فیصلہ انسانی زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے

Rao Khalil

Rao Khalil

پیرس (اے کے راؤ) فیصلہ انسانی زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ،صحیح وقت پر غلط فیصلہ اور غلط وقت پر درست فیصلہ پانسہ پلٹ سکتا ہے ۔فیصلہ کے درست یا غلط ہونے کا وقت پر پتا چلتا ہے مگر زی شعور لوگ فیصلہ سے متاثرہ لوگوں کے ری ایکٹ سے اندازہ لگا لیتے ہیں ۔ اگر آپ کے فیصلے سے آپ کے خیر خواہ خوش ہوں تو آپ یقینا” درست راہ پر ہیں۔ اور اگر آپ کے کیے فیصلے سے آپ کے دشمن خوش ہوں تو یقینا” آپ بھٹک چکے ہیں اور پتلی گلی سے نکلنا چاہتے ہیں اور آپ پھر بھی یوم تشکر منائیں تو آپ کے ارد گرد والوں کا گھیرا تنگ ہے جس سے آپ دور تک دیکھ نھیں سکتے ، یا پھر آپ عوام کی زندگیوں میں اندھیرا کرنے کا قصد کر چکے ہیں۔اور اس پر انا اللہ وانا الیہ راجعون ہی کہا جا سکتا ہے۔

پاکستان الیکشن کمیشن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) اور عوامی مسلم لیگ کی جانب سے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ شہباز شریف، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، کیپٹن (ر) صفدر اور حمزہ شہباز کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹارئرڈ سردار رضا خان کی سربراہی میں فل کمیشن نے ان درخواستوں کی سماعت شروع کی تو وزیر اعظم کے وکیل اور سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ پاناما کے معاملے پر سپریم کورٹ سماعت کررہی ہے لہٰذا فیصلہ آنے تک الیکشن کمیشن کو سماعت روک دینی چاہیے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور سماعت روک دی گئی۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر بھی یوم تشکر جاری ہے!

خان صاحب کھلاڑی ضرور ہیں مگر حکومت ،اداروں سمیت سب سے کھیل کھیلتی ہے۔ اب بھی کھیل کھیلا جارہا ہے۔ پانی میں جتنی مرضی مدھانی ڈالیں مکھن نہیں نکلتا۔ کیا حکومت پانامہ لیکس کے احتساب کا آغاز وزیراعظم سے شروع کرنے کے فیصلے کو مان لے گی؟ پانامہ لیکس سے متعلقہ جملہ ریکارڈ تو حکومت نے ہی دینا ہے کیا وہ اپنے ہی خلاف یہ ریکارڈ مہیا کرے گی۔ سابق دور حکومت میں سپریم کورٹ کے بار بار کہنے پر اس وقت کے وزیراعظم نے ایک خط نہیں لکھا تھا۔ اب نااہلی یقینی بنانے والا ریکارڈ کیسے فراہم ہو گا یہ دیکھنے اور سوچنے کی بات ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سمجھ داروں کا یوم تشکر جاری ہے!
آج یوم تشکر میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بھی پہنچے جو کل اپنے بلند و باگ داعوں اور لشکر جاہ وجرار کے ہمراہ پنجاب پولیس سے ٹکرایا اور اپنے دو کارکن شہید کروا کے دم دبا کے بھاگ گیا افسوس تو یہ ہے کہ اب ان شہداء کو اون بھی نھیں کر رہا۔ دل تو چاہتا ہے کہ اس پرویز کھوتک کو لکھوں کہ کوئی شرم ھوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے، اور غیرت نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے مگر میں نھیں چاہتا کہ میرا تعلق کسی ایسے شخص سے جڑے جو ظالم نظام کی گنگا میں لنگوٹ پہن کے نہا رہا ھو۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر بھئ یوم تشکر جاری ہے!
پرویز کھوتک کے آج یوم تشکر میں اظہار خیال پر ایک وقعہ یاد آیا پشاور کے ایک گاؤں کے باہر خٹک فیملی کے ایک بزرگ ان کے بیٹے اور داماد کو لوٹ لیا گیا یہاں تک کے کپڑے بھی بھی اتار لیے اب مسئلہ تھا گھر کیسے جائیں ، بزرگ نے تجویز دی کہ لائین بنا کے جاتے ہیں آگے والا دونوں ہاتھ آگے رکھ لے اور پیچھے والا دونوں ہاتھ پیچھے رکھ لے۔ تجویز پاس ہوئی اور وہ گھر پہنچنے میں کامیاب ہوئے ، گھر پہنچ کر بیٹے نے کہا آبا آج تو یوم تشکر ہونا چاہیے کہ ہماری عزت بچ گئی

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یوم تشکر جاری ہے!
بچپن میں بزرگوں سے لمبے بندے کی عقل کے بارے میں سنتے آئے ہیں مگر آج ایک نادان دوست کی پوسٹ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ بزرگ غلط نہیں کہتے تھے۔ بہت آسان ہے کسی کے بخیے ادھیڑنا مگر رفوگری کا فن سیکھنے سے ہی آتا ہے۔ کسی بھی بکواس کا جواب نظام بدلنے کے اصل دشمنوں کی صف میں لا کھڑا کرے گا۔

سات ماہ قبل جو کام میاں نواز شریف خود کر چکے تھے اس پر آج فیس سیونگ کے لیے بھولے کارکنوں کے ساتھ تحریک انصاف کا جشن! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اظہار تشکر جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے