ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے

 Pakistan

Pakistan

تحریر: شاہ بانو میر
آج کا دن تاریخی ہے کیوں ہم آج سے تمام سیاسی جماعتوں سے سیاسی اختلافات ختم کر کے پاکستان کی ترقی کیلئے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں ‘ مولانا سے میں خود کہتا ہوں ‘ امریکہ کی غلامی اور حد سے بڑہی ہوئی ملک میں دخل اندازی وک کشکول توڑ کر پیچھے کرنا ہوگا امن مذاکرات کیلئے امریکہ کوکہنا ہوگا کہ ہمیں اپنے ملک خطے کے اسےحکام کیلئے جو مناسب لگے گا آپ ہمیں ڈکٹیشن نہ دیں پہلے بھی پرامن مذاکرات کو تباہ کیا گیا یہ ہیں عمران خان گرجنے برسنے اور چیخ و پکار کرنے والے عمران خان کی سچائی کو آج سچی کامیابی ملی ہے۔

انداز بیاں آج پختہ سیاستدان جیسا تھا یہی ضرورت تھی شائد نرمی کی وجہ کچھ اور بھی ہے قدرت جسے اچھائی کیلئے چن لے اس کو آزمائش میں ڈالتی ہے اور جن کو دنیا میں کامیابی دے کر آخرت چھین لینی ہو انہیں یہیں خوب نوازتی ہے عمران خان کی سچائی سے کسی کو انکار نہیں دشمن بھی ان کی سچائی کی تعریف کرتا ہے اور کہنے والے کہتے ہیں کہ اگر عمران خان دوسری جماعتوں سے آنے والوں کی باتوں سے مرعوب ہو کر درمیا ن میں اپنی سیاست کو نہ تبدیل کرتے اور اسی دھن میں چلے جاتے تو تاریخ بن جاتی لیکن تا ریخ نے سیاست کی چالاکیوں اورجانبازوں کی قربانیوں کو بھی واضح کرنا تھا اسی لئے یکلخت جنرل راحیل ابھرے اور چھا گئے۔

Imran Khan

Imran Khan

دوسری طرف بار بار کے اشتعال ہنگامہ آرائی پر مبنی سیاست سے عمران خان کو باز رکھنا کسی سیاسی بندے کی بس کی بات نہیں تھی ایسے جارحانہ عزائم لوگوں کو قدرت توڑتی ہے ان کو ان کے ارادوں کو یوں مسخ کرتی ہے آفات سے مسائل سے پریشانیوں سے کشھ یہی عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے وہ زمینی اداروں کو آباد کر کے اچھا نظام وضع کرنا چاہتے ہیں لیکن افسوس سیالب ہو یا زلزلہ جیسے قسدرت نے عمران کو ڈھالنے تک خیبر پختون خواہ کو چن لیا ہے۔

پے درپے آسمانی آفات اور بار بار وفاق کا انکے ساتھ باوجود زیادتیوں کے ہمدردانہ رویہ عوام میں نواز شریف کو مقبول اور عمران خان کو غیرمقبول بنا رہا تھا (سروے کے مطابق ) وقت نے لہجے کی غرور کو اللہ کی ہدایت عطا فرمائی اور آج کا دن مبارک ہے جب پرانے اسپیکر ایاز صادق حلقہ 122 کے تاریخی الیکشن میں جیت کر آنے والے اسپیکر کے سامنے عمران خان نے انتہائی منجھے ۃوئے سیاستدان کی طرح تقریر کی لہجے میں موجود ہلکی سے لرزش بتا رہی تھی اپنی یہ شکست انہیں تکلیف دے رہی ہے لیکن بلند مرتبت انسان وہی ہے جو جھکنا سیکھے گا وہی پھلدار درخت ہوگا۔

آج تمام سیاسی جماعتوں سے اختلافات ختم کر کے مل کر کام کرنے اور امریکہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں ڈو مور کہنے سے اجتناب کیلئے کہا گیا ہے عمران خان نے مولانا فضل الرحمن سے بھی معذرت کی اور بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی سالمیت اور اس کی ترقی کیلئے مل کر کام کرنے اور اختلافات کو ختم کرنے کی پیشکش کی تمام نمائیندگان نے بھرپور انداز میں ڈیسک بجا کر تائید کی مبارک ہو اہلیان وطن جب میں لکھتی تھی کہ عمران خان کو درست ہونا ہوگا کیونکہ تقدیر نے ان کو بہترین صلاحیتوں سے نوازا ہے لیکن وقت کے مطابق پہلے غریب کارکنان کو متحرک کیا پھر پلان 2 کے تحت شکاری تمام سرمایہ دار اسکی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے خاملوش ناموں کو زندہ کرنے کی جدو جہد میں لگ گئے عمران خان پاکستان تو ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

America and Pakistan

America and Pakistan

انشاءاللہ اب آپ اپنی پارٹی کی طرف توجہ دیجئے اور ذرا حقائق ملاحذہ کریں کہ انصاف کا نعرہ لگانے والے آپ اپنی ہی پارٹی میں کس طرح شعبوں میں روایتی سیاسی انداز اپنائے ہوئے ہیں نہ کہیں انصاف ہے اور نہ کہیں انصاف مانگنے والوں کی قطاریں دوسرے اداروں سے لوگوں کو لالچ دے کر واپس لانے کی کھینچا تانی بتا رہی ہے کہ اب قریب المرگ ہے شعبہ ذرا اب اَک نظراپنے گھر یعنی تحریک انصاف پر بھی ایک احتساب کا شعبہ یہاں بھی قائم کریں تا کہ اوپر سے نیچے تک سب کا احتساب ہو سکے اور جیسے آپ ہیں ویسے ہی بلند سوچ کے ساتھ کام کرنے والے لوگ سامنے آئیں۔

یہاں تو لگتا شکاری گھات لگائے بیٹھے کہ کب کہاں سے کس کو شکار کر کے کمزور وجود کو طاقت فراہم کرنی ہے امید ہے کامیاب سیاست کے آغاز کے ساتھ کامیاب پارٹی کا بھی آغاز کریں گے امریکہ میں جاری مقدمے کی گونج پر اگر یہ تبدیلی ہے تو پھر محض مذاق بنے گا اور مخالفین آپکو میڈیا پر ناکوں چنے چبوا دیں گے اگر زمینی حقائق کو جانچ کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مفاہمتی سیاست ہوگی تو پھر کامیابی کے امکانات روشن ہیں خدا آپکو مستقل مزاجی کے ساتھ پاکستان کیلئے بہترین سیاست کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

ورنہ سیاسی شور شرابہ اور آج صلح کل ناراضگی
ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر: شاہ بانو میر