جرمنی کی پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کے حکومت پاکستان سے مطالبات

Pak & Kash Community Meeting & Demands Ambassador J. Saleem, Pak Emb Berlin

Pak & Kash Community Meeting & Demands Ambassador J. Saleem, Pak Emb Berlin

جرمنی (انجم بلوچستانی) برلن بیورو اور مرکزی آفس برلن کے مطابق سفیر پاکستان برائے جرمنی جوہر سلیم کو جرمنی آئے ایک ماہ سے زیادہ ہو چکا ہے، مگر وہ اپنی عدیم الفرصتی کے باعث قومی تہوار وں اور تقریبات کے علاوہ ابھی تک جرمنی کی پاکستانی و کشمیری کمیونٹی سے کوئی باقاعدہ ملاقات نہیں کر پائے، جس کی روایت سابقہ سفیران کرام نے اپنی قیام گاہ پر کمیونٹی کی دعوت سے ڈالی تھی۔ اس صورتحال کے پیش نظر کمیونٹی رہنما شکیل چغتائی نے کمیونٹی کے مسائل و مطالبات سفیر محترم تک پہنچانے کے لئے ان سے ذاتی طور پر وقت لیا اور دیگر کمیونٹی سربراہان سے مشورہ کرکے اس ملاقات کو کمیونٹی ملاقات میں تبدیل کردیا۔

انہوں نے ان مسائل و مطالبات کو تحریری شکل دی اورمورخہ١٥ اپریل ٢٠١٦ ئ، بروز جمعہ پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کے سیاسی،سماجی اور دینی رہنمائوں کے ایک وفد کے ہمراہ سفیر پاکستان جوہر سلیم سے سفارتخانہء پاکستان برلن میں ملاقات کی اور انہیں کمیونٹی کے مسائل و مطالبات سے آگا ہ کیا۔جنکی تفصیل یہ ہے:

١۔ سفارتخانہ میںڈیجیٹل پاسپورٹ کا اجراء جاری رکھا جائے۔پاسپورٹ کے بارے میں ثبوت کی فراہمی جیسے نکات کو حل کرنے میں کمیونٹی کی مدد کی جائے،تاکہ پاسپورٹ کے حصول کے تمام مراحل جرمنی میں ہی سفارتخانہ کے ذریعہ حل ہوں۔ ٢۔ جرمنی کے پاکستانیوں کا دیرینہ مطالبہ” دوہری شہریت کی اجازت” ،جو سابق سفیر محترم حسن جاویدنے حکومت پاکستان تک پہنچایا تھا، پایہء تکمیل تک پہنچایا جائے۔

٣۔غیر ممالک میں مقیم دنیا کے دیگر شہریوں کی طرح پاکستانی ا و رکشمیری شہریوںکے حق رائے دہی کو تسلیم کیا جائے ۔ غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کو پاکستان اور آزاد کشمیر کے جملہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دیتے ہوئے،سفارتخانہء پاکستان کے توسط سے اس پر عمل پیرا ہونے کی سہولت فراہم کی جائے۔

٤۔برلن کے پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دیرینہ مطالبہ کو پورا کرتے ہوئے،سفارتخانہ ء پاکستان کی جانب سے کوئی جگہ خرید کر،کرایہ پر لے کر،جرمن حکومت سے مستعار لے کر ایک” پاکستان سنٹر” قائم کیا جائے، جہاں کمیونٹی تنظیمات کو،دینی،سماجی، قومی تقریبات منعقد کرنے کی اجازت دی جائے۔

٥۔ جرمنی سے میت کو بلا معاوضہ پاکستان روانہ کرنے کی سہولت برقرار رکھی جائے۔چاہے اس کے لئے کوئی ایر لائن بھی استعمال ہو،جس کا بندوبست سفارتخانہء پاکستان کی ذمہ داری ہو۔ ٦۔ جرمنی میں پی آئی اے کی پروازیں بحال کی جائیں، بلکہ انکا دائرہ کار برلن تک بڑھایا جائے۔ ٧۔پاکستانی شہریت سے متعلق ہر قسم کے کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر کاغذات کی فیس میں کمی کی جائے۔

٨۔غیرممالک میں مقیم پاکستانیوں کو پاکستانی ایر پورٹس ،سی پورٹس یا سرحدوں پر سہولیات فراہم کی جائیں ٩۔پاکستان کے کسٹم قوانین کو تبدیل کر کے غیر ممالک میں مقیم، یا مستقل طور پر واپس آنے والے اہل وطن کو موجودہ سہولیات سے دوگنا زیادہ سہولیات اور مراعات دی جائیں،تاکہ ان محب وطن پاکستانیوں اور کشمیریوں کی دل جوئی اور ہمت افزائی ہو سکے۔

اس وفد میں اسلامی تحریک برلن کے امیرعبدالوارث،رکن مجلس شوریٰ اور مدیر سہ ماہی دستک برلن رخسار انجم؛،انجمن پاکستان برلن کے صدر اور پاکستان مسلم لیگ(ن) برلن کے چیف آرگنائزرمحمد نذیر چیمہ؛ ایشین جرمن رفاہی سوسائٹی کے چیرمین ،چیف کوآرڈینیٹر پاکستان عوامی تحریک یورپ ،میڈیا کوآرڈینیٹر تحریک منہاج القرآن یورپ محمد شکیل چغتائی؛،پاک محمد مسجد برلن کے صدرشوکت علی؛پاکستان پیپلز پارٹی برلن کے میڈیا انچارج اورچیف ایڈیٹر ویب اخبار پاکبان انٹرنیشنل ظہور احمد؛ پاکستان عوامی تحریک جرمنی کے سینئر نائب صدر اور صدر مجلس شوریٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل برلن ٰخضر حیات تارڑ؛جرمن پاکستان فورم(برلن ریجن) کے ریجنل سربراہ وزیر حسین ملک اورمنہاج القرآن انٹرنیشنل برلن کے جنرل سکریٹری محمد ارشاد شامل تھے۔

اس موقعہ پرسفارتخانہء پاکستان کے ہیڈ آف چانسری سجاد حیدر خان اورتھرڈ سکریٹری عدنان جاوید خان بھی موجود تھے۔محمدشکیل چغتائی نے وفد کے اراکین کا تفصیلی تعارف کرواتے ہوئے اس ملاقات کا مقصد بیان کیا۔ رسمی بات چیت کے بعدپاکستانی و کشمیری کمیونٹی کے مسائل و مطالبات پڑھ کر سنائے گئے،جن کا جواب دیتے ہوئے سفیر پاکستان جوہر سلیم نے تمام مطالبات کو جائز قرار دیا۔

انہوں نے ان مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی اورانہیںحکومت تک پہنچانے نیزان کی حمایت کرنے کاوعدہ کیا۔وفد کے اراکین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سفیر پاکستان کے مثبت جوابات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔وفد سے بات چیت کی روشنی میں سفیر پاکستان جوہر سلیم نیکمیونٹی کے روزمرہ مسائل سے آگاہی کے کے لئے کھلی کچہری کا اعلان کیا،جو شروع میں مہینہ میں ایک بار منعقد ہوگی، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے ہفتہ وار بھی کیا جا سکے گا۔اس طرح کمیونٹی کی سفیر پاکستان سے ملاقات انتہائی کامیاب قرا ردی جا سکتی ہے۔