بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو عورتوں سے لڑتا ہے

Karachi Incident

Karachi Incident

تحریر : شاہ بانو میر
بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو عورتوں سے لڑتا ہے یہ وہ اچھے زمانے تھے جب گھر کچے اور جزبے سّچے ہوا کرتے تھے ـ لالچ حسد سے پاک پاکستانی سادہ سا معصوم معاشرہ بڑے سکون سے آگے کی جانب بڑھ رہا تھا ـ ناگہاں آمریت کی ایسی ہوا چلی کہ ہوتی ہوئی ترقی رک گئی ـ ملک 30 لاکھ مہاجرین کے بوجھ سے کانپنے لگا ـ ہمسایہ ملک میں جہادی کوشش نے پاکستان کا رزق بھی وہاں چوری چھپے پہنچا دیا اور ہماری پرسکون زندگی کا سکون بھی ـ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں واضح طور پر حقوقِ نسواں نامی بیماری اس تیزی کے ساتھ نہیں بڑہی تھی ـ مناسب سی تعداد تھی پڑہی لکھی خواتین کی اور ان میں اچھے شریف خاندان کی خواتین تھیں جو خاندانی اثرات کی وجہ سے توجہ کام پر رکھتی تھیں ـ یہی وجہ تھی کہ خواتین کا احترام اسلام کے عین مطابق تھا ـ

کہیں کسی خاتون پے زیادتی ہو جاتی تو بلا تفریق سب کے سب اس کے تحفظ کیلئے آن کھڑے ہوتے ایک خوبصورت مکمل اسلامی معاشرہ پھر ہوا یہ کہ مردوں کی سیاستوں نے شہرت حاصل کر کے آسمان کی بلندیوں اور اونچے مقام کی متلاشی خواتین کو یوں کثیر تعداد میں آزادی نسواں تعلیمی آزادی کے نام پر گھر سے باہر نکالا کہ دہلیز کو عبور کرنا گویا معاشرہ تبدیل کرنے کے مترادف ہوگیاـ عورت باہر نکلی تو سامنا مردوںسے ہوا ـ وہ لحاظ جو گھر میں موجود عام کمزور عورت کا بطورِ ماں بطورِ بہن بطورِ بیٹی خاص لحاظ کیا جاتا تھا ـ

وہ شکاریوں نے جال بچھا کر ماحول کو مصنوعی ترقی کے نام پر جدید بنا کر تبدیل کر ڈالا ـ اب فرق نظر آرہا تھا نہ تو خواتین کی وہ تعظیم رہی نہ وہ ان کامقام کہ کوئی ان کو تحفظ فراہم کرے ـ سب کچھ بدل رہا تھا لیکن عورت آج بھی پاکستانی ہے اور کمزور ہے نہتی ہے زبان کی تیزی اسکی بہادری نہیں اس کے اندر کا خوف ہے ـ عجیب مقابلے کی احمقانہ فضا قائم کی جا رہی ہے جہاں خواتین سے برابری کی سطح پر ہر شعبے میں مرد برسرِ پیکار دکھائی دیتے ہیں اور مضحکہ خیز لگتے ہیںـ عورت کے ساتھ مرد کا کیا مقابلہ؟ مگر دونوں صورتوں میں عورت فاتح ہے اور مرد مفتوح کیونکہ قرآن پاک نے عورت کا مقام مرد کے بعد بیان کیا آدم کی پیدائش کے بعد حوا کی تخلیق اور پھر مرد کو عورت کا کفیل بنا کر مکمل نظام کی وضاحت ـ یا تو عورت اتنی طاقتور ہو گئی

Holy Quran

Holy Quran

اپنی معاشرتی نا ہمواری کی وجہ سے وہ کہ وہ شعلہ جوالہ بنی مرد کیلیۓ مسئلہ بن گئی ـ یا پھر مرد آج کا اتنا کمزور ہوگیا کہ وہ مردوں سے مقابلہ کرنا مشکل سمجھ کر ہر شعبے میں عورتوں سے محاذ آرائی کر کے خود کو نمایاں کر لیتا؟ ایسے مرد دراصل کمزور ہیں یہ اپنی ذات کی ناکامی کو کسی بھی عورت کے ساتھ مقابلہ بازی یا تعلق داری سے ظاہر کر کے اپنی ذات کی کمزوری کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ـ یہ تو خود کو اجاگر کر لیتے لیکن ناہموار معاشرے کی جانب پہلا قدم اٹھ جاتا ـ اور اب تو کئی قدم ایسے اٹھ چکے جن کا خمیازہ آج ہم عورت نما کئی مردوں کے رویے کی صورت بھگت رہے ـ آج دکھ اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اسلام کے نام کو جس طرح آج مسخ کر کے پہلے معصوم بچوں کیلیۓ سکول کو ذبیحہ خانہ بنا دیا گیا ـ ابھی وہ زخم مندمل نہیں ہوا تو آج نہتی خواتین کو بغیر کسی عذر کے دہشت گردی کا نشانہ بنانے والے مجاہدوں نے اسلام کا نام لیا ـ یہ کونسا اسلام ہے؟

میرے نبی نے نے مکہ واپسی پر دشمن کے گھر کو جائے امان قرار دے دیا ـ پتے پھل درخت بچے بوڑھے عورتوں کا سر عام امان دی ـ یہ کونسے مسلمان ہیں؟ کس اسلام کے پیروکار ؟ جو خواتین جو اسلام میں ان کو قوام کا درجہ دیتی ہیں آج انہی قوام نے ان خواتین کو گولیوں سے بھون کر کونسی جوانمردی کا مظاہرہ کیا؟ آخر مجھے بھی تو پتہ چلے کہ کس اسلامی شق اور کس قانون کے تحت یہ جائز حلال ہے کہ نہتی خواتین مسافروں کو بھون ڈالو؟ آج بچوں کے بعد خواتین بھی ان جوان مردوں سے پوچھ رہیں کہ ہمارے شہزوروں کا سامنا کرنے سے کترانے والو جاؤ اور جا کر سامنا کرو ہمارے اُن محافظوں کا جو تمہاری تلاش میں دن رات سرگرداں ہیں ـ خواتین پے ہونےوالے آج کے اس المناک حادثے نےپوری دنیا کو چونکا کر لرزا کررکھ دیا ہے ـ

وہ اسلام جو یورپ کو کہتا ہے کہ تم نے عورت کو برابری کا جھوٹا نعرہ دے کر اس کا استحصال کیا ہے اس کی نسوانیت کی توہین کی ہے کیونکہ عورت تو گھر کا چراغ ہے شمع محفل بنا کر اس کی بناوٹ کو اس کی ساخت کو مسخ کر کے نسلوں کو جذبات کی بجائے نظام دے دیا ـ محبت اور ایثار میں گندہی ہوئی ممتا نسل کو نئی شناخت دیتی ہے گھر میں تربیت سے اس کی شخصیت کو نکھار کر سنوارتی ہے اور اچھا انسان بناتی ہے ـ وہ ماں قصور وار نہیں جس کی کوکھ سے ان سب نے جنم لیا کوئی ماں غلط تربیت کر کے بد دعائیں نہیں لیتی لیکن ان بھٹکے ہوئے سر پھروں نے جو آج کیا وہ پوری دنیا میں ایک بار پھر اسلام کو سوالیہ نشان بنا گئے ـ اور خواتین تو ان بچوں کی طرح بس یہی کہتی سنائی دے رہی ہیں کہ بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو عورتوں سے لڑتا ہے؟

Shahbano Mir

Shahbano Mir

تحریر : شاہ بانو میر