آج میرا دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑک رہا ہے اور دماغ شہدا کی سوچ میں گم ہے۔ شکیل چغتائی

Shakeel Chughtai

Shakeel Chughtai

جرمنی (انجم بلوچستانی) برلن بیورو اور مرکزی آفس برلن MCBیورپ کے مطابق آج دنیا بھرمیں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی،حقوق انسانی اور حق استصواب رائے کی حمایت میںکشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا جارہا ہے۔اس سلسلے میں تقاریب،جلسے، جلوس اور مظاہروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔پاکستان کی طرح یورپ میں بھی حکومت پاکستان سرکاری طور پر یہ دن مناتی ہے،مگر اسکا اصل جوش و خروش پاکستانیوں اور کشمیریوں کی تنظیمات کے پروگراموں میں نظر آتا ہے جرمنی کے صنعتی مرکز فرانکفرٹ، ہامبرگ، ہنوور اور دارالحکومت برلن میں ہر سال اس دن جلسہ اور مظاہرہ کا انتظام ہوتا ہے۔ آج شام سفارتخانہء پاکستان برلن میںتقریب یوم یکجہتی کشمیر منعقد ہوگی۔

اس موقعہ پر ناموریورپی ایشین صحافی و شاعر، چیف کوآرڈینیٹرپاکستان عوامی تحریکPATیورپ،ورلڈ چیرمین کشمیر فورم انٹرنیشنلKFI ، چیرمین ایشین جرمن رفاہی سوسائٹیAGRS ،محمد شکیل چغتائی نے اپنا انٹرنیشنل کی وساطت سے بیان جاری کرتے ہوئے تمام پاکستانیوں، کشمیریوں ، امت مسلمہ و دنیا کے شہریوں کو یہ پیغام دیاہے: ”آج یوم یکجہتی کشمیر ہے،کشمیر یوں سے اظہار یکجہتی کادن،انکی جدوجہد آزادی کو سلام پیش کرنے کا دن،انکے حق رائے دہی کیلئے آواز اٹھانے کا دن،انکے انسانی حقوق سلب کرنے والوں کی مذمت کا دن، کشمیریوں کی اخلاقی مدد اوردنیا کے ہر پلیٹ فارم پر انکی حمایت میں بولنے کا دن۔میں امسال ناسازیء طبع کی بناء پرمظاہرہ میں کھڑے ہو کر نعرے نہیں لگاسکتا، مگر میں دنیا کے امن پسند باشندوں کو پیغام تو دے سکتا ہوں۔کشمیریوں کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

جبر،جور، ظلم و تشدد اور نا جائز اقدامات سے انکی آزادی سلب نہیں کی جا سکتی۔نہ جا نے یہ بات بھارت سمیت پوری دنیا کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی۔ دنیا کے بڑے، بااثر، طاقتور اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے ممالک مسلئہ کشمیر پرایک منافقانہ اور مصلحت آمیز رویہ رکھتے ہیں،امت مسلمہ میں شامل ممالک کی مجرمانہ خاموشی،بھارت کی ہٹ دھرمی و پاکستان کی بے بسی اس مسئلہ کو کسی حل کی طرف لے جانے میں ناکامی کے کچھ اسباب ہیں۔لہٰذا میںمجاہدین کشمیر کی انتھک جدوجہد آزادی،لازوال قربانیوں اور جذبہ حریت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ہمت نہ ہارنے کی تلقین کرتا ہوں۔انہیں اپنے زور بازو پریقین رکھنا ہو گا۔ہم انکی اخلاقی مدد تو کر سکتے ہیں۔

مگر پاکستان کی سر زمین سے کسی غیر ملک میں جاکر وہاںلڑنے سے قاصر ہیں۔ بین الاقوامی قوانین اسکی اجازت نہیں دیتے۔لیکن یقین رکھئے ہم دنیا کے ہر فورم پر آپکی حمایت کرتے رہیں گے کشمیریوں جیسی غیرتمند قوم کوہمیشہ غلام نہیں رکھا جا سکتا۔ میں اپنی ، KFI،PATیورپ اورAGRS کے تمام عہدیداران، اراکین اور ہمدردوںکی طرف سے کشمیریوں کو انکے جائز مطالبات کے حصول کے لئے کی جانے والی طویل جدوجہد پر سلام پیش کرتا ہوں،انکی حمایت کرتا ہوں اور بھارت کی پیرا ملٹری فورسز کے کشمیر پرناجائز قبضہ،انکے کشمیریوں پر ظلم و ستم اوربھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی کی پر زورمذمت کرتا ہوں۔

آج کے دن میں پاکستان میںپیش آنے والے حالیہ واقعات کے بارے میں بھی فکرمند اور رنجیدہ ہوں۔پشاور میں باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے قاتلانہ حملے سے پڑوسی ممالک کے بارے میںجو خدشات پیدا ہوئے ہیں،وہ قابل تحقیق ہیں مگر مسلئہ کشمیر کی طرح ان کی تاریخ بھی بڑی پرانی ہے۔بھارت اور افغانستان کوپاکستان پر در اندازی اور دہشت گردی کے الزامات لگانے سے پہلے اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنا چاہئے۔اسی طرح اسلامی ممالک کو پاکستان میں فرقہ واریت کے فروغ کے بجائے مسلئہ کشمیر جیسے معاملوں پر پاکستان کی ہر طرح حمایت کرنی چاہئے۔مگر اسلامی دنیا کے حکمرانوں نے مغرب کی طرح مصلحت کی چادر اوڑھ رکھی ہے،ورنہ یہ مسئلہ کبھی کا حل ہو چکا ہوتا۔بھارت سے ملنے والے مالی فوائد،افرادی قوت اورٹیکنالوجی مسلم ممالک کو پاکستان کی کھل کر حمایت سے باز رکھتی ہے۔

خود پاکستان کے حکمران ابھی تک نہ ہی مسلئہ کشمیر کا کوئی حل نکال سکے ہیں اور نہ ہی اندرون ملک مسائل سے نبٹ سکے ہیں۔ٹرانسپورٹ کے علاوہ کسی اور شعبہ میں ترقی کا فقدان ہے۔توانائی، مہنگائی اور بیروز گاری کے جن قابو میں نہیں آسکے سونے پر سہاگہ انکا وہ آمرانہ رویہ ہے،جوملکی مسائل کو کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔اسکی تازہ مثال پی آئی اے کی نجکاری یا جزوی نجکاری کا معاملہ ہے،جو دو یا تین احتجاجی افراد کی شہادت،کئی افراد کے زخمی ہونے اور خواتین پر تشدد کے بعدمزید پھیل گیا ہے۔اس لئے آج میرا دل کشمیریوں کی محبت میں انکے ساتھ دھڑک رہا ہے اور میرا دماغ PIAکے تعلیم یافتہ، مہذب، مزدور شہداء کے سوگ اور انکے لواحقین کو پہنچنے والے اس عظیم نقصان کی سوچوں میں گم ہے۔

پاکستان کے حکمرانو! کشمیریوں سے سبق لو،پاکستان کی آزادی کی قدر کرو۔عوام کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھائو،انکی مشکلیں آسان کرو۔عدلیہ کے بے تاج بادشاہو!عوام کوعدل و انصاف مہیا کرو،انکی داد رسی کرو۔افواج پاکستان کے دلیر جوانو اور جرنیلو!عوام کو اپنا سمجھو،احتساب میں رعایت نہ برتو،دہشت گردی کا خاتمہ کردو،اسکے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچائو ، سرحدوں کی حفاظت اور کڑی نگرانی کرو۔ امت مسلمہ میں شامل ممالک کے حکمرانو!خوواب غفلت سے بیدار ہو جائو،ایک دوسرے کو نیست ونابودکرنے کے بجائے باہمی اتحاد و بھائی چارے کی بات کرو۔امت مسلمہ کے درمیان تجارت،تعلیم، تحقیق اورٹیکنالوجی کے شعبہ میں تعاون کرو،فرقہ بندی سے گریز کرو اور ایکدوسرے کی مدد کرو۔

دنیاکے طاقتور اور بارسوخ ملکو! منافقانہ سیاست ترک کر دو،انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرو،اسلامی ممالک کے بارے میں دو رخی پالیسی اختیار نہ کرو،امن کے قیام میںاپنا کردار ادا کرو،جنگ کی حوصلہ افزائی نہ کرو،اپنی غلطیوں کی تصیح کرو،فلسطین، کشمیراور دیگر حل طلب مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کرو۔اسی میں دنیا اور انسانیت کی بھلائی ہے۔”