جرمنی کے دارالحکومت برلن میں نوروز کے موقعہ پر ٩ممالک کی مشترکہ تقریب اور ثفافتی میلہ

Dahlem Museum Berlin Noroz Festival

Dahlem Museum Berlin Noroz Festival

جرمنی (انجم بلو چستانی) برلن بیورو کے مطابق دنیا بھر میں ٣٠٠ ملین افرادبالکان، کائوکاکسس اور جنوبی و وسطی ایشیا میں نوروز کا تہوار مناتے ہیں۔ یہ لفظ فارسی زبان سے لیا گیا ہے،جس کے معنی ہیں ”نیا دن”۔اس دن موسم بہار کی موسم سرما پر فتح اورروشنی کے اندھیروں پر غلبہ کا جشن رقص و موسیقی کی صورت میں منایا جاتا ہے۔یہ تہوار ہزاروں سال پرانا اور اسلام کی آمد سے قبل موجود تھا۔تاہم ہر ملک اسے اپنے علاقہ کی روایات کے تحت مناتا ہے۔مخصوص کھانوں کی تیاری اس تہوار کا حصہ ہے۔مثلاً ایران میں” ہفت سین” کے نام سے سات کھانوں کی تیاری،جو لفظ س سے شروع ہوتے ہیں۔

اسی طرح افغانستان میں گھڑ سواری ا ور” بزکشی” یعنی بکرے ذبح کرنے کا مظاہرہ اور دوسرے ممالک میںانڈوں کا رنگنا،جلتی آگ کو پھلانگنا اور دیگر رسوم نوروز کے تہوار کا لازمی جزو بن چکی ہیں۔ ٢٠٠٩ء سے اس تہوار کوUNESCO میںدنیا کے ورثہ کے طور پر شامل کیا گیا ہے اور اسے ایک مسلم تہوار کا درجہ حاصل ہے۔ جرمنی کے دار الحکومت برلن میں نو روز کے موقعہ پر ایک تقریب اور ثقافتی میلہ کا اہتمام کیا جاتا ہے،جس میںمختلف مسلم ممالک کے سفارتخانوں کے ذریعہ ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

اس سال نوروز کے ثقافتی میلہ میںازبکستان،افغانستان،ایران،آذربائیجان، پاکستان، تاجکستان ، ترکی، ترکمانستان اورکرگستان نے شرکت کی اوراپنے ثقافتی شو پیش کئے۔جن میںاز بکستان کے رقص وموسیقی گروپ Guldiyor؛افغانستان کے استاد غلام حسین گروپ؛آذربائیجان کے جاز اور مگھم کے الحاق سے پیدا شدہ Sona Jafarova، Duo Sonetta اورSebastian Netta ؛ ایران کاموسیقی و گلوکاری کا گروپTasian Chorus ؛کرگستان کا رقص و گلوکاری کا طائفہ؛پاکستان کے سمیع برادران کا قوالی گروپ؛ ترکی کی نئی نسل کافوک ڈانس گروپ BEM؛ تاجکستان کا قومی رقص و موسیقی کاگروپ Zulaikho اور ترکمانستان کا موسیقی و گلوکاری کا طائفہ شامل تھا۔جن کی پیشکش کے دوران بچوں، نوجوانوں اور خواتین نے اسٹیج کے سامنے والہانہ انداز میں رقص کر کے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔

پاکستان کئی سال سے نوروز پر منعقد ہونے والے اس ثقافتی میلہ میں شریک ہو رہا ہے۔پاکستان کی جانب سے سمیع برادران قوال پارٹی نے صوفیانہ کلام پیش کر کے حاضرین کے دلوں کو گرما دیا۔پاکستانی اسٹینڈ پردستکاری ،کڑھائی،کشیدہ کاری اور پاکستانی مصنوعات کے نمونے، معلو ماتی بروشر اور بچوں کے لئے تصاویر بنانے کی کاپیاں موجود تھیں۔سفارتخانہ کی نمائندگی سفیر پاکستان جوہر سلیم کر رہے تھے۔ڈپٹی ہیڈ آف مشن میر خرم راٹھور،ہیڈ آف چانسری سجاد حیدر خان،ملٹری اتاشی بریگیڈیر آصف عدنان جاہ شاد اور عملہ کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔

جیو ٹی وی کے نمائندہ نے سفیر پاکستان جوہر سلیم کا مختصر انٹرویو لیا۔سفیر پاکستان نے کہا کہ” ہمارا ملک پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کا حامل ہے۔اس تہذیبی ورثہ کی دنیا میں بڑی قدر ہے۔ہزاروںسیاح موہنجو ڈارو،ہڑپہ اور ٹیکسلا کے کھنڈرات دیکھ چکے ہیں۔پاکستان پرامن اور ترقی پذیر ملک ہے،جو خطہ میں امن، سلامتی،ترقی اور خوشحالی کا خواہاں ہے۔” انہوں نے تمام ممالک کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ پاکستان کی جانب سے اس موقعہ پر پاکستان کا روایتی مرغ پلائو اور کھیر تیار کی گئی تھی،نیز سموسوں اور چٹنی کا اہتمام کیا گیا تھا۔

تقریب نوروز کا اہتمام Ethnologisches Museum کی جانب سے ایتھنولوگش میوزیم کے احباب کی انجمن کی سر پرستی اور اس ثقافتی میلہ میں شریک ممالک کے سفارتخانوں کے تعاون سے کیا گیا تھا۔تقریب کا آغاز ٢٠ مارچ، بروز اتوار، ٹھیک ١١ بجے ہوا۔ افتتاحی کلمات Stiftung Preußischer Kulturbesitz کے صدر Hermann Parzinger نے اداکئے۔ پھرڈائریکٹرایتھنولوگش میوزیم Viola König نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔آخر میں ایتھنولوگش میوزیم کے احباب کی انجمن (رجسٹرڈ) کے صدرVolker Hassemer نے مختصر خطاب کیا۔ثقافتی پروگرام کا آغاز ساڑھے گیارہ بجے ہوا، جو ٢ بجے دوپہر ایک گھنٹہ کے وقفہ کے ساتھ شام ٥ بجے تک جاری رہا۔ ہر ملک کے ثقافتی طائفہ کو آدھا گھنٹہ اسٹیج پر رہنے کا موقعہ ملا۔

وقفہ میں تمام شریک ممالک کے روایتی کھانوں سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔پروگرامز کی کوریج کے لئے جرمن پریس کے ساتھ ساتھ ویب سائٹ” پاکبان انٹرنیشنل” کے سربراہ، پاکستانی صحافی ظہور احمد اورایشین پیپلز نیوز ایجنسیAPNAانٹرنیشنل کے چیف ایگز یکٹئو،مشہور زمانہ ایشین یورپین صحافی و شاعر شکیل چغتائی ہمہ وقت موجود رہے۔ اس میلہ میں تقریباً ٦٠٠ شائقین شریک ہوئے، جن میں طلباء ،طالبات،اساتذہ،کاروباری شخصیات،سیاحت میں دلچسپی رکھنے والے افراد اور فنکار شامل تھے۔