نسوانیت کی تحقیر میں پیش پیش

Adnan Pardesy

Adnan Pardesy

تحریر : شاہ بانو میر
معاشرے کا توازن مرد اور عورت کے واضح حقوق و فرائض کے تعین سے ہے ـ جو وقت مرد کے باہر رہنے کا ہے اس وقت میں عورت اگر اس کے ساتھ دکھائی دے بغیر کسی جائز رشتے کے تو اس کیلیۓ خاموش تذلیل ہے ـیہ شعور اب ملا ہے ـ الحمد للہ مرنے سے پہلے اللہ پاک نے اپنے قرآن سے جوڑ کر خواتین کیلیۓ مروجہ قوانین اور اطوار سیکھنے کا موقع دیا جو اس کی خاص مہربانی ہے اپنے خاص لوگوں پر ـخواتین کی عزت مردوں میں جا کر زبردستی کی تصاویر کھچوانا نہیںٌ بلکہ اپنے رکھ کھاؤ سے محتاط نظر آنا سب مردوں کے دلوں میں عزت کا باعث بن سکتی ہیں ـ آزاد خیالی دین اور دنیا سے لا تعلق نہ کر دے ـ عزت زبردستی تعلق دکھانے میں نہیں کسی کے دل میں عزت پانے میں ہے ـ اور وہ مقام ایسے زبردستی سے کبھی کسی کو نہیں ملتا ـ اس کیلئے تعلق میں خلوص اچھی نیت اور بے لوث جیسے عناصر بہت ضروری ہیںـ

آئیے چند مثالیں سمجھیں میرے سامنے ٹی وی کا ایک طنز و مزاح کا پروگرام چل رہا تھا ـ اس میں ایک عورت تین مردوں کے درمیان بیٹھی برجستہ فقرے کس رہی تھی ـ ایک پڑھا لکھا آدمی ان کے درمیان تھا ـ اس کی لغو گفتگو اس کو شائد خواتین کے معیار سے گری ہوئی محسوس ہوئی تو اس نے کہہ دیا کہ اس قسم کی نچنیاں اور اس قسم کے ناچے ہمارے معاشرے کو تباہ کر رہے ـ یہ جملہ سن کر وہ عورت پل بھر کے اندر آگ بگولہ ہو گئی اور پروگرام کے میزبان کو شکایت لگانے لگی ـ بات رفع دفع ہو گئی کیونکہ شہرت پانے کیلیۓ مردوں سے کئی بار ایسے سخت جملے سن کر بھی انہیں کڑوے گھونٹ بھرنے پڑتے ہیں کیونکہ وہ اس جگت بازی اور اس آزاد ماحول کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتیں ـ مگر ان کے یہ انداز کہ اچانک کہیں کھڑے مردوں میں زبردستی کھڑے ہو جانا جسے چند مرد ابھی بھی ناپسند کرتے ہیںـ

بعد میں تحقیر سےکہتے ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کہ ان عورتوں کو کیا مسئلہ ہے جہاں چار مرد کھڑے ہیں وہاں کیوں آکر ساتھ کھڑی ہو کر تصویر بنوا لیتی ہیں ـ یہ چھوٹی سی مثال ہے ـ میرا نقطہ یہاں یہ ہے کہ اسی ٹی وی پر میں برقعہ میں ملبوس سرتاپا با پردہ ایک خاتون کو دیکھتی ہوں جن کا پروگرام شروع ہوتے ہی رشد و ہدایت کی باتیں سمجھ آتی ہیں ـ ہماری کم علمی میں میں گراں قدر اضافہ ہوتا ہے فیس بک پر بھی وہ ایڈ ہیں ـ ہر نگاہ محترم ہے ان کے واسطے ہر سوچ میں ادب ہے ـ وہ آتیں ہیں تو برے سے برا انسان بھی نگاہیں جھکا کر انہیں سنتا ہے ان کے چہرے پر نگاہ نہیں ڈالتا ان کے سامنے بد تمیزی کرنا تو دور کی بات ہے ـ کوئی بلند آواز میں بولنا بھی اچھا نہیں سمجھتاـ

Respect

Respect

یہ احترام کا اعلیٰ معیار ہے اور یہی عورت دوسری طرف دیکھئے غزوہ تبوک میں رومی خواتین کا ہمارے سامنے آتا ہے جو بازارِ حسن سے صرف اس لئے عشوہ طرازیاں دکھانے مسلمانوں کے راستوں میں کھڑی کی گئیں کہ مسلمان انہیں دیکھ کر ایمان کمزور کر لیں اور رومی بآسانی ان پر فتح پا لیں رومی عورتوں کا حسن بے مثال تھا اور اس پے کمال کہ وہ خوب سج دھج کے راستے میں دعوت نظارہ دینے کھڑی تھیں مگر ہوا کیا؟ مسلمان نمودار ہوئے اور منہ میں آیت قرآنی کا ورد کرتے ہوئے نگاہ اٹھائے بغیر وہاں سے گزر گئے ـ بازاری عورتوں کا یہ بھی مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ کہیں بھی کسی سے بھی الجھ سکتی ہیں ـ کسی کو کچھ بھی کہہ سکتی ہیں ـ کچھ بھی سن سکتی ہیں ـ غصے میں تذلیل کے احساس سے لال پیلی ہوتی ہوئی وہ سپہ سالار کے پاس پہنچیں کہ یہ کیا ؟ ہماری جانب کسی نے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا سپہ سالار نے لاپروائی سے جواب دیا

کہ صبح انہیں قرآنی آیت پڑہائی تھی کہ نگاہ نیچی مرد مومن کو رکھنی چاہیے لگتا ہے اسی کا اثر ہے ـ یہاں سے ہٹ کر ذرا ایک نگاہ دوڑائیں اولاد نبیﷺ حضرت فاطمہ ایک وقت میں تین تین کام کر رہی ہیں ـ ایک طرف منہ میں کلام اللہ کا ذکر پاک دوسری طرف ہاتھ سے کھانے کا چمچ ہلا رہی ہیں اور تیسری جانب پالنے میں لیٹے ہوئے بچے کی رسّی جھلا رہی ہیں یہ ہے گھر کے اندر ایک مکمل ذمہ دار عورت اور یہ وہ نام ہے جس کی عظمت کی گواہی قیامت تک دی جاتی رہے گیـ

خواتین کیلیۓ رول ماڈل یہ ہیں ـ جس اسلام کو عورت نے احترام دیا پردہ دیا گھر دیا رشتے دیے مقام دیا آج وہ عورت نام نہاد مصروفیت کے نام پر خود نسوانیت کی تحقیر میں پیش پیش ہے ـ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن و سنت کے مظابق احکامِ الہیٰ اور سنت رسولﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما کر اپنے لئے خاص کر لے ـسابقہ ہر قسم کی کوتاہیوں خامیوں سے کی توبہ قبول کر کے صراط المستقیم پر رواں دواں کر کے اپنے جلوے سے منور کرتے ہوئے جام شیریں عطا فرمائے آمین

Shahbano Mir

Shahbano Mir

تحریر : شاہ بانو میر