ڈاکٹر محمد مظہر حسین کے مکان پر حجاج کرام کے اعزاز میں استقبالیہ اجتماع

Patna

Patna

پٹنہ : مکہ معظمہ میں وحدانیت کا اور مدینہ منورہ میں اجتماعیت کا پورا احساس ہوتا ہے اور یہی اسلام کی اساس ہے۔ یہ باتیں پٹنہ یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو پروفیسر جاوید حیات نے اتوار کو فرنڈس کالونی ، پٹھان ٹولی، عالم گنج میں ڈاکٹر محمد مظہر حسین کے مکان پر حجاج کرام کے اعزاز میں منعقد کئے گئے ایک استقبالیہ اجتماع میں کہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرزمین عرب میں داخل ہوتے ہی ”لا” کا احساس غالب ہونے لگتا ہے یعنی کوئی نہیں ہے سوائے اللہ کے۔ وہاں کسی زبان کا بولنے والا ہویا کسی خطہ کا رہنے والا ہو سب بس ایک ہی کا طواف کرتا نظر آتا ہے جو اس بات کا پیغام ہے کہ ہم پوری زندگی میں بس ایک ہی کا طواف کرتے رہیں۔ پروفیسر جاوید حیات نے کہا کہ حج کے موقع پر جیسے ہم لوگ ایک رنگ میں ہو جاتے ہیں ویسے ہمیں یہاں بھی ایک ہی رنگ میں رہنا چاہئے۔ اس موقع پر شمیم اختر نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج سے قبل نماز کے اثرات مجھ پر مرتب نہیں ہوتے تھے۔

لیکن حج بیت اللہ سے واپسی کے بعد اللہ کا شکر ہے کہ نماز پڑھتے وقت وہاں کے اثرات برقرار ہیں اور مجھ میں کافی تبدیلی بھی آہی ہیں۔تنویر حسن نے مشورہ دیا کہ لوگوں کو کم عمر میں ہی حج کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کیوں کہ ضعیفی میں لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ جامع مسجد کے امام مولانا محمد دستگیر ندوی نے کہا کہ خیال و خواب کی دنیا سے جب میں حقیقت کی دنیا میں پہنچا تو دل کی کیفیت ہی کچھ اور تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا انعام ہے جس کی ترغیب لوگوں کو دینی چاہئے۔ مولانا دستگیر ندوی نے کہا کہ حج کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ ہم پوری طرح مسلمان ہو جائیں۔ اس موقع پر عظمت حیات خان، مختار احمد اور عمران احمد نے بھی اپنے تاثرات اور مشاہدات بیان کئے۔

اپنے ابتدائی کلمات میں ڈاکٹر محمد مظہر حسین نے اس اجتماع کی غرض و غایت بیان کی اور کہا کہ 2010 سے ہی وہ حجاج کرام کے اعزاز میں یہ اجتماع کرتے رہے ہیں۔ یہ اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ اجتماع کی کاروائی کا آغاز حافظ شہباز کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اجتماع میں سید ظفر الحسن، محمد عبدالغفار، ایس ایم ریاض احمد، سید افضال مصطفی، سید نواز مصطفی، سید امیر مصطفی، محمد نظام الدین، تنوری احمد ندوی، رضا اللہ اور سید مظفر عالم بھی موجود تھے۔