میں سکینہ ہوں میرے پاکستان

Indian village

Indian village

تحریر: شاہ بانو میر
کچھ عرصہ قبل ایک سپاہی غلطی سے سرحد پار کر کے بھارت کے کسی گاؤں میں داخل ہو گیا ـ گاؤں والوں نے اسمگلر سمجھ کر ایک گھر میں اندر بند کر دیا رات ہوئی تو اس گھر کی ایک عورت نے دبے پاؤں چوری چوری دروازہ کھولا اور ہاتھ میں پکڑی چنگیر میں کھانا اس کے سامنے رکھتے ہوئے سرپے ایک ہولے سے چپت رسید کرتے ہوئے کہا ـ میرے پاکستان کا نام بدنام کیوں کرتے ہو؟ ـ سپاہی نے استعجاب سے خاتون کو دیکھا جو حلیے سے سردارنی دکھائی دے رہی تھی، اور روکھے انداز میں کہا میں اسمگلر نہیں ہوں ـ میں پاک فوج کا سپاہی ہوں ـ یہ سنتے ہی اس خاتون کی آنکھوں میں نمی آئی ـ اور کھانا اسکی طرف سرکاتے ہوئے بولی لو کھا لو بھوکے ہو گے ـ

سپاہی نے تذبذب سے پوچھا آپ کون ہیں جو اتنی ہمدردی دکھا رہی ہیں ـ خاتون نے گلوگیر آواز میں کہا میں بلونت کور نہیں ہوں ـ میں تو”” سکینہ”” ہوں ـ جو تقسیم کے وقت بلونت کور بنا دی گئی ـ اور ایسی اڑہائی لاکھ سکینہ تمہیں گرد و نواح میں مل جائیں گی ـ سب شہداء کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں ـ مگر ہم جیسی سکینہ کی قربانی کسی کو شائد یاد ہی نہیں ـ جو آج بھی اتنی مدت گزر جانے کے باوجود بچوں کی بیماری میں کسی بھی درد تکلیف میں منہ پاکستان کی جانب کر کے اسکا نام لے کے دعائیں کرتی ہیں ، وہاں کے لوگوں کی سلامتی اورخوشیوں کیلیۓ آج بھی دعاگو رہتی ہیں ـ بیٹے کوئی ایساکام کبھی نہ کرنا جس سے ہمارا مان ٹوٹے ـ

Pakistan

Pakistan

سپاہی کہتا ہے وہ اس واقعے کو مرتے دم تک نہیں بھول سکتا ـ قربانیوں کی ایک طویل فہرست ہے جو لاکھوں جانوں کے خون سے سجی پڑی ہے ـ آج جو حال اس ملک کا ہے کیا یہی ماحول یہی بے حیائی یہی فحاشی اور یہی لاعلمی لادینیت پھیلانے کیلیۓ ہم نے الگ ملک کا نعرہ لگایا تھا ـ پاکستان کا موجودہ نظام نظام کے نام پر ایک شرمناک تمانچہ ہے ـ ہر کوئی اپنا الو سیدھا کرتا ہے ـ اکثر سیاسی قائدین اسکی ٹوپی اسکے سر اور اس کی ٹوپی اس کے سر پہنا پہنا کر پاکستان کا نام لیکر ذاتی فوائد اور ذاتی شہرت کے دلدادہ ہیں ـ ہر انسان کو شہرت کا نام کمانے کا حق ہے لیکن افسوس صرف یہ ہے کہ ہم اتنے خود غرض ہیں کہ مثبت انداز کی بجائے منفی انداز میں خود کو کامیاب سمجھتے ہیں ـ

جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انفرادی کامیابی تو ہر سمت نظر آتی ہےـ لیکن اجتماعی طور پے ہم آپس میں نفرت حسد کا شکار ہیں ـ ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو ماننے سے صرف انکاری اس لیۓ ہیں کہ کہیں ہماری اپنی دوکانداری نہ خراب ہو جائے ـ حالانکہ سچ بات یہ ہے جو صلاحیت اللہ نے ایک انسان کو دی ہے ویسے ہی دوسرے انسان کو کسی اور صلاحیت سے مالا مال کر رکھا ہے ضرورت صرف پرکھنے کی ہے ـ پاکستان میں نفسا نفسی اور آگے بڑھنے کی دوڑ سیاسی قوتوں کو انتہائی درجے پے لے آتی ہےـ میڈیا پر کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جس میں ایک سیاسی جماعت کی خاتون نے سرِ عام دوسری خاتون کی کردار کُشی کی ہےـ اور شرمندگی اس لیۓ محسوس نہیں کرتی کیونکہ شائد اسکی نظر میں اس کی شہرت کو اس واقعے سے چار چاند لگ گئے، یہ سوچ یہ رویے انتہائی افسوس ناک ہیں برداشت کا تحمل کا فقدان دبن بدن زیادہ اور زیادہ نظر آ رہا ہے ـ

Police

Police

نہ صرف سیاسی محاذ آرائی پر بلکہ ملک کے کئی محکمے جو جان و مال عزت آبرو کو تحفظ دیتے ہیں وہ بھی حکمرانوں کی نااہلی اور کج روی کے باعث عوام کیلیۓ تارا مسیح بنے نظرآتے ہیں یہ کونسا دیار ہے؟ جہاں دولہے کو سہرے سجائے پولیس قتل کر دیتی ہے ـ جہاں جوان بھائی کی ظالمانہ موت پر بہنوں کے احتجاج کرنے پر بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا جاتا ہے جہاں پولیس خواتین کی عزت ان کے دوپٹے سرِ عام سروں سے نوچتی ہےـ اور ان کو لاتوں گھونسوں اورڈنڈوں سے پیٹتی ہے ـ اس سے زیادہ بے غیرتی اور بے حیائی اس ملک میں کیا ہو گی ـ

اس ملک کی بہنیں سرحد پار ان محافظوں کی سلامتی کی دعائیں کر رہی ہیں ـ لیکن وہ سرحد پا رکی بہنیں نہیں جانتی کہ یہ بنا تو پاکستان تھاـ جس کا ایک مذہب مکمل لائحہ عمل رکھتا تھا ـ جس کے تحت زندگی گزارنا ہر مسلمان کیلیۓ دین اور دنیا میں بھلائی ہی بھلائی تھی افسوس کہ حرص اور لالچ نے وہ دین وہ اصول وہ اطوار کہیں ماضی کا حصہ بنا دیے اب کیبل کا دور ہے بظاہر ہماری ہی خواتین ہیں ـ لیکن ان کی بول چال ملبوسات میں آپکو جھلک ساتھ والے ملک کی دکھائی دے گی ـ جہاں آج بھی لاکھوں سکینہ ذہنی طور پے پاکستان کے ساتھ وابستہ ہیں ـ

وہاں موجود سکینہ آج بھی خوش ہے اپنے سادہ سے دماغ میں پاکستان کو اسلام کا قلعہ دیکھتی ہے اور اس قلعے کی فصیل پر لہراتا سبز سفید وہ محترم پرچم لہراتا ہوا تصور میں دیکھتی ہے ـ جو اسکے خوابوں کا محور ہے ـ وہ پاکستان نہی پہنچ سکی لیکن وہ اسی میں بہت خوش ہے کہ اسکے بعد پیدا ہونے والی لاکھوں سکینہ عزت احترام سے اس ملک میں اپنے دین اپنے اسلوب کے ساتھ باعزت زندگی بسر کر رہی ہے ـ وہ نہیں جانتی کہ پاکستان کی سکینہ کو اب جدت پسند معاشرے میں 5 سال کی عمر میں ہی ہوس کا نشانہ بنا کر اسکی معصوم کومل زندگی کو روگ بنا دیا جاتا ہے ـ

Any Religion

Any Religion

ٌ کسی دین مذہب اور اصول قاعدے کو نہ جانتا ہو اس کے دور اقتدار میں کسی بھلائی کی تو امید نہیں کی جاسکتی ہاں سکینہ کے سر سے چادر اترتی سر ِعام بے عزت ہوتی فریاد کرتی اور انصاف کی دہائی دیتی شائد جابجاہ نظر آجائے ـ سکینہ ہمیں معاف کر دینا ـ
ہم لاکھوں سکینہ کی قربانیوں کو بھول کر پھر سے ذہنی غلام بن کر اسی تہذیب کو فروغ دے رہے جس میں ذلت ہے بے حیائی ہے ـ رسوائی ہے ـ ایسی لاکھوں سکینہ جو محفوظ کامیاب پاکستان کے لئے سرحد پار سے آج بھی آنسؤں سے لبریز آنکھوں سے سجدہ ریز ہوں یا پھر خاموش لبوں سے دعا مانگیں ایسے رہنماؤں کے لئے جو روشنی کا مینار ثابت ہوں ـ

جن کے ہاتھ میں کوئی ٹِمٹماتا دیا روشن ہو جو بڑی جدو جہد سے بڑی طوفانی آندھیوں اور تیز ہواؤں سے بچا بچا کر اسکی روشنی کو پھیلا رہے ہیں ـ ایسے لوگ ہی اس سکینہ کی کی زیر لب مانگی گئی خاموش دعا ہے ـ جو شائد اللہ نے قبول کر لی ہے اور ان کی قربانیوں کے صلے میں ایک لمبے دورانیے کے بعد ملک میں کوئی منصف کھرا بے باک اور سچا انسان سیاسی پلیٹ فارم پر کھڑا نظر آتا ہےـ جو انٹرنیشنل لیول کا سیاست دان ہے”” عمران خان “” ـ جس کی سوچ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح دور رس اور عوامی ہے ـ ” سکینہ اللہ آپ کی دعاؤں کے صدقے ہی اس ملک میں بسنے والی سکینہ کو غیور اور بہادر قائد عطا کر دے

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir


تحریر: شاہ بانو میر