ووٹرس بیداری کے لئے بزم غزل کی طرف سے شاندار مشاعرہ کا انعقاد

Bazam Ghazal

Bazam Ghazal

پٹنہ/ دربھنگہ: ووٹ ڈالنا ہمارا قانونی حق ہے۔الیکشن کے زمانے میں حکومت اور مختلف تنظیموں کی طرف سے بار بار ووٹ کی اہمیت سمجھائی جاتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت کل رات واٹس گروپ بزم غزل کی جانب سے ایک بین الاقوامی آن لائن مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں دنیابھر کے شعرا ء شاعرات نے حصہ لیا اور انتخابات کے تعلق سے بہترین کلام پیش کئے۔

مشاعرہ کی صدارت دوحہ قطر میں مقیم معروف شاعر احمد اشفاق نے کی جبکہ نظامت کے فرائض پٹنہ سے نوجوان شاعر کامران غنی صبا نے انجام دئیے۔بزم غزل کے بانی اور بہار ریاستی گیت کے خالق نوجوان شاعر ایم آر چشتی نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے ووٹرس بیداری مہم کے طورپر منعقد اس مشاعرے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔مشاعرہ میں انوراگ سنگھ عرش، عارش نظام، کلیم اللہ کلیم، انجمن اختر، انعام عازمی، مظہر وسطوی، ڈاکٹر آرتی، ایم رضا مفتی، ریاض احمد، سفیان فلاحی، بے نام گیلانی، نیاز نذر فاطمی، سمیر پریمل، منصور قاسمی،انور اعجاز، گلریز شہزاد، مرغوب اثر فاطمی، نور جمشید پوری، ڈاکٹر زرنگار یاسمین، احمد عثمانی، رخسار ناظم آبادی، جمیل اختر شفیق، چاندنی پانڈے، ڈاکٹر عبدالحنان سبحانی، کامران غنی صبا، ڈاکٹر منصور خوشر،ایم آر چشتی،سنجے کمار کندن، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، ڈاکٹر اسرائیل رضا، پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی اور پروفیسر عبد المنان طرزی جیسے باکمال شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے احمد اشفاق نے کہا کہ ایک جمہوری ملک کا شہری ہونے کے ناطے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم جمہوریت کی بقا و تحفظ کے لئے اپنے حصہ کی شمع روشن کریں۔

انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ آج کے مشاعرہ میں شعرائے کرام نے اپنے کلام کے توسط سے معاشرے کو مثبت پیغام دینے کی کوشش کی۔ پروفیسر اسرائیل رضا، سابق صدر شعبۂ اردو، پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے شکریہ پر مشاعرہ کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔ مشاعرہ کے اختتام کے بعد بزم غزل گروپ اور واٹس ایپ مشاعرہ کے بانی ایم آر چشتی نے تمام شعرائے کرام کی خدمت میں توصیفی سند بھی پیش کی۔مشاعرہ میں پیش کئے گئے کلام کا منتخب حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔

کلیم اللہ کلیم
منصفی کی امید کیسے کریں
سارے قاتل تری پناہ میں ہیں
مظہر وسطوی
آپس کی دیوار کو کر دیں ہم مسمار
تب جا کر اس دیش سے ہوگا سچا پیار
انعام عازمی
دہشت جو پھیلاتے ہیں، وہ انسان نہیں ہوتے
ہر مذہب میں ہوتے ہیںکچھ گندے کچھ اچھے لوگ
ایم رضا مفتی
ترنگا اپنا فلک کو ہمیشہ چھوتا رہے
کہ جان دے کے بھی اس کو سنبھال رکھنا ہے
ریاض احمد
جب تک مجھ میں باقی جان، بنی رہے گی تیری شان
اے میرے بہار، اے میرے بہار
سمیر پریمل
بن گیا میں اذان مسجد کی
تو بھی مرلی کی تان ہو جائے
منصور قاسمی
یہ جو ہمدرد الیکشن کے سمے بنتے ہیں
یہی رہزن ہیں ہمیں لوٹ کے کھانے والے
اعجاز انور
کوئی محفوظ سے چھت چاہتی ہے
سیاست اب شرافت چاہتی ہے
ڈاکٹر زرنگار یاسمین
دے کر فریب سب کو بنایا ہے بے وقوف
کہتے تھے جو چنائو قبل دوں گا نوٹ میں
احمد عثمانی
نہ ہوتا گر بلائے جاں یہ موذی
بہت پر امن سا ہوتا یہ گلشن
رخسارناظم آبادی
اسی کی گود میں اک روز مجھ کو سونا ہے
وطن عزیز ہے مجھ کو تو اپنی ماں کی طرح
کامران غنی صبا
آپ کا حق آئینی ہے یہ/اس میں سستی نہ کیجئے صاحب
اچھے لوگوں کی حکمرانی ہو/ اس لئے ووٹ دیجئے صاحب
جمیل اختر شفیق
شفیق اس عہد کی گندی سیاست سے الگ رہنا
یہاں ہر موڑ پر ابلیس کے سرداربیٹھے ہیں
ڈاکٹر عبدالحنان سبحانی
سبق پھر پڑھ رذالت کا، شرارت کا، خباثت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیاکی سیاست کا
سنجے کمار کندن
کوئی ہندو ہے ، کوئی مسلماں، کوئی مومن ہے اور کوئی کافر
پینچ صدیوں کے کیسے کھلیں گے، کون نفرت کی دوری مٹائے
ڈاکٹر منصور خوشتر
اچھے دن کی آرزو میں کھو گئے کچھ اچھے دن
کیا برے دن گیا خوشتروہ پچھلا انتخاب
ایم آر چشتی
لو آ گیا ہے سوال و جواب کا موسم
ہمارے صوبے میں پھر انتخاب کا موسم
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی
خدمت ملت میں ہے مشاق گو سب کی زباں
زور بازو بھی مگر کچھ آزما جائیں نہ کیوں
ڈاکٹر اسرائیل رضا
بہاریو! چلو آئو سجائیں اپنا بہار
کوئی فریب سے کرلے نہ پھر دوبارہ شکار
پروفیسر عبدالمنان طرزی
ظالم کی حکومت نہیں قائم ہو الٰہی
فرعون سے محفوظ رہے تیری خدائی