ کرعوام کے منتخب نمائندگان کی تضحیک اور گال گلوچ محبوب مشغلہ ہے ۔یاد رہے ڈاکٹر سجاد کریم (ستارہ قائد اعظم) ریفرنڈم میں یورپی یونین میں رہنے کی مہم کا نہ صرف حصہ تھے بلکہ اس مہم کے سرخیلوں میں تھے اور بر طانیہ بھر بالخصوص نارتھ ویسٹ میں اس حوالے سے میڈیا اور کانفرنسوں میں ہونے والے مباحثوں میں بڑا مضبوط مؤقف پیش کرتے اور مخالفین کو زچ کرتے رہے جو انہیں برداشت نہیں ہورہا تھا اور اکثر میٹنگوں میں ان سے بد تمیزی کے واقعات بھی رونما ہوئے اور معاملہ دھمکیوں تک پہنچ گیا پولیس کی جانب سے اپنی سر گرمیوں کو محدود کرنے کے مشورے کے بعداس وقت سجاد کریم نے کچھ انہونی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا انہیں دھمکیاں ملیں اس دوران باٹلے یارکشائر سے ممبر پارلیمنٹ جو کاکس قتل ہو گئی تھیں اور دیگر مقامات پر بھی نسلی واقعات سامنے ائے اور مختلف کمیونٹیز میں تاحال ھالات کبیدہ خاطر چلے آرہے ہیں۔