انتہا پسندی دہشتگردی کے خاتمہ اور قیام امن کے لیے مذہبی رواداری نا گزیر ہو چکی، عالمی امن کا نفرنس

World Peace Conference-UK

World Peace Conference-UK

لندن (ایس ایم عرفان طاہر سے) انتہا پسندی دہشتگردی کے خاتمہ اور قیام امن کے لیے مذہبی رواداری نا گزیر ہو چکی، تمام مذاہب کو ایک دوسرے کے ساتھ نظریاتی اورسیاسی اختلافات مٹا کر قربت کا پہلو اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے ممکنات تلاش کرنا ہونگی۔

کوئی بھی مذہب تصادم اور خون ریزی کی ہر گر زاجازت نہیں دیتا ہے پر امن معاشرے کے لیے تمام مذاہب کو مل کر عملی اقدامات اٹھا نا ہو نگے ، مذہب کی آڑ میں بیگناہ انسانوں کا قتل کرنے والے انسانیت کے زمرے میں نہیں آتے حیوانیت کا پرچار کرنے والے شرپسند عناصر کسی رعایت اور ہمدردی کے لائق نہیں ۔ان خیالات کا اظہا ر مقررین نے دی آکسفورڈ فائو نڈیشن برطانیہ کے زیر اہتمام عالمی امن کانفرنس کے موقع پر مشترکہ اعلامیہ دیتے ہو ئے کیا۔

کانفرنس کی میزبانی کے فرائض بانی دی آکسفورڈ فا ئو نڈیشن برطانیہ امام منور حسین اور کلیم حسین نے سرانجام دیے ۔ بطور مہمان خصوصی لارڈ لیفٹینٹ دی رائل کائونٹی آف برکشائر مسٹر جمیز پکسلے ،لارڈ لیفٹینٹ بکنگم شائر سر ہینری آوبرے فلیچر ، لارڈ لیفٹینٹ آکسفورڈ شائر مسٹر ٹم سٹیون سن او بی ای ، غازی احمد نواز شامل ہو ئے جبکہ اس موقع پر محمد نواز خان، ہائی شیرف آف آکسفورڈ شائر سارا ٹیلر ، چیئرمین ایڈوائزری بورڈ دی آکسفورڈ فائونڈیشن سر نیکو لس پیئر سن ، کونسلر محمد راسب میئر آف سلائو ، کونسلر عائیلن کوق میئر ، قائم مقام بشپ آف آکسفورڈ کولن فلیچر او بی ای ، مائیک ہینیس ، جونا تھن پائول یہودی معلم، الیگزینڈر میسے نمائندہ عیسائی کمیونٹی ، شاہدہ اکبرنمائندہ مسلم کمیونٹی، یونس غلام نبی ، پروفیسر وجے گپتا نما ئندہ ہند و کمیونٹی، مسز رانی بلکھونما ئندہ سکھ کمیونٹی، رابرٹ ہرپ نما ئندہ بدھ مت کمیونٹی ،مچل گیمج نما ئندہ بہائی کمیونٹی ، جون ڈی وائیٹ ، ایلزبتھ کوپسی ،نذ ر لو دھی ، پر و فیسر چو ہدری شفیق ، صدام حسین اور دیگر نے خصوصی شرکت کی ۔ اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کو کسی بھی مذہب یا مخصوص طبقہ سے منصوب نہیں کیا جا سکتا ہے درحقیقت مذہبی تعلیما ت سے مبراء گمراہ کن سوچ کے مالک ہی اس منفی فعل کے مرتکب بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلا شبہ موجودہ دور میں انتہا پسندی اور تصادم نے پو ری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ان نامساعد حالات میں پیا ر کے دو میٹھے بول بھی امید اور روشنی کا منارہ ثابت ہو تے ہیں ۔ انہو ں نے کہاکہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ جس طرح دہشتگرد گروہ ایک اکائی کی حیثیت سے اتنگ پھیلا رہے ہیں تو ان کے خلا ف پوری ہمت اور جواں مردی کے ساتھ متحد و منظم ہونا پڑے گا ۔ انہو ں نے کہاکہ تمام مذاہب کے درمیان پیدا ہو نے والے اختلافات کو روزمرہ کی ملاقاتوں اور پروگرامات سے بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر مذہب سے وابستہ افراد کا یہ بنیا دی اور فطری حق ہے کہ انہیں ایک پر امن اور با وقا ر ماحول میں رہنے کا موقع میسر کیا جا ئے ۔ انہو ں نے کہاکہ دوریوں اختلافات اور تنازعات کو مٹا نے کا ایک حل ہے کہ ایک دوسرے کو قریب لا نے کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جا ئے تاکہ دوریوں سے پیدا ہو نے والے خدشات خلا اور تحفظات کو مکمل طور پر مٹایا جا سکے۔