فکشن کی تنقید میں تخلیقی ناقدین کا کردار انتہائی اہم ہے: پروفیسر ارتضیٰ کریم

Prof Kalimuddin Ahmad Extension Lecture

Prof Kalimuddin Ahmad Extension Lecture

پٹنہ (کامران غنی) شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے اشتراک سے پروفیسر کلیم الدین احمد توسیعی خطبہ کا اہتمام کیا گیا۔ پروگرام کے ابتدائی حصہ کی صدارت پروفیسر اعجاز علی ارشد، وائس چانسلر مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی، پٹنہ نے کی جبکہ دوسرے حصہ کی صدارت معروف افسانہ نگار شموئل احمد نے کی۔

پروگرام کا افتتاح پروفیسر خالد مرزا، ڈائرکٹر ہائر ایجوکیشن، بہار نے کیا۔افتتاحی کلمات کے دوران انھوں نے اس بات کا وعدہ کیا کہ شعبہ اردو کے کانفرنس ہال کو مزید بہتر بنانے کے لیے وہ ہر ممکن تعاون کریں گے۔پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے بہار اردو اکادمی کے نو منتخب سکریٹری اور معروف افسانہ نگار مشتاق احمد نوری شریک ہوئے۔ جبکہ مہمان ذی وقار کی حیثیت سے ڈاکٹر قاسم خورشید، صدر شعبہ لسانیات ایس سی ای آر ٹی ، پٹنہ نے شرکت کی۔ صدر شعبہ اردو ڈاکٹر جاوید حیات نے تمام مہمانان گرامی اور سامعین کا استقبال کیا۔

نظامت کا فریضہ شعبہ اردو کے استاد اور معروف ناقد ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے انجام دیا۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اپنے کلیدی خطبہ میں فکشن کی تنقید پرپر مغز اور سیر حاسل گفتگو کی۔ انھوں نے ڈاکٹر قاسم خورشید، شموئل احمد اور مشتاق احمد نوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ویسے ناقدین جو تخلیقی صلاحیت بھی رکھتے ہیں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تخلیقی کرب سے گزرے بغیر اچھی تنقید نہیں ہو سکتی۔

پروفیسر ارتضیٰ کریم نے طلبا و طالبات کو زیادہ سے زیادہ تخلیقی، تنقیدی و تحقیقی کتب و رسائل کے مطالعہ کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل تحقیق و تنقید کے میدان سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ زندہ زبانوں میں تحقیق و تنقید کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ معروف شاعر حسن نواب حسن نے پروفیسر ارتضی کریم کی شان میں استقبالیہ نظم پیش کی۔ سابق صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسرائیل رضا کے شکریہ کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔

پروگرام میں ڈاکٹر صفدر امام قادری، ڈاکٹر شکیل قاسمی،ڈاکٹر زرنگار یاسمین، شنکرکیموری، شمیم قاسمی،نواب عتیق الزماں ، فرح ناز، شارق خان، رحمت یونس سمیت کثیر تعدادمیں دانشوران شہر، ریسرچ اسکالرز اور طلبا و طالبات موجود تھے۔