بزم غزل کے زیر اہتمام کیف عظیم آبادی کی برسی پر مشاعرہ کا انعقاد

Mushaira

Mushaira

دربھنگہ: خوش فکر و خوش و گلو شاعر کیف عظیم آبادی مرحوم کی بائیسویں برسی کے موقع پر بزم غزل کی جانب سے ایک شاندار طرحی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرہ کی صدارت کیف کی صاحبزادی ڈاکٹر زرنگار یاسمین نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مشترکہ طور پر ایم آر چشتی اور کامران غنی صبا نے انجام دئیے۔

اس مشاعرہ کے لئے مصرعۂ طرح ” تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسا نہ کرو” کا انتخاب کیا گیا تھا۔ مشاعرہ میں ڈاکٹر زرنگار یاسمین، پروفیسر اسرائیل رضا، ڈاکٹر منصور خوشتر، ایم آر چشتی، نور جمشیدپوری، کامران غنی صبا، مرغوب اثر فاطمی، نصر بلخی، نیاز نذر فاطمی، اصغر شمیم، یوسف جمیل اور جہانگیر نایاب نے اپنے کلام پیش کئے۔ مشاعرہ کا آغاز علامہ شبنم کمالی کی نعت پاک سے ہوا۔ اس موقع پر انعام عازمی اور احمد اشفاق نے کیف عظیم آبادی مرحوم کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔

مشاعرہ میں ڈاکٹر عبد الحنان سبحانی،شمیم قاسمی، حبیب مرشد خاں، طیب علی،مسرور کلیروی،ظفر عقیل، انجمن اختر، سید ارشد اسلم، آصف نواز، حامدی عازمی،ڈاکٹر مظفر بلخی سمت کثیر تعداد میں باذوق سامعین موجود تھے۔ مشاعرہ میں پیش کئے گئے کلام کا منتخب حصہ پیش خدمت ہے:

ڈاکٹر زرنگار یاسمین
اس کی تعبیر فقط کرب ہی ہوتی ہے زر
جاگتی آنکھوں میں تم خواب سجایا نہ کرو
ڈاکٹر اسرائیل رضا
چاہیے گر خیر تو اک بات یہ ازبر رہے
قدر انساں کی کبھی دل سے بھلایا نہ کرو
مرغوب اثر فاطمی
پائوں دھرتے جہاں اصحاب کا لہجہ بدلے
ایسی مجلس میں قدم بھول کے رکھا نہ کرو
ڈاکٹر منصور خوشتر
کارواں کتنے ہی غرقاب ہوئے ہیں اس میں
‘تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسا نہ کرو”
ایم آر چشتی
وقت نے مجھ کو یہ سکھلا ہی دیا ہے چشتی
‘تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسا نہ کرو’
نور جمشید پوری
سر اٹھا کر ہی چلو راہ محبت میں سدا
تم زمانے کی کسی طور بھی پروا نہ کرو
کامران غنی صبا
آئینہ ٹوٹ کے ہو جائے گا ریزہ ریزہ
تم مجھے دیکھ کے آئینے میں دیکھا نہ کرو
اصغر شمیم
اس کی فطرت میں ڈبونا ہے ڈبو دے گا تمہیں
‘تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسا نہ کرو’
نیاز نذر فاطمی
دولت و زر ہو کہ عہدہ ہو کہ رشتہ داری
جس سے عظمت کو لگے ٹھیس گوارا نہ کرو
نصر بلخی
اپنے دریا کو مری جان غنیمت سمجھو
‘تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسا نہ کرو’
جہانگیر نایاب
جانے آغوش میں اپنی وہ تمہیں کب لے لے
‘تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسا نہ کرو’
یوسف جمیل
دھڑکنیں شور مچاتی ہیں بہت دیر تلک
یوں اچانک مرے کمرے میں تم آیا نہ کرو