یورپ اور برطانیہ میں نئی نسل کیلئے یہ تعصبانہ رویہ مستقبل میں زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے، سید سعید احمد

Syed Saeed Ahmed

Syed Saeed Ahmed

لندن (ایس ایم عرفان طاہر سے) فرانس دھماکوں کے بعد برطانیہ اور یورپ بھر میں مسلم کمیونٹی کے خلاف پیدا ہونے والی صورتحال پر میڈیا سروے میں مختلف مکاتب فکر کا اظہار خیال چیئرمین تھرڈ ورلڈ سولیڈیرٹی برطانیہ مشتاق احمد لاشاری نے کہاکہ مسلم کمیونٹی کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ برطانیہ اور یورپ میں ایک اقلیت ہیں اس لیے نہ تو ہمیں اپنے مذہب ثقافت اور روایات کو دوسروں پر تھو نپنا چاہیے اور نہ ہی اپنا کلچر چھوڑنا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ تمام مذہبی اختلافات کو پس پشت ڈال کر جمہو ری اقدار اور انسانیت کی بنیاد پر ہم پر امن معاشرہ قائم کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں زبان سے ہی نہیں بلکہ اپنے عمل کے زریعہ سے اپنے آپ کو اس معاشرہ میں باکردار اور امن پسند ثابت کرنا ہوگا تا کہ دیگر کمیونٹی کویہ پتا چلے کے انتہا پسند اور دہشتگرد ہم سے مکمل طور پر جدا ہیں۔ عامرہ شاہ چیئرپرسن پی ڈبلیو ٹی و شاہ ویلفیئر سوسائٹی برطانیہ نے کہاکہ پیر س میں حملہ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ دہشتگرد یورپ میں منظم ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ان واقعات سے تعصبانہ رویہ یا نفرت پیدا کرنے کی بجا ئے سبق حاصل کرتے ہو ئے تمام کمیونٹیز کو بلا امتیاز ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہونا پڑے گا۔

انہوں نے کہاکہ یہ کسی ایک مذہب یا ملک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پو ری دنیا اسکا شکار دکھائی دیتی ہے اور دہشتگرد قوتوں کو مات دینے کے لیے اتفاق وا تحاد سے ایک منظم اور مربوط پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ سابق لا رڈ میئر آف برمنگھم کونسلر شفیق شاہ نے کہاکہ پیر س میں حالیہ حملہ کے خلاف دیگر کمیونٹیز کے ساتھ مسلمانوں نے بھی بھرپور مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ محض برمنگھم 187 مختلف شناختوں پر مشتمل علاقہ ہے جہاں پر بسنے والی تمام کمیونٹیز دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلا ف متحد و منظم ہیں۔ انہ

وں نے کہاکہ پیر س واقعہ کے بعد کوئی میجر واقعہ مسلمانوں کے خلا ف شدت پسندی یا تشدد کا پیش نہیں آیا ہے با قی چھوٹے موٹے حادثات کو روکنے کے لیے سیکیورٹی ادارے اور پولیس فورسز ہمہ وقت مصروف عمل ہیں ۔ انہو ں نے کہاکہ برطانیہ میں موجود تمام مذہب سے وابستہ افراد دہشتگردی کے تناظر میں پیش آنے والے دنیا کے تمام واقعات کو مسترد کرتے ہیں اور اپنے ملک اور علاقے کے امن و امان اور خوشحالی کے لیے ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ داعش اور اس سے وابستہ تمام منفی قوتیں یورپ اور برطانیہ میں بسنے والی مختلف شناختوں کی حامل کمیونٹیز میں خوف پیدا کرنا چا ہتی ہیں اور انہیں تقسیم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں مل جل کر انکے ان منفی عزائم کا جرات اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کرنا ہو گا ۔زرقا احمد چیئر لیڈر BAME بری کونسل نے کہاکہ پیرس واقعہ کے بعد برطانیہ بھر میں مسلمانوں کے خلا ف تشدد اور نفرت کے واقعات میں خاصا اضافہ ہو ا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کی وجہ سے مسلم کمیونٹی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے اسکے باوجود بھی انہیں مورد الزام ٹھہرانانا انصافی ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ داعش کے اقدامات سراسر اسلام اور شریعیت کے منافی ہیں ان نام نہاد مسلمانوں کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ تعصبانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

سردار آفتا ب خان نے کہا کہ ہما رے علماء و مشائخ اسلام کی آفاقی تعلیمات کو فروغ دینے کی بجا ئے اپنے اپنے مسالک کو پرموٹ کرنے میں مصروف ہیں جس کی بدولت مسلمان اجتماعی سطح پر نفرت اور تعصب کا شکار دکھائی دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ ہما رے پاس انتہا پسندانہ سوچ اور دہشتگردی کا داغ دھونے کے لیے کوئی خا طر خواہ حل بھی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے انتہا ئی نامساعد حالات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مذہبی زعماء کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو تبلیغ کرنے کی بجا ئے غیر مسلموں پر زیادہ توجہ دیں تا کہ اسلام کا ایک حقیقی تشخص اور وقار ابھر کر دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔

انہوں نے کہاانتہا پسندی اور دہشتگردی کو مات دینے کے لیے اسلام کے اصل چہرہ کومتعارف کروانا ہو گا ۔کونسلر مریم خان نے کہاکہ پو ری امت مسلمہ اسوقت نازک دور سے گزر رہی ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ پیرس اور دنیا بھر میں دہشتگردی کے واقعات رونما ہو نے پر جو انہیں ردعمل کا سامنا ہے اس پر انہیں مکمل صبر و تحمل اور برداشت کا مظا ہرہ کرنا ہو گا ۔ انہو ں نے کہاکہ ہم جس نبی رحمت ۖ کے امتی ہیں ان پر انتہائی مشکل حالات آئے لیکن انہو ں نے کبھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا انکی پیروی کرتے ہوئے ہمیں بھی صبر و تحمل اور برداشت کا دامن نہیں چھوڑنا چا ہیے تا کہ برطانیہ اور یورپ میں رہنے والی دیگر کمیونٹی کو یہ احساس پیدا ہو جائے کہ مسلمان ایک پر امن اور مہذب کمیونٹی ہے انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کا ہم سے کوئی تعلق ناطہ نہیں ہے۔

سید سعید احمد وائس پریذیڈنٹ انسپا ڈ یورپ نے کہا کہ یو رپ اور برطانیہ میں ہما ری نئی نسل کے لیے یہ تعصبانہ اور نفرت آمیز رویہ مستقبل قریب میں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ تمام مسلم کمیونٹی اس نارواسلوک اور اقدامات کی بھرپورمذمت کرتی ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ ایسی منفی سرگرمیوں سے مسلم کمیونٹی کے لیے یورپ اور برطانیہ میں خاصے مسائل پیدا ہو رہے ہیں جن کے تدارک کے لیے کوئی مضبوط حکمت عملی اپنانا ہو گا۔ ریڈیو پریذنٹر مبین حفیظ نے کہاکہ دہشتگردی برطانیہ میں ہو پاکستان یا پیر س میں مسلمان ہمیشہ اسکی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہما را دین ایک انسان کے قتل کو پو ری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب ویسٹر ن میڈ یا دہشتگردی یا انتہا پسندی کے ان واقعات کو مسلمانوں کے ساتھ جوڑتا ہے تو اسکا ردعمل بھی زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جو دہشتگرداور نام نہاد جہادی دنیا کے اندر تصادم اور لڑائی کو تقویت پہنچا رہے ہیں ان کے خلا ف اتفاق و اتحا د کے ساتھ ہمیں ایک ساتھ جنگ لڑنا ہو گی ۔نوجوان صحافی و مصنف سید کاشف سجاد نے کہاکہ پیر س بم دھماکوں کی مذمت میں تمام کمیونٹیز کے ساتھ ساتھ ایشین مسلم کمیونٹی نے بھی شدید ردعمل کا اظہا ر کیا ہے لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ ناروا سلوک میں بے حد اضا فہ ہوگیاہے ۔ انہو ں نے کہاکہ ویسٹرن میڈیا اسلام کو دہشتگردی کے ساتھ جوڑ کر مسلمانوں کے خلا ف نفرت کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فطری طورپر جب مسلمان اور غیر مسلم کے خون کا رنگ ایک ہے تو پھر یہ نفرتیں قدورتیں اور مخالفتیں کیوں دکھائی دے رہی ہیں ۔ انہو ں نے کہاکہ اسلام درحقیقت امن سچائی اور محبت کا دین ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہما را دین برائی انتہا ئی پسندی اور دہشتگردی کی بھرپور مذمت کرتا ہے پھر اسکے ساتھ ایسی منفی سرگرمیوں کو جوڑنا مسلمانوں کے خلا ف ایک بہت بڑی ساز ش کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہما را دین انسانیت کے ساتھ محبت اور مواخات کا درس دیتا ہے پھر کس طرح یہ جواز پیدا ہو سکتا ہے کہ انسانی جان کو خیر پہنچا نے والے نا حق کسی کا خو ن بہانے لگیں ۔ انہوں نے کہاکہ جب بھی دہشتگردی یا انتہا پسندی کا واقعہ دنیا کے کسی بھی کونے میں پیش آتا ہے تو اسکا سارا ملبہ مسلم امہ پر مجموعی طور پر گرایا جاتا ہے جس کی سب سے بڑی مثال 9/11 کے بعد دنیا بھر میں پیدا ہو نے والی مسلمانوں کے خلاف نفرت اور بد سلوکی ہے ۔ حدیبہ شاہ نے کہاکہ جب میڈیا کسی بھی بات کو ابھارتا ہے تو لوگ اسے سچ سمجھنا شروع کردیتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کسی منفی شخص کے انفرادی عمل کو پو ری مسلم کمیونٹی یا اسلام سے جوڑنا درست نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے ان واقعات کی وجہ سے مسلمانوں کی زندگی کی قیمت کم ہوری ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ گمراہ کن سوچ اور بے راہ روی کے شکار نام نہاد مسلمانوں کے عمل کی وجہ سے حقیقی مسلمان بھی متا ثر ہو رہے ہیں ۔عبد اللہ رحمن چیف ایگزیکٹو آفیسر بالسل ہیتھ فورم نے کہاکہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کا سب سے زیادہ شکار اور متاثر مسلمان اور اسلام دکھائی دیتا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ آج ایک شخص کے انفرادی عمل کو پو ری قوم اور مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا ہے ۔ماریہ خان نے کہاکہ جس ملک کی اکثریت کو نقصان پہنچے گا تو وہاں اقلیتوں پر ردعمل ایک فطری شے ہے ۔

انہوں نے کہا کہ انتہا پسند اور دہشتگرد جو بھی اقدامات اٹھا رہے ہیں اسلام اور مسلمانوں کے نام پر ان کی سزا مجموعی طور پر مسلم امہ کو بھگتنا پڑے گی ۔ انہو ں نے کہاکہ سوشل میڈیا اور دیگر زرائع کے منفی استعمال سے بھی دونوں اطراف کے لوگوں کے جذبات ابھا رے گئے ہیں جن کی وجہ سے حالات مزید بگڑتے اور کنٹرول سے باہر ہو تے ہو ئے دکھائی دیتے ہیں ۔