بابائے قوم حضرت مقبول بٹ کے حالات زندگی (قسط دوم)۔

Maqbool Butt Shaheed

Maqbool Butt Shaheed

تحریر: ثمینہ راجہ۔ جموں و کشمیر
میں پچھلی قسط میں بابائے قوم حضرت مقبول بٹ کے حالات زندگی کا ایک جائزہ پیش کر چکی ہوں۔
اس قسط میں میرا موضوع گفتگو ہے ۔ ماہ مقبول کے تقاضے اور کشمیری قوم پرست۔

فروری کے مہینے کو بجا طور پر ماہِ مقبول کہا جاتا ہے ۔ اس کی تین وجوہات ہیں۔
1 – اس مہینے کی 18 تاریخ مقبول بٹ شہید کی سالگرہ کا دن ہے ۔
2 – اس مہینے کی 11 تاریخ مقبول بٹ شہید کا یوم شہادت یے- اس دن مقبول بٹ نے شہادت کو گلے لگا کر آزادی کی منزل کی نشاندہی اس انداز میں کر دی کہ قابض ممالک اپنے تمام تر مالی وسائل، فوجی طاقت اور افرادی قوت کے باوجود ریاست جموں و کشمیر کی آزادی و خودمختاری کی اس منزل کو کشمیری عوام کی نظروں سے اوجھل نہیں کر سکتے۔

ایک دن میرے رقیبوں کو ندامت ہو گی
جب میری لاش کسی دار کی زینت ہو گی
میں نے جو راہ طلب ڈھونڈھ کر اپنائی ہے
اِس کی منزل تو کسی روز قیامت ہو گی ۔

Maqbool Butt Shaheed Rally

Maqbool Butt Shaheed Rally

3 – اور یہ مہینہ دنیا بھر میں کشمیری سیاسی کارکنان کے نزدیک عہدوفا اور عزمِ استقامت کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں کی خاطر مقبول ترین مہینہ ہے۔
ماہ مقبول کی تیسری وجہ کی مقبولیت پہلی دو وجوہات کی بنیاد پر ہے۔

اس مہینے میں کشمیری قوم پرست اور محبِ وطن سیاسی جماعتیں اور کارکنان سیاسی جلسے، جلوس اور سیمینار منعقد کر کے عوام کو بابائے قوم، شہیدِاعظم، قائدِکشمر حضرت محمد مقبول بٹ شہید کے حالاتِ زندگی، انکے افکار و کردار اور انکی قوم کی خاطر پیش کی جانے والی لازوال اور فقید المثال قربانیوں سے روشناس کرواتے ہیں۔

اس مہینے میں تمام کشمیری سیاسی کارکنوں اور قائدین کے اندر ایک ولولہ اور ایک اُمنگ پیدا ہو جاتی ہے ۔ وطن کی آزادی کے حصول کی خاطر عہد و پیمان کیئے جاتے ہیں اور ہر سمت سے اعلانات سننے کو ملتے ہیں کہ مادرِوطن ریاست جموں و کشمیر کی مکمل آزادی، جغرافیائی یکجہتی اور کامل خودمختاری کے حصول کی خاطر بابائے قوم حضرت محمد مقبول بٹ شہید کے افکار کی روشنی میں جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور جب تک ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور خودمختاری کی منزل حاصل نہیں ہو جاتی ، چین سے نہیں بیٹھا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔

مگر سابقہ تجربات یہ بتاتے ہیں کہ جیسے ہی فروری کا مہینہ ختم ہوتا ہے، سیاسی کارکنان کا جذبہ بھی ماند پڑنا شروع ہو جاتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تقریباً سبھی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے معمولات کی طرف واپس لوٹ جاتی ہیں اور سال کے باقی گیارہ مہینے لک بھگ سبھی سیاسی کارکنان اپنی روائیتی سرگرمیوں پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے ماہِ مقبول میں قوم کے ساتھ کیا وعدے وعید کیئے تھے۔

یہ سیاسی روش گزشتہ 32 سال سے جاری ہے ۔ میرا تجزیہ ہے کہ اب سنجیدہ سیاسی کارکنان اور حقیقی قوم پرست سیاسی رہنما اس صورتحال سے دلبرداشتہ نظر آتے ہیں ۔ اور شاید ان حالات کے پیشِ نظر سنجیدہ سیاسی حلقے اپنی سیاسی جُہت کو تبدیل کرنے پر غور و فکر بھی کر رہے ہیں ۔ میرے خیال میں اب ایسا کرنا بہت ضروری بھی ہے۔

Solidarity

Solidarity

اگرچہ ماہ مقبول کے دوران عزم و استقلال کے عہد کا اعادہ کرنا از خود ایک مستحسن قدم ہےاور اس عمل کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیئے مگر یہ بات اب تشویشناک حد تک پریشان کن مسئلہ بن چکی ہے کہ ماہِ مقبول کے دوران سیاسی کارکنان اور رہنما جس باہمی یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ صرف ایک مہینے کی سیاسی سرگرمیوں کی حد تک ہی کیوں محدود ہے۔

دوسرا اور اس سے زیادہ گمبھیر مسئلہ یہ ہے کہ ماہِ مقبول کے دوران تمام قوم پرست سیاسی کارکنان بابائے قوم حضرت مقبول بٹ شہید کے افکار پر کاربند رہنے کا عہد کرتے ہیں، تمام قوم پرست سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو شہیدِاعظم حضرت مقبول بٹ شہید کے نظریات کا وارث قرار دیتی ہیں اور تمام قوم پرست سیاسی زُعما اپنے آپ کو قائدِکشمر حضرت مقبول بٹ شہید کے سیاسی مشن کا سچا ہمسفر گردانتے ہیں ۔ مگر ان دعوؤں کے باوجود ان سب کی سیاسی راہیں باہم جدا، ان تمام کی سیاسی حکمتِ عملی ایک دوسرے سے متصادم اور انکے سیاسی قواعد ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

اس صورتحال میں اب وقت آن پہنچا ہے کہ قوم بغیر کسی ابہام اور شک و شبہے کے اس امر کا تعین کرے کہ بابائے قوم حضرت مقبول بٹ شہید کی حقیقی سیاسی فکر کیا تھی اور اس سیاسی فکر کی روشنی میں اس امر کا تعین کیا جائے کہ آج کون سی سیاسی قوتیں حقیقی طور پر شہیدِاعظم حضرت مقبول بٹ شہید کے نظریات اور افکار پر کاربند ہیں اور کون سی سیاسی پارٹیاں ایسی ہیں جو محض عوام الناس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیئے قائدِ کشمر حضرت مقبول بٹ شہید کا نام لیتی ہیں جبکہ دراصل وہ شہیدِ وفا حضرت مقبول بٹ شہید کے سیاسی افکار اور راہِ عمل کی پیروکار نہیں ہیں ۔ قوم پرستوں کی صفوں میں ایسے سیاسی مداریوں کی موجودگی کے باعث ہی غالباً قوم پرست باہمی اتحاد و اتفاق کی برکت سے بہرہ ور نہیں ہو پائے ۔ اس امر کا تعین کرنے کے لیئے کہ کون کون بابائے قوم کے سیاسی افکار پر کاربند ہے اور کون محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے ؛ پہلے شہیدِاعظم حضرت مقبول بٹ شہید کے افکار و نظریات کو سمجھنا ضروری ہے۔

چنانچہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مضمون میں شہیدِوفا حضرت مقبول بٹ شہید کے سیاسی افکار و نظریات اور انکی جدوجہد کی حقیقی راہ کو بیان کیا جائے تا کہ قارئین کرام از خود سچائی کی کھوج لگانے میں کامیاب ہو سکیں ۔
میں ان کے افکار سے قارئین کو روشناس کرانے کے لیئے ان کے اپنے ایک خط کے چند اقتباسات یہاں پیش کروں گی ۔ یہ خط سعید اسعد صاحب کی کتاب شعورِ فردا کے صفحہ 51 تا 60 طبع ہو چکا ہے۔

12 اپریل 1973 کو بابائے قوم نے کیمپ جیل لاہور سے جی ایم میر کی صاحبزادی عذرا میر کو اپنے اس خط میں لکھا ” ۰۰۰۰۰
۰۰۰۰۰ پھر 1947 کا ریلہ آیا ۔ یہ ایک طوفان تھا ۔ حالات نے ایسی کروٹ لی کہ ہم غلامی کے ایک دور سے نکل کر دوسرے میں داخل ہو گئے ۔ ڈوگرہ شاہی ختم ہو گئی مگر اس کے نتیجے میں وطن دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ۔ ایک حصے پر ہندوستان نے فوجی یلغار کر کے قبضہ کر لیا اور دوسرا حصہ آزاد کہلائے جانے کے باوجود آزادی کی نعمتوں سے مالا مال نہ ہو سکا، اس طوفانی ریلے میں لاکھوں کی تعداد میں نہ صرف ہمارے بڑے بوڑھے بلکہ نوجوان اور بچے بھی شہید ہو کر امر ہو گئے۔

kashmiri Shaheed

kashmiri Shaheed

جموں اور وادی کے میدانوں، پونچھ، مظفرآباد اور میرپور کی پہاڑیوں اور کارگل و لداخ کی چٹانوں میں جذب ہمارے جواں سال شہیدوں کے خون کے ساتھ ہماری ان گنت بچیوں اور معصوم بچوں کا لہو بھی شامل ہے ۰۰۰۰۰ آپ کو کتنے ہی ایسے معصوم اور پھول جیسے بچوں اور بچیوں کی کہانیاں سناؤں جو اس جنگ میں کام آئے ۰۰۰۰۰ ان میں سے بے شمار ایسے تھے جن کو حملہ آوروں نے اسی طرح گولیوں سے بھون کر رکھ دیا جیسے موسمِ بہار میں کسی درخت پر چہچہاتی چڑیوں کے جھنڈ پر کوئی بے رحم شکاری بندوق چلائے ۔ ان میں لاتعداد ایسے تھے جن کو ظلم کے نشے میں بدمست فرقہ پرستوں نے نیزوں اور تلواروں سے اس طرح کاٹا جیسے کوئی خونخوار بھیڑیا بھیڑوں کے گلہ میں گھس کر بھیڑوں کی چیر پھاڑ شروع کر دیتا ہے ۔ عذرا بیٹی ! ہماری محکوم قوم کے بچوں اور بچیوں کی قربانیوں کا یہ سلسلہ 1947 میں ہی ختم نہیں ہوا، یہ ابھی تک جاری ہے، اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک پوری قوم آزاد نہ ہو جائے۔

کیا مقبوضہ کشمیر اور کیا آزاد کشمیر دونوں طرف ہمارے عوام برابر قربانیاں دے رہے ہیں ۔ دونوں طرف سے معصوم بچے اور بچیاں غلامی کے ہیبت ناک سایوں میں پروان چڑھ رہے ہیں ۔ گزشتہ پچیس برس کی مدت میں نہ معلوم کتنے ہی کشمیری بچے آزادی کے دشمنوں کی قتل و غارت گری کے باعث شہید اور یتیم ہو گئے، کتنے ہی ظلم اور لوٹ کھسوٹ کے باعث بے سہارا ہو گئے اور اس طرح ان سہولتوں سے محروم رہے جو ان کی نشو نما اور تربیت کے لیئے ضروری تھیں ۰۰۰۰۰ آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ کشمیریوں نے پاکستان کے لیئے جانیں دی ہیں مگر پاکستان انہیں اب بھی “جاسوس” قرار دے رہا ہے ۔ یہاں آپ کے خیال میں تھوڑا سا نقص ہے، کشمیریوں کو پاکستان نے نہیں بلکہ اس ملک کے غدار حکمران ٹولے نے جاسوسی کا الزام دیا ۔ یہ وہی غدار حکمران ٹولہ تھا جس نے اس ملک کے ٹکڑے کر دئیے ۔ جس نے پچیس برس تک اس ملک کے عوام کو آزادی اور جمہوریت سے محروم رکھا ۔ دراصل یہ غدار حکمران ٹولہ خود “جاسوسوں” سے بھی بدتر کردار کا مالک تھا ۔ اس لیئے اس نے تمام محبِ وطن اور عوام دوست لوگوں کو غیرملکی ایجنٹ یا جاسوس قرار دے دیا ۔ جس حکمران ٹولے نے اپنے عوام کے ساتھ دشمنی کی اور اس کے مسلمہ لیڈروں کو جاسوس کہتا رہا اس نے اگر ہم کشمیریوں پر جاسوسی کا الزام لگایا تو اس سے خفا ہونے کی ضرورت نہیں۔

رہا اصل پاکستان یعنی اس ملک کے عوام تو ان کے سامنے جب بھی حقیقت آئے گی وہ اسے تسلیم کریں گے ۔ ہمیں یہاں جو سزائیں دی گئیں وہ پاکستان کے اصل مالکوں نے تو نہ دیں ۔ یہ سزائیں اس ظالم حکمران ٹولے نے ہمیں دی ہیں جس نے اپنے ہی عوام پر گولیاں برسائیں ۔ ظاہر ہے جو حکمران اپنے عوام کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہیں وہ دوسروں کے ساتھ بھی ناانصافی ہی کرتے ہیں ۔ کشمیری عوام کو پہلے بھی پاکستان کے حکمران طبقہ نے جنگِ آزادی میں اس طرح مدد نہیں دی جیسا کہ اسے چاہیئے تھا ۔ اس طبقے کو تو کشمیر کی آزادی سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ۔ ان کی تمام باتیں سب زبانی جمع خرچ ہیں ان پر بھروسہ کرنا ہی نہیں چاہیئے۔

البتہ پاکستان کے عوام ہمارے اصل دوست اور حامی ہیں ان کی مدد کشمیری عوام کو ضرور حاصل ہو گی ۰۰۰۰۰ کشمیری حریت پسندوں کو جاسوس قرار دے کر ان حکمرانوں نے دراصل بھارت کی خدمت کی ہے ۰۰۰۰۰ یہ سوچنا بھی غلطی ہے کہ کشمیری نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے ۔ ہم لوگ پہلے بھی اپنے وطن کے سچے بیٹے تھے اور آئیندہ بھی رہیں گے۔ ہمارے دلوں میں آزادی کا جو جذبہ ہے وہ انشا اللہ ہمیشہ قائم رہے گا ۔ اس مقصد کے حصول کے لیئے ہم دنیا کی ہر طاقت سے ٹکر لیں گے ۰۰۰۰۰ کشمیریوں نے وطن کی آزادی کے لیئے جو خون بہایا ہے وہ رائیگاں نہیں جائے گا ۔ شہیدوں کا لہو ہمیشہ رنگ لا کر رہتا ہے اور یہ آزادی کا رنگ ہوتا ہے “۔

بابائے قوم کا یہ خط آپ کے نظریات اور سیاسی افکار کا ایک جامع بیان ہے ۔ اس خط کے مندرجات کی روشنی میں مختلف سیاسی کارکنان اپنی سیاسی جماعتوں کے بارے میں از خود تجزیہ کر سکتے ہیں کہ وہ کس حد تک بابائے قوم کے سیاسی افکار اور نظریات پر کاربند ہیں۔

Sameena Raja

Sameena Raja

تحریر: ثمینہ راجہ۔ جموں و کشمیر