حشر نشر

Scabies

Scabies

تحریر: نجیب علی شاہ
خبر ہو کہ نازک اندام آیان علی کے مر مریں بدن پہ خارش نے خود کو دل وجان سے وار دیا ہے. بے خبر ذرایع نے اڑائی ہے کہ زندان میں حفظان صحت کی مطلوبہ سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے اس خارش نے جنم لیا ہے، مگر بات اتنی سادہ تو کسی طور نہیں ہے. غور کرنے پہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس خارش کے ڈانڈے کراچی میں بلاول چورنگی پہ واقع بار بی کیو ٹو نائٹ کے سامنے والے خلوت کدوں سے جا ملتے ہیں. اس خلوت کدے میں کل کچه ساعتیں بسر کیں، جہاں آیان کی خوشبو آنگن میں پهیلی ہوئی واضح محسوس ہوئی. خارش کب کیسے کیوں کہاں لگی، اس پہ تو شش جہتی تجزیہ ہوگا مگر اس سے پہلے ایک نظر خارش کا ایک سہہ جہتی جائزہ احباب کی نذر کروں. یوں تو خارش کی بیسیوں اقسام ہیں مگر بنیادی طور پر اس کی دو ہی قسمیں معروف ہیں۔

پہلی قسم خارجی اور دوسری قسم داخلی ہے. پہلی قسم تو برے وقت اور بدتہذیب مہمان جیسی ہوتی ہے جو بن بتائے کسی بهی وقت آسکتی ہے. یہ جسم کے کسی بهی حصے پہ نمودار ہوکر انسان کو چر مرا کر رکهد یتی ہے. اس وقت تک انسان چین سے بیٹه نہیں سکتا کہ جب تک اس خارش کو منطقی انجام سے دوچار نہ کردے. اس کا حاصل علاج ناخن کی ایک متوازن سی کهرچ ہے. خارش کے کیفر کردار تک پہنچنے کے مرحلے میں طمانیت کی جو لہر ابهرتی ہے وہ صبح کے پہلے سیگریٹ کے پہلے کش سے بهی نہیں ابهرتی. اس کهرچ کی لطف اندوزی پہ تمام جن وبشر کا خاموش اتفاق رائے پایا جاتا ہے. دو مقام پہ خارش کے سر اٹهانے سے تو ابلیس نے بهی پناہ مانگی ہے. ایک کمر کے وسط پہ اور دوسرا جسم کے وسط پہ. کمر کے وسط پہ ہونے والی خارش کو مٹا نے میں انہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا جن کے جسم لچکیلے سے ہوتے ہیں البتہ فربہ بدن اور اکڑو جسم لوگوں کیلئے اس مقام تک رسائی حاصل کرنا تصوف کے تیسرے مقام تک پہنچنے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے. یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی کمر عمر بهر صابن کے وصل کو بهی ترستی ہی رہ جاتی ہیں. کبهی کمر اور صابن کا یہ شب وصل ممکن ہو جائے تو اس کامیابی کے پیچهے لازما ایک عورت کا ہاته ہوتا ہے. ویسے بهی یہ ایک آفاقی سچ ہی ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچهے ایک عورت کا پورا ہاته ہوتا ہے. اور یہ کہ ہر ناکام مرد کے پیچهے عورت کے دونوں ہاته ہوتے ہیں. واضح کرتا چلوں کہ میں فربہ بدن ہر گز ہر گز نہیں ہوں. اللہ جانتا ہے اور “کرن جوہر “جانتا ہے کہ کمر میں ایک خفیہ نسوانی سی لچک ہے جو حسب خارش ہی بروئے کار لائی جاتی ہے۔

خیر..!! قیامت کا عالم وہ ہوتا ہے کہ جب خارش جسم کے بالکل سینٹرل ایشیا پہ پوک کردے . اس ایک پوک کی وجہ سے جسم کی تمام خلیجی ریاستوں میں تشویش کی ایک لہر دوڑ جائے گی. اب یہ خارش پس منظر میں ہو کہ پیش منظر میں، بہردو صورت یکساں ہزیمت کی حامل اور عزیمت کی متقاضی ہوتی ہے. خارش کے اس ذیلی شاخ سے دو دو ہاته کر نے کیلئے ویسی ہی خلوت درکار ہوتی ہے جو کسی شاعر و ادیب یا پهر صوفی کو تخلیق و الہام کے ہنگام درکار ہوتی ہے. اگر خارش کی شدت 6.5 ریکارڈ کی گئی ہو تو پهر چار وناچار آئین جوانمردی کا پاس کرتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ پہ ہی اس خارش کو آڑے پنجوں لینا پڑ جاتا ہے. برسبیل تذکرہ عرض کرتا چلوں کہ خارش کی چل بل کو برداشت کرنا انسان کے بس میں نہیں. تاریخ میں ظہیر الدین بابر کو برداشت اور تحمل کے استعارے کے طور پہ یاد کیا جاتا ہے۔

ان کی برداشت کی سب سے بڑی مثال یہی تهی کہ خارش کا عارضہ ہوتے ہوئے وہ بنا کهجائے مسلسل کئ گهنٹوں وہ محفل میں بیٹهے رہے.. اب آتے ہیں خارش کی داخلی قسم کی طرف. خارش کی یہی قسم ہے جو جان لیوا ہے. معاشروں کی بر بادیوں میں اکثر اسی خارش نے کلیدی کردار ادا کیا ہے. یہ خارش انسان کے بالکل اندروں میں مشرقی جنوب کے بالکل عقب میں اٹهتی ہے. یہ خارش کوئی عظیم مقصد لیکر وارد ہوتی ہے، اور مقصد حاصل کر کے ہی دم لیتی ہے. آزمائشی دورانیہ خارش کے عدم اور وجود کے بیچ کا ہوتا ہے. یعنی جب تک خارش کو منزل نہ مل جائے تب تک خارش زدہ انسان کسی بهٹکی ہوئی آتما کی طرح آجو باجو کے لوگوں کو انگل پیج کرکے اپنی کهرک مٹاتا رہے گا. اس کی خارش انگیز سر گرمیاں کچه یوں ہونگیں۔

Mobile

Mobile

ہاته میں سکیل کهلونا یا بچی کا کیچر ہوگا، اس پہ ہلکا سا زور ڈال کے توڑ دے گا. ٹوٹتے کے ساته ہی شادمانی کی لہر اس کے چہرے پہ ابهر ے گی اور “ہن آرام ای” کا پیام سناکر ڈوب جائے گی. ہاته میں ریمورٹ ہوا تو بٹن کهرید دے گا. موبائل ہوا تو اسکرین سے پروٹیکٹر اکهیڑ دے گا. اسی طرح یہ شخص بیٹهے بٹهائے دوستوں کو ایسے میسجز فارورڈ کرنا شروع کردے گا جس پہ ہنسنے رونے کا فیصلہ ہی مشکل ہوجائے. یہ شخص فیس بک پہ ہوا تو آپ کو واہی تباہی آئٹم ٹیگ کرنا شروع کر دے گا. آپ کو کهینچ کے زبردستی کسی پیچ پہ لے جائے گا. کهوپچے میں آپ کو کسی نامعلوم محفل میں ایڈ کر بے پرکیاں ہانکنا شروع کردے گا. کچه نہ بن پڑے تو کینڈی کرش کی ریکویسٹ بهیج دے گا. ان سب سے فارغ ہوجائے گا تو اپنے کسی بے بال و پر بهتیجے بهانجی کی پکچر آپ کی دیوار پہ ٹانگ کے نکل لے گا. ٹهنڈ نہ پڑی تو ایک ایسی پوسٹ لکه کر آپ کو مینشن کردے گا جو خود اس سمیت کسی کو سمجه نہیں آرہی ہوگی. فیک آئی ڈی بنا کر اپنی کهرک کے ساته ٹهرک بهی مٹانے لگے گا.

آپ کے ساته بیٹها ہو تو آپ کا موبائل اٹها کر امیجز میں یا میسجز میں گهس جائے گا. آپ نے سکرین لاک کی ہوئی ہے تو دیر تک اٹکل سے مختلف پاسورڈز ڈالتا رہے گا. تب تک نہیں چهوڑے گا جب تک پاسورڈ کی تبدیلی کا میسج نہ آجائے. بس اسی طرح کی حرکتوں سے اپنی خارش کیلئے تسکین کا سامان کرتا رہے گا. اب خارش کی چهوٹی بڑی ان تمام قسموں کو ملا لیں تو یہ ہزاروں میں بات چلی جاتی ہے. قسمیں جتنی بهی ہوجائیں سب کے سائیڈ افیکٹس اور آفٹر شاکس میں یکسانیت پائی جاتی ہے. ایک ہی طرح کی کهلبلی ہر خارش کی بنیاد ہے. بیزتی تو خراب ہوتی ہی مگر چس بهی آجاتی ہے. منکر نامرادی نے تبهی تو کہا تها

ہزاروں خارشیں ایسیں کہ ہر خارش پہ دم نکلے
جیسے نکلا عزت کا جنازہ ایسے جنازے کم نکلے

خارش کی داخلی قسم کی اپنی کئی قسمیں ہیں. سب سے معتبر قسم کا نام “عشق” ہے. یہ خارش انسان کو دهوبی کا کتا بنا کر رکه دیتی ہے جو گهر کا ہوتا ہے نہ گهاٹ کا. غالب جیسے اچهے بهلے انسان کو بهی نکما کر کے رکهدیتا ہے. منکر نامرادی نے کتنی خوبصورت بات کہی تهی

عشق پر زور نہیں،ہے یہ وہ خارش صاحب
کہ لگائے نہ لگے اور کهجائے نہ بنے

نفیس طبع لوگوں نے خارش اس داخلی اثرات میں پلنے والوں کو خارش زدہ لوگوں سے ہمیشہ فاصلے پہ رہنے کی تلقین کی ہے. خاص طور سے تب کہ جب آپ آیان جیسے پیکر نفیس کی عشوہ طرازیوں کے اسیر ہوچکے ہوں. سے ہمکنار ہونے جارہے ہوں. ایسے میں تو تو حکما نے سختی سے ڈیٹول استعمال کر نے کو کہا ہے خوشبو لگا کے. آیان نے بهروسہ کیا کہ ذولفقار علی بهٹو کا عزیز میلا نہیں ہوگا، مگر معاملہ میرا خیال ہے کہ برعکس ہوا. کہا جاتا ہے کہ ذولفقار علی بهٹو کا رشتے دار واقعی میں میلا نہیں ہے مگر اس سے شاید بد احتیاطی ہوئی کہ رحمن ملک سے ہاته ملانے کے بعد ہینڈ واش یوز کرنا بهول گیا.
میری اس بات سے منکر نامرادی البتہ اتفاق نہیں کرتے . وہ کہتے ہیں رحمن ملک سے مصافحے کی نوبت آنے سے بهی پہلے عالم پناہ سے کہہ دیا گیا تها کہ

ان خارشوں سے دوستی اچهی نہیں لالے
بچی تیری آیان ہے کچه تو خیال کر

(جاری ہے)

Najeeb Ali Shah

Najeeb Ali Shah

تحریر: نجیب علی شاہ