گردی کی باقی اقسام نا منظور

Exact

Exact

تحریر: شاہ بانو میر
بچپن سے اکثر بھائی دیر سے گھر آتے یا سکول کا کام نہ کرتے تو ڈیڈی جان اکثر ایک لفظ بولتے آوارہ گردی سے فرصت ملے تو سکول کا کام دھیان سے کریں ناں اس زمانے میں ایک ہی لفظ تھا گردی سے متعلقہ آوارہ گردی لیکن ہم نہیں جانتے تھے کہ بچوں کی معصوم کرکٹ کی سرگرمی یا فٹ بال کے میدان میں لیٹ ہونے والی آوارہ گردی کبھی پاکستان کے اندر کسی اور خوفناک رخ سے ایسی بڑہے گی کہ اس کی نسل کی شاخیں بڑہتی جائیں گی۔

چند سالوں کے اندر اندر پاکستان کا سادہ ماحول باہمہ ہمدردی بھائی چارہ خلوص پتہ نہیں کہاں پر لگا کر اُڑ گیاـ غیر ملکی میڈیا کی یلغار نے عجیب قسم کی سرد مہری اور مقابلے کی بے مقصد دوڑ میں ہر سچائی پر مبنی ہماری روایت کو بہا دیاـ پیسہ پیسہ اور صرف پیسہـ اور جو اس دوڑ میں پیچھے وہ آج بیوقوف احمق کم عقلـ اور جو اس پیسے کیلیۓ دین کو سوچ کو ایمان کو وطن کو بیچ گئے وہ گردی کو ہر شعبہ حیات میں نافذ کر کے اپنے ساتویں آسمان کی بلندیوں کا عروج راز کھلنے پر ایگزیکٹ کی صورت دیکھتے ہیںـ پاکستان کے ایک دہائی سے بگڑتے دگرگوں حالات آوارہ گردی کی مد میں جتنے خستہ حال پریشان نوجوان شائد ان سب کو بھانپ گئی اور ان کو ان راستوں پر لے گئی محض پیسے کی چمک دمک سے کہ جو ان کے اپنے وطن کیلیۓ زہرِ قاتل تھےـ۔

دہشت گردی نے ایسی چادر تانی کہ ملک کے سادہ تروتازہ ماحول نے بد گمانی اور وحشت کی صورت بنا لی جس آج تک برقرار ہے ـمعاشی اقتصادی سماجی سنجیدہ مسائل نے لوگوں کے ہونٹوں سے مسکراہٹ چھین لی ـ ذہن گوناگوں الجھنوں کی آماجگاہ بن گیاـ ایسے میں گھر میں موجود بچوں کے خالی پیٹ اور پپڑی جمے ہونٹ حب الوطنی کا درس بھلا کر دہشت گردی کی ترغیب آسانی سے یاد دلا دیتے ہیںـ۔

باہر کے شکاری بڑے بڑے اداروں کو تباہ کر کے پاکستان کو کاری ضرب لگا چکے تھے میدان اقوام عالم کے ساتھ کھیلوں کا ہو یا سیاست کا ثقافت کا ہو یا باہمی روابط کا ہر محاذ پر پوشیدہ فلمیں بنا کر پاکستان کا تاثر اس قدر پراگندہ کر دیا گیا کہ پاکستان تن تنہا ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے لگاـ اندرون ملک شورشیں بپا کر کے ہمیں بیرونی دنیا کے ساتھ تجارتی روابط سے روکنے والے کامیابی پہر شادیانے بجاتے رہے ـ نوٹوں کی بوریاں کوئی دبئی میں وصول کرتا رہا اور کوئی پاکستان میں وصولی کے بعد حسیناؤں کی مدد سے انہیں وہاں منتقل کرتا رہاـ دہشت گردی کرنے والے کمزور ذہن جب غریب عوام کو دن رات کسی خزاں رسیدہ پتے کی طرح اڑانے لگے تو لوگوں کا سلامتی سے یقین اٹھنے لگا رویوں میں غیر یقینی کیفیت نے معاشرتی صورتحال مزید تباہ کر دی ـ
یوں رویوں کی شدت نے ہر ادارے کو گردی کی چھاؤں میں لا کھڑا کیاـ۔

Terrorism

Terrorism

معمولی معمولی باتوں پر جان لے لینا تو گویا دہشت گردوں نے اتنا آسان کر دیا کہ کہ پولیس نے پولیس گردی کیلیۓ بہانہ بنایا اور جان لے لی دوسری جانب پڑھا لکھا طبقہ وکلاء کا احتجاج کرتا ہے لیکن ایک پڑھے لکھے اور ان پڑھ کے احتجاج میں واضح فرق ہونا چاہیے لیکن وہی رویوں کی شدت یہاں ہمیں بار بار عدلیہ کی جانب سے منصفانہ کاروائی کے وعدے کے بعد بھی وکلا گردی پاکستان میں دکھائی دے رہی ہے ـ سیاستدانوں کیلیۓ کسی بات کو مزاج کے خلاف برداشت کرنا گویا ان کی توہین ہے وڈیروں کی ذہنیت رکھنے والے آج اجلے لباسوں میں ملبوس یہ سیاستدان اندر سے آج بھی ویسے ہی سفاک ظالم اور غرباء کیلیۓ قہر کی صورت ہیں سیاستگردی کی مثالیں تو آئے روز ہم اس ملک میں دیکھتے رہتے ہیں ہمیں کوئی اچنبھا نہیں ہوتاـ۔

مطالبات کی منظوری میں تاخیر ہوئی نہیں اور ڈاکٹر گردی شروع ہوئی نہیں ـ یہ آج کا المیہ ہے کہ رویوں میں عدم استحکام اور نا مناسب اشتعال ہمارے معاشرے کیلیۓ روز بروز سب سے بڑا مسئلہ بن رہا ہے جس پر فوری طور پر غور کرنے کی ضرورت ہے ـ خواتین آزادی نسواں کے بہیمانہ نعرے کی زد میں آکر اپنی اصل خوبصورت ُپرسکون گھریلو زندگی کو خیر باد کہہ کر معاشرتی دوڑ میں زندگی کی تگ و دو کیلیۓ پاکستانی مرد کے ہمرکاب چلنے کی خواہاں نظر آتی ہیں یہی وجہ ہے وہ لحاظ وہ ادب وہ احترام جو کبھی ہماری معاشرت کا خوبصورت احساس تھا آج مرد وہ مقابلے پے کھڑی ہونے کی وجہ سے عورت کو نہیں دیتے اور بدلے میں آج رکشہ چلانے والی خاتون خاتون گردی پر اتر آتی ہے اور بار بار احتجاج اور دھرنے ہم دیکھتے ہیں جو اس سے پہلے دکھائی نہیں دیتے تھے۔

ایک معصوم سی آوارہ گردی کے رخ مڑتے مُڑتے آج نجانے ہر شعبے کی ہر طرز کی گردی ہمارے سامنے ہے اور اس شدت میں کمی آتی نظر نہیں آرہی جو خطرناک ترین علامت ہے ـ گردی کو ہر شعبے میں اتنی خاموشی سے نافذ ہوتے دیکھ کر لگتا نہیں کہ یہ کوئی غلط توجیہہ ہے ـ لیکن ہمارے معاشرے کا ہر شعبہ اس گردی کی زد میں آکر زہریلا بن چکا ہے اس امر کی ہے کہ نصاب کا تحریروں کا سوچوں کا رخ اہل قلم موڑیں اور عوام کو بہت آہستگی سے واپس اسی زاویے پر لائیں جس زاویے کو قائمہ زاویہ کہتے ہیں جہاں برابر لکیر یں ہوں تفاوت دور ہو اور عدم تحفظ کا احساس ختم ہو کر اپنے ملک پر اپنی زندگی کی سلامتی پر اعتماد بحال کیا جائے اور رویوں کی دہشت گردی ختم ہو کر ہر شعبے سے متعلقہ مسائل کو خود حل کر کے دہشتگرد بننے کی بجائے ہم ُپرامن معاشرے کے اچھے سلجھے ہوئے افراد بنیں جو مستقبل کیلیۓ مضبوط تعمیری ذہن پر مشتمل معمار سامنے لائیں ـ اس لئے آوارہ گردی کے بعد دہشت گردی سے نکلی ہوئی ہر شاخ جس کے آگے گردی لگا دی گئی ہے اس کا اب خاتمہ کر کے گردی کی آزادی سلب کر کے اس کو ایک مخصوص دائرے میں مقید کر کے اپنے اور تخریبی ذہن میں فرق واضح کرنا ہے زمانہ وہی واپس آنا چاہیے جب پاکستان میں معصوم سی ڈانٹ میں بچوں کو بے وقت کرکٹ فٹ بال کھیلنے پر آوارہ گردی کا طعنہ دیا جاتا تھا ـ اس معصوم گردی کے علاوہ گردی کی تمام اقسام نامنظور ہیں۔۔

Shahbano Mir

Shahbano Mir

تحریر: شاہ بانو میر