ای سی جی

ECG

ECG

تحریر: شاہد شکیل
آج کے ترقی یافتہ دور میں دنیا کے تقریباً ہر ہاسپیٹل کے علاوہ ایک عام ڈاکٹر کے پاس بھی جدید ترین مشینیں موجود ہیں جن سے فوری ٹیسٹ یا بیماری کی تشخیص کے بعد پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ مریض کی موجودہ تکلیف کے سبب کون سا طبی لائحہ عمل تیار کیا جائے کہ وہ شفایاب ہو جائے، کئی جدید مشینوں میں ایک مشین ای سی جی بھی شامل ہے جسے الیکٹرو کارڈیو گرام کہا جاتا ہے اندرون طب میں اس مشین کو سب سے اہم تحقیق کا طریقہ کار شمار کیا جاتا ہے بذریعہ الیکٹرک انسٹرومنٹس اور عوامل سے دل کے پٹھوں کے گراف کی جانچ و تحقیق کرنے میں یہ مشین ڈاکٹر کے لئے ممکنہ آسانی پیدا کرتی ہے جس سے ڈاکٹر فوری نتائج حاصل کرتے ہیں،اس مشین کے ذریعے دل کے پٹھوں کی حرکات و سکنات ، دھڑکن کے کنٹرول اور کونٹریکشن سے پتہ لگایا جاتا ہے اور مخصوص طرز عمل سے نتائج حاصل کئے جاتے ہیں۔

مث۔لاً دل کی ہر دھڑکن کو مکمل طور پر کنٹرول کرنا ،دھڑکن کی تبدیلی اور دل کی حرکات کو کنٹرول کیا جاتا ہے،طبی زبان میں ایسا کہا جاتا ہے کہ ای سی جی وہ مشین ہے جو برقی پاور سے بہت کمزور سگنل کو بھی نہایت باریک بینی سے سرچ کرنے کے بعد مانیٹر پر پیش کرتی ہے یا ٹیسٹ اور رپورٹ کو فوری پرنٹ آؤٹ بھی کیا جا سکتا ہے جس سے ڈاکٹر اور مریض واضح طور پر نتائج دیکھ سکیں اور ڈاکٹر بیماری کے پیش نظر مریض کو مشورہ دے سکیں۔اٹھارہ سو بیاسی میں برطانوی فزیولوجسٹ آگسٹس ویلر نے اسے ایجاد کرنے کے بعد پہلا تجربہ اپنے جمی نامی کتے پر کیا جس میں اسے کامیابی حاصل ہوئی، بیسویں صدی کے آغاز میں ڈَچ ویلم آئینٹ ہوون نے نئی تحقیق و ٹیکنالوجی سے اس مشین کو مزید بہتر بنایا اور پہلی بار انسانوں پر استعمال کیا اس دور میں قابل ذکر بات یہ تھی کہ تھیوری کے اعداد وشمار کے مطابق بذریعہ مشین دل کی دھڑکن پڑھنے کے قابل تھی اور اس انقلابی ایجاد اور کامیابی پر ویلم کو انیس سو چوبیس میں میڈیسن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

Heart Disease

Heart Disease

آج تقریباً ایک صدی کے طویل عرصے بعد بھی طبی پریکٹس میں ای سی جی ناگزیر بن گئی ہے ،ڈاکٹرز برقی سسٹم سے دل کو مختلف اینگل اور طبی لحاظ سے دیکھتے اور پرکھتے ہیں مکمل معائنہ کے بعد اہم معلومات حاصل کرتے اور مریض کو تمام جسمانی فنکشن سے اطلاعات فراہم کرتے ہیں بدیگر الفاظ ڈاکٹر ز کیلئے اتنا جان لینا ہی کافی ہوتا ہے کہ دل کے کس حصے میں کون سی بیماری ہے ،دل اور دھڑکن کا ریدھم کیسا ہے، دل کے پٹھوں میں انفیکشن تو نہیںیا دل کا دورہ پڑنے کے کتنے امکانات ہیں وغیرہ ۔ای سی جی کے استعمال کا طریقہ بہت سادہ ہے یہ مشین جسمانی سسٹم کی سر گرمیوں کو مفصل طریقے سے کنٹرول کرنے، دل کے نظام اور خون کی سرکولیشن کے کنٹرول اور شریانوں کو پمپ کرنے کے وقت استعمال کی جاتی ہے۔

ان تمام عوامل سے ڈاکٹرز کو بتدریج جانکاری ہوتی رہتی ہے اور بروقت بیماری کا علاج کیا جاتا ہے،اس نظام کے تحت ہڈیوں ،پٹھوں کے خلیات کا موازنہ بھی کیا جاتا اور دل کی دھڑکن کی فریکیونسی کو کنٹرول کیا جاتا ہے جسے طبی زبان میں پیس میکر کہا جاتا ہے اس عمل سے تعین کیا جا سکتا ہے کہ دل کے پٹھوں کے خلیات میں بذریعہ پھیپھڑوں اور دیگر جسمانی اعضاء سے صحت کے نظام میں کہاں تبدیلی واقع ہو رہی ہے ،ان تمام مراحل کے دوران برقی توانائی کی وولٹیج میں پیش رفت ہونے کے سبب تبدیلیاں بھی پیدا ہوتی ہیں جنہیں جسم کی سطح کو برقرار رکھنے کیلئے اتار چڑھاؤ کے ذریعے مسلسل گرفت میں رکھنا لازمی ہوتا ہے ، دوران ٹیسٹ ای سی جی بدستور سگنل ریکارڈ کرتی رہتی ہے جو ڈاکٹر کی نظر میں رہتا ہے اور دل کے ایکشن یا ری ایکشن کی صورت میں خوبی یا خامی سے آگاہی ہوتی ہے۔

ECG

ECG

ہر الیکٹرو کارڈیو گرافی سے قبل مریض سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کسی قسم کی ادویہ استعمال کرتا ہے یا کسی بیماری میں مبتلا تو نہیں مثلاً قلبی نظام کی خرابی سے دوچار تو نہیں کیونکہ دونوں صورتوں میں ٹیسٹ رپورٹ کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں ،مریض کو دوران ٹیسٹ بیڈ پر لٹا دیا جاتا اور جسم کے مختلف حصوں میں دس الیکٹروڈ منسلک کئے جاتے ہیں دونوں بازؤوں اور ٹانگوں کے علاوہ چھ الیکٹروڈ سینے پر ایک مخصوص جیل کے ذریعے چپکائے جاتے ہیں تاکہ جِلد سے رابطے میں رہیں، بعد از ٹیسٹ چند منٹ بعد مانیٹر یا پرنٹر تمام رپورٹ ڈاکٹر تک پہنچا دیتے ہیں جس کا مطالعہ کرنے کے بعد ڈاکٹرز مریض کو علاج کا مشورہ دیتے ہیں۔ای سی جی کاا ستعمال عام طور پر دل کی دھڑکن کی سست روی ، پوٹاشیم کی کمی کے باعث الیکٹرو لائٹ میں روکاوٹ ، دل پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ،منشیات کا زیادہ استعمال ،پھیپھڑوں کی بیماری ،آپریشن سے قبل کے علاوہ روٹین چیک اپ میں الیکٹرو کارڈیوگرافی کی جاتی ہے۔

ای سی جی کی کئی قسم کی کیٹاگریز ہوتی ہیں لیکن تمام کیٹا گریز سے انسانی جسم کو کوئی خطرہ لاحق نہیں اور نہ کسی قسم کے ضمنی اثرات ظاہر ہوتے ہیں لیکن کئی سیریس معاملات میں ڈاکٹرز اور ہاسپیٹل کا عملہ دوران ٹیسٹ مریض کی نگرانی کرتے ہیں مثلاً اگر مریض کو چکر آئیں، چھاتی میں تکلیف ہو یا سانس لینے میں دشواری ہو تو فوری طور پر ٹیسٹ سسٹم کو بند کر دیا جاتا ہے۔

Shahid Sakil

Shahid Sakil

تحریر: شاہد شکیل