یوم آزادی کے موقع پر ”بزم غزل” کی جانب سے بین الاقوامی مشاعرہ کا انعقاد

Bazme Ghazal

Bazme Ghazal

پٹنہ (کامران غنی) دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہوتے واٹس ایپ گروپ’بزم غزل’ کی جانب سے یوم آزادی کے موقع پر تیسرے بین الاقوامی مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس مشاعرہ میں ہندوستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے شعرائے کرام نے شرکت کی اور جذبۂ حب الوطنی نیز امن و خیر سگالی کے جذبے کو فروغ دینے والے اشعار پیش کئے۔

مشاعرہ کی صدارت بہار ریاستی گیت کے خالق اور مشہور شاعر جناب ایم آر چشتی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعر جمیل اختر شفیق نے انجام دئیے۔ صدر مشاعرہ ایم آر چشتی نے تیسرے انتہائی کامیاب مشاعرہ کے انعقاد پر منتظمین مشاعرہ خاص طور سے بزم اردو قطر کے جنرل سکریٹری احمد اشفاق، دربھنگہ ٹائمس کے مدیرڈاکٹر منصور خوشتر اور اردو نیٹ جاپان کے مدیر اعزازی کامران غنی صبا کے ساتھ ساتھ بزم غزل کے باذوق اراکین کا شکریہ ادا کیا

جن کی کوششوں سے بہت جلد ہی اس گروپ کو بین الاقوامی شناخت اور عالمی معیار حاصل ہوا۔ مشاعرہ میں احمد اشفاق(دوحہ ، قطر)، امجد علی سرور(دوحہ قطر)،انور آفاقی(سعودی عرب)، منصور قاسمی(سعودی عرب)،ذیشان ہاشمی(دمام)، نور جمشید پوری(سعودی عرب)، پروفیسر عبد المنان طرزی، ڈاکٹر شاکر خلیق، ڈاکٹر آرتی، رضوان دربھنگوی، ڈاکٹر منصور خوشتر،ایم آر چشتی، جمیل اختر شفیق، اصغر شمیم،کامران غنی صبا، نصر بلخی، عائشہ چاند، حیدر وارثی، ذیشان احمد، انعام عازمی، پنکج کرن، سمیر پریمل، نذر الاسلام اور ایم آے صارم نے شرکت کی۔ اس مشاعرہ کو گزشتہ دو مشاعروں سے بھی زیادہ پسند کیا گیا۔ دیر رات تک سامعین و ناظرین کی طرف سے داد و تحسین کا سلسلہ جاری رہا۔ مشاعرہ میں پروفیسر اسرائیل رضا، ڈاکٹر زرنگار یاسمین،ندیم ماہر، حسیب اعجاز عاشر، نوشاد منظر، غفران ساجد قاسمی،حشمت امجدی، شاہنواز بدر قاسمی اور احمد عثمانی سمیت کثیر تعداد میں دانشورانِ علم و ادب اور ناظرین و سامعین موجود تھے۔

‘بزم غزل ‘ کی جانب سے آئندہ ماہ 5ستمبر 2015 کو ایک طرحی مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مصرعہ طرح ہے’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے’۔ (قافیہ: دل، باطل، عاقل، قاتل، محمل، بزدل وغیرہ، ردیف: میں ہے)۔ باہر کے شعرا اس ماہ کے آخر تک اپنی غزل منتظمین مشاعرہ کو مختصر تعارف اور تصویر کے ساتھ بھیج سکتے ہیں۔مشاعرہ جشن آزادی میں پیش کئے گئے کلام کا انتخاب قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

سفیان فلاحی(سہارنپور)
جب نعت نبیۖ میں لکھتا ہوں اشعار سے خوشبو آتی ہے
اور ذکر نبی ۖ جب کرتا ہوں گفتار سے خوشبو آتی ہے

ذیشان احمد(حیدرآباد)
ائے راہ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

نیر اعظم(حاجی پور)
ہے محبت اس وطن سے اپنی مٹی سے ہمیں
اس لیے اپنا کریں گے جان و تن قربان ہم

نذر الاسلام(دہلی)
وطن کی پاسبانی جان و ایماں سے بھی افضل ہے
میں اپنے ملک کی خاطر کفن بھی ساتھ رکھتا ہوں

انعام عازمی(مظفر پور)
آزادی کا مطلب کیا ہے
عورت کی عزت لوٹو

پنکج کرن(مظفر پور)
ہمیں تہذیب دنیا کی وہ کچھ ایسے سکھاتا ہے
نگاہیں ہم اٹھاتے ہیں تو وہ انگلی اٹھاتا ہے

سمیر پریمل( پٹنہ)
ہر دھڑکتے دل میں اک پیغام ہونا چاہیے
زندگی کا بھی کوئی عنوان ہونا چاہیے

رضوان دربھنگوی( کولکاتا)
ہمارا ملک سونے کی ہے چڑیا
بچانا ہے بچانے آ گئے ہم

نصر بلخی( پٹنہ)
اسیر جور و جفا ظلم کی قطار میں ہیں
قتیل ناز شہادت کے انتظار میں ہیں

اصغر شمیم( کولکاتا)
میرے پرکھوں نے لہو دے کر سنوارا ہے اسے
کون کہتا ہے کہ یہ ہندوستاں میرا نہیں

عائشہ چاند(میسور)
ہند ہے میری زمیں اور ہند ہے میرا وطن
اس کی سونے کی زمیں ہے اور چاندی کا گگن

حیدر وارثی(دربھنگہ)
علم و ہنر کی دولت دینا ہے آج سب کو
سکھ چین اور عزت دینا ہے آج سب کو

منصور قاسمی (سعودی عرب)
وطن کی عزت و ناموس ہم لٹنے نہیں دیں گے
ترنگا شان ہے اپنی کبھی جھکنے نہیں دیں گے

نور جمشیدپوری(سعودی عرب)
ہزاروں میل کی دوری سے ہم یہ کام کرتے ہیں
دعا اپنی ہر اک اپنے وطن کے نام کرتے ہیں

ذیشان ہاشمی (دمام)
کہہ رہے ہیں لوگ سارے آج ہم آزاد ہیں
اور میں سو بار کہتا ہوں یہ آزادی نہیں

ایم اے صارم(دربھنگہ)
وطن پہ ناز ہے مٹ جائیں گے وطن کے لیے
یہیں کی چاہیے دو گز زمیں دفن کے لیے

ڈاکٹر آرتی(مظفر پور)
اس طرح لڑتے رہے تو ایکتا مٹ جائے گی
دیکھنا یہ دیس ایک دن کھوکھلا رہ جائے گا

کامران غنی صبا(پٹنہ)
نفرتیں سر اٹھا نہیں سکتیں
ابھی اردو زبان زندہ ہے

جمیل اختر شفیق(سیتامڑھی)
وطن کی آبرو پہ وہ ابھی بھی جان دے دیں گے
جنھیں کچھ لوگ اپنے دیس میں بدنام کرتے ہیں

ایم آر چشتی(مظفر پور)
ہمارے ملک میں پھر سے کھلیں غنچے محبت کے
یہی میری دعا ہے اور یہی ارمان میرا ہے

ڈاکٹر منصور خوشتر(دربھنگہ)
اک طرف رشیوں منیوں کی کٹیائوں میں روز بھکتی کتھا
اک جانب ولی صوفی کے آستاں ، اپنا ہندوستاں

انور آفاقی(سعودی عرب)
درد اور ٹیس سے مر جاتے ہیں کیسے کچھ لوگ
میں نے زخموں کے سمندر میں سکوں پایا ہے

ڈاکٹر شاکر خلیق(دربھنگہ)
ہر برس جمہور کا ہوتا ہے جشن
اب بھی کچھ لوگوں کے گھر برباد ہیں

احمد اشفاق(دوحہ ، قطر)
صلہ اتنا ملا ترک وطن کا
ہماری گھر میں وقعت ہو رہی ہے

امجد علی سرور(دوحہ، قطر)
ٹھنی ہے روشنی سے تیرگی کی
یقینا جیت ہوگی روشنی کی

پروفیسر عبد المنان طرزی(دربھنگہ)
بہار تیری نگاہوں سے رنگ بھرتی ہے
صبا گلی سے تری با ادب گزرتی ہے