فرانس : اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلیوں پر 21ویں عالمی کانفرنس پیرس میں شروع

Climate Change,International Conference

Climate Change,International Conference

پیرس (اے کے راؤ) احساسات، خدشات اور امیدوں‌ کے سائے میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلیوں سے نبر آزما ہونے کے لیے اور ایک نئی عالمی حکمتِ عملی پر اتفاقِ رائے کے لیے 21 ویں عالمی کانفرنس ” 21_COP” پیر سے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں شروع ہوگئی ہے۔ 11 دسمبر تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں 195 ممالک حصہ لے رہے ہیں۔ افتتحاحی اجلاس میں امریکی صدر باراک بامہ، روسی صدر ولادی میر پوتن، چین کے صدر شی جن پنگ اور 147 ممالک کے سربراہان اور سیاسی رہنماوں نے اس کانفرنس سے خطاب کیا۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ لورین فیبیو کی صدارت میں ہونے والی اس عالمی کانفرنس سے خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ’میں یہاں ذاتی طور پر یہ کہنے آیا ہوں کہ امریکہ نہ صرف ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے نئی عالمی حکمتِ عملی سے اتفاق کرتا ہے بلکہ اس کے حل کے لیے کچھ کرنے کا پابند بھی ہے ۔انہوں نے شرکا پر زور دے کر کہا کہ وہ بامعنی معاہدہ دیں کیونکہ آنے والی نسل ہمیں دیکھ رہی ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم نے یہ کر کے دکھایا کہ معاشی ترقی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ہم اپنے ماحول کا خیال بھی رکھ سکتے ہیں۔‘

چین کے صدر شی جن پنگ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیرس کانفرنس کو اہم موڑ نہیں سمجھتے اور نہ ہی اختتام لیکن یہ نئی شروعات ہیں۔ ” اس اجلاس کا مقصد عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کو دو سنٹی گریڈ تک محدود کرنا ہوگا۔ ”

افتتحاحی اجلاس میں افریقی ملک انگولا کی نمائندگی کرنے والے گزا مارٹنز نے کہا ہے کہ ’ اگر بات چیت کا مقصد دو سنٹی گریڈ ہی رہا تو کم ترقی یافتہ ممالک کی اقتصادی ترقی، علاقائی غذائی تحفظ، ایکو سسٹم حتیٰ کہ ان کی آبادی کی بقاء اور ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ گزامارٹنز کا کہنا تھا کہ ہمیں کمزور ممالک کی کپیسٹی کو مدنظر رکھ کر ایک لازم العمل معاہدے کی ضرورت ہے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں عالمی کانفرنس پر وزیراعظم نواز شریف کی اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے غیر رسمی ملاقات ہوئی ہے۔ جیسے میڈیا میں محبتوں کے شہر پیرس میں نواز مودی ملاقات کا ٹائٹل دیا گیا۔

پیرس میں 13 اور 14 نومبر کی رات ہوئی دہشت گردی کے بعد اس عالمی کانفرنس کے موقعے پر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور پولیس نے اس مقام کی جانب جانے موٹروے A ون سمیت تمام سڑکیں عام آمدورفت کے لیے بند کر دی ہیں۔