فیصلہ آپ کریں؟

Holy Quran

Holy Quran

تحریر : شاہ بانو میر
دو سال سے گھر میں قرآن پاک کو سمجھنے اور عمل کرنے کی حتی المکان کوشش میں مصروف رہی ـ قرآن پاک سے دل جُڑا تو پتہ چلا کہ یہ دنیا اور اس کے باسی کس قدر اُس دنیا سے مختلف ہیں جو ہماری اصل دنیا ہے قرآن پاک کے بیان کردہ اسلوب کے تحت اپنے اصل کو کھوجنے کی جستجو طلب دن بدن بڑہنے لگی ـ سیرت النبی الرحیق المختوم تجلیات نبوی اور ساتھ ساتھ تفسیر قرآن پاک بمعہ ترجمہ ایسا گہرا سمندر کہ آپ ایک بار غوطہ زن ہو گئے اور اللہ کی بارگاہ میں آپ کی قبولیت ہو گئی تو اس کے بعد یہ دنیا اس کی نمائشی چمک دمک اور کھوکھلے انداز ـ آپکو اسقدر سطحی اور بے بنیاد لگتے ہیں کہ جن عہدوں ناموں اور کاموں کے پیچھے یہ ایک دوسرے کا کاٹنے میں دن رات سر گرداں ہیں آپکو ان پر ہنسی آئے گی کہ ان کو فکر کس بات کی ہونی چاہیے تھی اور یہ کس فکر میں مُبتلا ہیں ـ مجھے گزشتہ دو مہینوں میں کچھ پروگرامز میں جانے کا اتفاق ہوا ـ

ذہنی کوفت تو دورانِ پروگرام رہی کیونکہ قرآن کی اصل بامقصد تحریر اور پیغام کے بعد اب یہ باتیں تقاریر بے معنی اور وقت کا ضیاع لگتی ہیں ـ لیکن کچھ پیارے لوگ ہیں جن کا بہت احترام تھا ان کا اصرار تھا سو جانا پڑا ـ وہاں عجیب تماشہ دیکھا ایک ہستی کو پروگرام کے شروع سے آخر تک پریشان حواس باختہ دیکھا ـ کسی کے آنے پر وہ بھاگ اٹھتیں کسی کے بیٹھنے پر وہ دائیں بائیں دیکھتیں کسی سے کسی کی بات ہو جائے تو وہ اچھل کر کسی شرارتی بچے کی طرح درمیان میں کود جاتیں ـ نہ تو وہ نوجوان تھیں کہ ناسمجھ کہا جائے اور نہ ہی اتنی برگزیدہ کہ عقل خبط ہونے کا احتمال ہو ـ

میں ان کے ہر ہر ایکشن کو دیکھ کر محظوظ ہو رہی تھی کیونکہ مجھے بار بار قرآن پاک کی وہ آیات یاد آ رہی تھیں کہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کے اندر یوں گم ہیں کہ اس کی رنگینی ان کی متاعِ حیات ہے اور یہی بدترین سودا ہے ـ اب آئیے تصویر کے دوسرے حسین رخ کی طرف کچھ روز قبل مجھے ایک اور پروگرام میں جانے کا حسن اتفاق ہوا ـ یہاں میزبان پرسکون مہذب اور شائستگی کا انداز لیۓ ہوئے تھیں جس سے ہر خاتون کو معلوم ہو رہا تھا کہ وہ اپنے کام پر عمل پر اور اپنی صلاحیت پر مکمل اجاراہ داری رکھتی ہیں ـ

Muslim Girl

Muslim Girl

انتہائی خوبصورت پرسکون ماحول خواتین کے ساتھ باوقارانداز میں سب کو مائک پر مدعو کرتی ہوئی ان کی ساتھی ہر فکر سے ہر پریشانی سے مکمل طور سے آزاد ایک منظم جامع اور بہترین پروگرام کر رہی تھیں ـ نہ وہ کسی کے درمیان آ رہی تھیں نہ کسی کو بات کرنے سے منع کر رہی تھیں ـ نہ کسی ایک کے کان میں جا کر دکھ رو رہی تھیں ـ ایسا معیاری اور شاندار پروگرام جس نے مجھے سابقہ پروگرام کی ہڑبونگ یاد دلا دی ـ رہنما با صلاحیت ہو تو وہ خوفزدہ نہیں ہوتا ـ وہ پرسکون رہ کر سب کو عزت دے کر صرف اپنے مقام کے تعین کا رونا نہیں روتا ـ بلکہ ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے اپنے آپ کو منواتا ہے ـ میں نے بہت سوچا کہ آخر ایسا فرق کیوں؟

جواب ملا کہ یہ پردیس ہے جہاں عملی طور پر آپ کے پاس کوئی سیاسی عمل کوئی منصوبہ کوئی تعمیری کام نہیں ہے یہاں آپ نے سیاست میں زندہ بھی تو رہنا ہے اور وہ زندگی ہے خبروں کی تہشیر تصاویر کی بھرمار ـ ایک طرف ایک وجود ہے جو متوازن ہے پرسکون ہے کامیاب پروگرام کر کے داد و تحسین کے جملے سمیٹ رہا ہے دوسری طرف وہ پریشان حال وجود جو صرف اپنی ذات کی برتری کیلیۓ ہر اخلاقی حد کو عبور کر کے زبان درازی کر کے خود کو وہاں محفوظ اور کامیاب ثابت کر رہا ہے ـ جواب آپ دیں کامیاب کون؟

بغیر عمل کے صرف شور مچانے والے ؟ یا دنیا کے درمیان بہترین انداز میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا کر سب کو ساتھ لے کر چلنے والے؟ ضرورت اس امر کی ہے دباؤ ڈلوا کر سرمایہ کثیر کسی کی جیب سے خرچ کروا کر اپنی زات کی سربلندی کی بجائے ٹھوس جامع اور مثبت کام کر کے خود کو منوایا جائے یہ ہے اس دنیا کے دو رخ جو میں نے دو ماہ میں دیکھے اور سیر ہو گئی ـ فیصلہ آپ کریں ؟

Shahbano Mir

Shahbano Mir

تحریر : شاہ بانو میر