گہری چال

Imran Khan Conference

Imran Khan Conference

تحریر : طارق حسین بٹ
دو نومبر ایک ایسا دن تھا جس پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں ۔خدشات تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ایک خوف کی کیفیت تھی کیونکہ جو لوگ عمران خان کے مزاج سے بخوبی واقف ہیں انھیں علم ہو گا کہ وہ جب بھی کسی بات پر اڑ جاتا ہے تو پھر اسے اس سے ہٹانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔کرکٹ کے میدانوں میں بھی اعمران کا یہی وطیرہ ہو ا کرتا تھا جس سے وہ اپنے مخالفین کو ناکوں چنے چبوا دیا کرتا تھا۔دو نومبر ایک ایسا ہی دن تھا جس پراس نے اسلام آباد کے لاک ڈائون کی کال دے رکھی تھی اور جس کے اتباع میں اس کے جنونیوں کیلئے لاک ڈائون کرنا کوئی بعید نہیں تھا۔حکومت نے جس طر ح کینٹینرز ،رکاوٹو ں اور آنسو گیس سے عوام پر ظلم و جبر کی انتہا کر کردی تھی وہ اس بات کی شہادت دینے کے لئے کافی تھا کہ جنونی کچھ بھی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔اٹک انٹر چینج اور برہان انٹر چینج پر جس بڑے پیمانے پر شیلنگ کی گئی تھی اس سے تو یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جن لوگوں پر شیلنگ کی جا رہی تھی وہ انسانوں کی صف میں شامل نہیں تھے بلکہ وہ جانور تھے۔

کیونکہ اس طرح کا بے رحمانہ رویہ جانوروں کے ساتھ ہی روا رکھا جا تا ہے ۔ کئی گھنٹو ں تک شیلنگ محض اس وجہ سے جاری رکھی گئی تا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ پنجاب پولیس ہر قسم کے احتجاج کو روکنے کی اہلیت رکھتی ہے ۔باعثِ حیرت ہے کہ پنجاب پولیس نے اپنی برتری کا کتنا گھٹیا پیمانہ مقرر کیا گیا ۔کیا کسی جمہو ری ملک میں اپنے ہی لوگوں پر اس طرح کی شیلنگ ہوتی ہے؟لوگ بے ہوش ہو رہے تھے ،جان سے ہاتھ دھو رہے تھے ،تڑپ رہے تھے لیکن حکومت اپنی مونچھوں کو تائو دے رہی تھی کہ اس نے احتجاج کرنے والوں کو سبق سکھانا ہے ۔ جلیانوالہ باغ میں بھی تو یہی ہوا تھا۔نہتے عوام پر گولی چلائی گئی تھی اور حکومت کی رٹ قائم کی گئی تھی۔حکومت کی رٹ قائم کرنا اگر پہلی ترجیح بن جائے تو پھر انسانی خون کی ارزانی پر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔حکومت کیلئے سب سے پہلی ترجیح اپنے عوام کے جان و مال کو محفوظ بنا نا ہوتا ہے۔

کیونکہ حکومت انہی کے ووٹوں سے تشکیل پاتی ہے۔عوام کو آئینی طور پر اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔حکو متی رٹ کا معاملہ تو اس وقت آتا ہے جب احتجاج کرنے والے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔٣١ اکتوبر کو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا لیکن اس کے باوجود حکومت نے جس طرح بے رحمانہ تشدد کیا اس نے آمریت کی بے رحمی کو بھی پیچھے چھوڑ دیاتھا۔شریف خاندان کی نظر میں اقتدار سے چمٹے رہنا انسانی خون سے زیادہ عزیز ہے تبھی تو ١٧ جون ٢٠١٥ میں ماڈل ٹائون میں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے ١٤ افراد کو ہلاک اور سو سے زیادہ لوگوں کو زخمی کر دیا گیا تھا اور تا حال اس مقدمہ کو عدالت تک جانے بھی نہیں دیا گیا۔،۔

Imran Khan

Imran Khan

عمران خان کو اسلام آباد لاک ڈائون والی اپنی کال کی حساسیت کا ادراک تھا لہذا ان کی خواہش تھی کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کا کوئی آئینی راستہ نکلے۔اس سلسلے میں کئی ماہ تک ٹی آر اوز پر اتفاقِ رائے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں اور حکومت کے درمیان گفتگو ہوتی رہی تھی لیکن حکومت اور اپوزیشن کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے تھے۔پارلیمانی کمیٹی بھی پاناما لیکس پر اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہی تھی معاملہ چونکہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا لہذا عمران خان عوامی عدالت میں چلے گے ۔انھوں نے پے در پے جلسے کر کے اس مسئلے پر عوامی رائے ہموار کی ۔ ٣٠ اکتو برکو رائے ونڈ لاہور میں ان کے جلسے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔اس جلسے نے عمران خان کو نیا اعتماد بخشا اور انھوں نے دو نومبر کو اسلام آباد کو لاک ڈائون کرنے کا اعلان کر دیا۔ حکومت کی اتحادی جماعتوں کے سربراہوں مولانا فضل الرحمان ،محمود خان اچکزئی اور فاروق ستار نے اس لاک ڈائون کی مخا لفت کی اور اسے جمہوریت دشمنی سے معمول کیا۔

پی پی پی واحد جماعت تھی جس نے عمران خان پر جمہوریت کو پٹری سے اتارنے اور فوجی اقتدار کی راہ ہموار کرنے کے الزامات لگائے ۔پی پی پی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے دھشت گردوں سے روابط ہیں،عمران خان لاشوں کی سیاست کرنا چاہتے ہیں،ان کے دھشت دوں سے روابط ہیں،فوج ان سے ملی ہوئی ہے اور یہ انگلی کے اشارے کا منتظر ہیں ، یہ شب خون کو ہوا دے رہے ہیں لہذا جمہوریت دشمن ہیں ،مسائل کے حل کی بہترین جگہ پارلیمنٹ اور عدالت ہے اور عمران خان کو اسی جانب دیکھنا چائیے۔عمران خان نے پی پی پی کی ایک نہ سنی اور اپنے اعلان کے مطابق دو نومبر کو لاک ڈائون کرنے پر بضد رہے۔

عمران خان کے فیصلے سے تحریکِ انصاف اور پی پی پی میں دوریاں بھی پیدا ہوئیں لیکن عمران خان نے ان دوریوں کی بھی پرواہ نہ کی۔وہ اپنی ڈگر پر محوِ سفر رہے اور حکومت ان کی اس ضد سے سہمی سہمی نظر آنے لگی کیونکہ اس نے جس بے رح شیلنگ کا مظاہرہ کیا تھا اس سے یہی تاثر ابھرا تھا کہ حکومت عمران خان کی عوامی قوت سے خوفزدہ ہے۔،۔

Supreme Court

Supreme Court

یکم نومبر کو سپریم کورٹ میں پاناما لیکس پر شنوائی کی تاریخ تھی لہذا اس موقعہ پر تحریکِ انصاف کے ساتھ حکومتی وکلاء کو بھی بلایا گیا اور ان سے عدالتی فیصلے کو تسلیم کرنے پر ان کی رائے مانگی گئی ۔تحریکِ انصاف کے وکلاہ حامد خان اور نعیم بخاری نے عدالت کو یقین دلایا کہ اگر عدالت تلاشی لینے کا آغاز کرے تو تحریکِ انصاف کو کئی اعتراض نہیںہو گا بلکہ وہ عدا لت کے ساتھ تعاون کریگی جبکہ حکومتی وکلاء ایسی کوئی بھی یقین دہانی کروانے میں ناکام رہے جس پر سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وہ خود اس مسئلے کی تحقیق کریگی اور میرٹ پر اس مقدمے پر جلدی اپنا فیصلہ صادر کریگی۔تحریکِ انصاف کیلئے یہ بہت بڑی فتح تھی کہ سپریم کورٹ مقدمے کی کاروائی آزادانہ اور منصفانہ کرنے کے عزم کا اظہار کر رہی تھی ۔عمران خان کا شروع سے ہی یہی موقف تھا جس پر عمل پذیری کیلئے کہ وہ وزیرِ اعظم کے استعفی یا تلاشی کیلئے دو نومبر کو اسلام آباد کا لاک ڈائون کرنا چاہتے تھے لیکن جیسے ہی انھیں یہ خوشخبری سنائی گئی کہ سپریم کورٹ پاناما لیکس پر آزادانہ کاروائی کرنا چاہتی ہے تو عمران خان کیلئے یہ سنہری موقعہ تھا کہ وہ عدلیہ کو موقعہ دیں کہ وہ پاناما لیکس کے قضیے کا فیصلہ کریں۔عمران خان ذاتی طور پر یہ سمجھتے تھے کہ عدلیہ پر کرپشن کے خاتمے کے لئے اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

لہذا اس اعتماد کو کو عوامی سطح پراجاگر کرنے کیلئے ضروری تھا کہ عمران خان اس کا عملی ثبوت دیتے اور ان کیلئے اس کا سب سے بڑا عملی ثبوت یہی تھا کہ وہ اپنے دو نومبر کے لاک ڈائون کو ملتوی کر دیتے اور انھوں نے ایسا ہی کیا اور لاک ڈائون کو یومِ تشکر میں بدل دیا ۔عمران خان نے لاک ڈائون کا فیصلہ واپس لینے کا فیصلہ کر کے اپنے سیاسی مخالفین کو ناک ڈائون کر دیا۔کیا چال چلی ہے عمران خان نے ۔اس چال سے عمران خان پہلی بار ایک حقیقی سیاستدان نظر آیا ہے۔ایک ایسا سیاستدان جس کی چالوں کو سمجھنا اس کے مخالفین کیلئے مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔پہلے وہ ایک کھلاڑی تھا لیکن یکم نومبر کووہ ایک چالاک سیاستدان کے روپ میں نظر آیا۔اس نے اپنی دانشمندی سے مخالفین کو مبہوت کر دیا۔وہ سر پکڑے سوچ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو گیاہے؟ وہ تو لاشیں گرائے جانے کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے لیکن عمران خان نے ایک ہی بائو نسر سے انھیں زخمی کر دیا ہے اور وہ زمین پر لیٹے ہوئے اپنے زخم سہلا رہے ہیں۔عمران خان کے اس اعلان نے پی پی پی کی صفوں میں صفِ ماتم بچھا دی ہے ،وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ عمران خان پر چڑھ دوڑی ہے اور اسے یو ٹرن خان کے نام سے پکار رہی ہے۔

وہ اس پر مک مکا اور عوام کو دھوکہ دینے کے الزامات لگا رہی ہے اور اس نئے فیصلے سے سٹپٹا رہی ہے۔اسے تو اس فیصلے کو خوش آمدید کہنا چائیے تھا، خوش ہونا چائیے تھا کہ جمہوریت بچ گئی ہے، ملک غیر جمہوری اقدام سے محفوظ ہو گیاہے اور ان کی قیادت نے جس جمہوری نظام کیلئے اپنی جانیں قربان کی تھیں اسے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔یکم نومبر کو عمران خان کا لاک ڈائون کو ملتوی کرنے کا اعلان جمہوریت کی عظیم فتح ہے اور اس فتح کا پی پی پی کو بھی جشن منانا چائیے تھا ۔اب نہ تو دھشت گردوں کا خطرہ ہے اور نہ ہی نظام کے ہائی جیک ہو جانے کا احتمال ہے لہذا جمہوری قوتوں کو عمران خان کے ہاتھ مضبوط کرنے چائیں تا کہ تلاشی کی یہ کاروائی آزادانہ ماحول میں بخیر و خوبی سر انجام پا جائے اور ایسی روائت شروع ہو جائے جس میں کسی بھی حکمران کو قومی دولت سے کھیلنے کا موقعہ نہ مل سکے۔،۔

Tariq Hussain Butt

Tariq Hussain Butt

تحریر : طارق حسین بٹ