بزم غزل کی طرف سے بین الاقوامی طرحی مشاعرہ کا اہتمام

Bazme Ghazal

Bazme Ghazal

پٹنہ (پریس ریلیز) واٹس ایپ گروپ ‘بزم غزل ‘ کی طرف سے ایک شاندار بین الاقوامی طرحی مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ہندوستان اور ہندوستان سے باہر کے معروف شعرائے کرام نے اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرہ کی صدارت ترانۂ بہار کے خالق مشہور و معروف نوجوان شاعر ایم آر چشتی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض نوجوان شاعر و صحافی ڈاکٹر منصور خوشتر اور کامران غنی صبا نے مشترکہ طور پر انجام دئیے۔

مشاعرہ میں جن شعرائے کرام نے شرکت کی ان کے اسمائے گرامی ہیں: ایم آر چشتی، پروفیسر اسرائیل رضا، مرغوب اثر فاطمی، ڈاکٹر منصور خوشتر، کامران غنی صبا، خورشید الحسن نیر (ریاض)، منصور قاسمی (ریاض)، نور جمشیدپوری (ریاض)، اصغر شمیم، ڈاکٹر مظفر بلخی، نیاز نذر فاطمی، نصر بلخی، جہانگیر نایاب، یوسف جمیل اورنگ آبادی اور ایم رضا مفتی۔صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے ایم آر چشتی نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ واٹس ایپ مشاعروں کی جو روایت بزم غزل نے شروع کی تھی وہ تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور ملک و بیرون ملک اس طرز کے مشاعرے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا عزم کیا کہ اراکین بزم غزل کے تعاون سے ٹکنالوجی کا صحیح استعمال کر کے شعر و ادب کو فروغ دینے کی کوششیں کی جاتی رہیں گی ۔ مشاعرہ میں پیش کیے گئے کلام کا منتخب حصہ پیش خدمت ہے۔

ایم آر چشتی
میں نہ کہتا تھا محبت نہیں کرنا ائے دوست
”اب اگر ٹوٹ گئے ہو تو شکایت کیسی”
خورشید الحسن نیر
جس سے حاصل ہو محبت ، نہ عنایت، نہ سکوں
بنت حوا تو بتا ایسی بغاوت کیسی
ڈاکٹر مظفر بلخی
وقت کے درد کو افسانہ بنا کر بلخی
ہے حقیقت کو چھپانے کی روایت کیسی
پروفیسر اسرائیل رضا
ہم تو کہتے تھے رضا دل نہ لگانا ہرگز
”اب اگر ٹوٹ گئے ہو تو شکایت کیسی”
ڈاکٹر منصور خوشتر
راہ دشوار، سفر دھوکہ تو منزل موہوم
بے وفا سے کوئی امید رفاقت کسی
نصر بلخی
رہِ الفت میں طلب کرتے ہو راحت کیسی
آبلہ پائی نہیں ہو تو مسافت کیسی
کامران غنی صبا
خواب ہو، دل ہو، امیدیں ہوں کہ آئینہ صبا
ٹوٹنے والی کسی شئے کی حفاظت کیسی
نور جمشید پوری
متحد رہ نہ سکے فرقوں میں بانٹا خود کو
”اب اگر ٹوٹ گئے ہو تو شکایت کیسی”
اصغر شمیم
دینے والے تجھے دینا ہے تو دل کھول کے دے
ہاتھ کو روک لیا ہے تو سخاوت کیسی
مفتی منصور قاسمی
تجھ کو منزل کا پتہ ہے نہ مجھے گھر کی خبر
ایک کشتی کے مسافر ہیں عداوت کیسی
ایم رضا مفتی
مدتوں بعد ترے شہر کو آیا ہوں میں
جام دیدار پلا دے یہ بخالت کیسی
مرغوب اثر فاطمی
دیکھو سرحد سے گھسے آتے ہیں ہر دن مہماں
چوکسی ایسی ہو مہمل تو حفاظت کیسی
نیاز نذر فاطمی
عمر بھر طفل طبیعت کو شرارت سوجھی
وقت آخر میں جگی خواہش جنت کیسی
جہانگیر نایاب
مطلبی ہو گیا نایاب زمانہ سارا
اب بدل جائے اگر کوئی تو حیرت کیسی
یوسف جمیل
ایک اک کر کے دئیے سارے بجھے جاتے ہیں
ان ہوائوں کو یہ سوجھی ہے شرارت کیسی