اقبال اردو اکیڈمی کی انتہائی یادگار تقریب، قاسم خورشید کی شمولیت

Kamran Ghani

Kamran Ghani

تمل ناڈو (کامران غنی) نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی اس شعر کے خالق علامہ اقبال کے نام پر کوئمبتور (تمل ناڈو) میں جناب کلیم الدین، شمیم باشا اور فیض قادری کی کوششوں سے اقبال ارد و اکیڈمی کا انعقاد عمل میں آیا۔ گذشتہ روز سرزمین کوئمبتور (تمل ناڈو) میں ایک یاد گار تقریب عمل میں ائی جس میں علامہ اقبال پر ایک سمینار و کل ہند مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔

اس موقع پر ہندوستان میں مقیم اردو اور تمل ادب کی عالمی شہرت یافتہ شخصیتوں کو مدعو کیا گیا تھا۔جس میں ہزاروں کی تعداد میں شائقین کی شمولیت درج کرائی گئی ۔ علامہ اقبال پر ہوئے سمینار میں اکیڈمی صدر کلیم الدین اور نائب صدر شمیم باشا کے استقبالیہ کلمات کے بعد مختلف دانشوروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا لیکن ان میں بے حداہم تمل منصف کوی کو عبد الرحمن شامل تھے انہوں نے اس تقریب کے حوالے سے مدلل باتیں دہرائیں اور خصوصی طور پر اقبال کی نظم ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا” کومرکز میں رکھ کر فرمایا کہ ” دراصل علامہ اقبال ہماری ادبی وراثت کا ناگزیر حصہ ہیں ۔ اقبال نے نہ صر ف یہ کہ ہندوستانی ادب بلکہ عالمی ادب کو بھی بے متاثر کیا ہے۔

ان کی تما م تر نظمیں مختلف زبانوں میں منتقل ہوچکی ہیں اور آج بھی نئی پرانی نسلوں کو متحر ک کر رہی ہیں۔اس موقع پر حیدرآباد سے تشریف لائے مظفر شہمیری نے فرمایا کہ یہ سمینار کئی معنوں میں یادگار اور دلچسپ کہا جاسکتاہے آج کے دور میں اقبال کی معنویت پہلے سے زیادہ اہم ہوگئی ہے ۔اردو ، ہندی کے نامور ادیب و شاعر ڈاکٹر قاسم خورشید نے اپنے مخصوص اور پر اثر لہجے سے ہزاروں کی تعداد میں موجود سامعین کو سحر زدہ کر دیا ۔انہوںنے فرمایا کہ درد کے رشتے کے معاملے میں دنیا کا ہر تخلیق کار ایک جیسا ہوتاہے۔ اقبال نے ہماری شاعری کو نئے افکار سے مزین کیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی پوری معنویت کے ساتھ پڑھے جارہے ہیں۔میں اقبال اردو اکیڈمی کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے پوری عرق ریزی کے بعد ایسی شاندار اور یادگار تقریب کا انعقاد کیا۔جناب علیم صبا نویدی نے اپنی تقریر سے پہلے بہت تفصیل کے ساتھ قاسم خورشید کی تخلیقی کائنات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ قاسم خورشید اپنی نسل میں اردو کے واحد تخلیق کار ہیں جو اردو کے علاوہ لگا تار دوسری ہندوستانی زبانوں میں بھی شائع ہو کر پذیرائی حاصل کرتے رہے ہیں۔آج سمینا رمیں ان کی شمولیت ہمارے لئے باعث صد احترام ہے کہ وہ بہت دور سے اکیڈمی کی خصوصی دعوت پراس تقریب میں شامل ہونے کے لئے کوئمبتور تشریف لائے ۔ علیم صبا نویدی نے زور دیتے ہوئے فرمایا کہ علامہ اقبال نے اردو شاعری کوزلفوں، غازہ و محبوب کے تصور سے باہر نکالا اور اردو شاعری کو نہ جانے کتنے شہہ پارے دیئے۔

سید سجاد حسین صدر شعبہ ٔ اردو مدراس یونیورسیٹی نے کہا کہ علامہ اقبال اردو اکیڈمی کے قیام سے کوئمبتورمیں ارد و کے حوالے سے فضا آفرینی ہوئی ہے ۔جلسے کے ناظم فیض قادری نے اکیڈمی کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم پوری کوشش کریںگے کہ تمل ناڈو میں اردو کی وراثت کا تحفظ ہو اور دوسرے ترقی پذیر صوبوں کی طرح اردو کا وقار بحال کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔اس موقع پر دوسرے اور کئی مشاہیر نے اپنی آراء سے نوازا۔جلسے کی خاص بات یہ تھی کہ سامعین ابتدا سے اختتام تک ہمہ تن گوش رہے۔ دوسرے اجلاس میں ایک انتہائی شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ہندوستان بھر کے نمائندہ شعراء کرام شامل ہوئے اوراپنے بہترین کلام سے نوازا ۔اس موقع پر ایک خاص بات یہ رہی کہ کو ی کو عبد الرحمن نے مختصر سی کئی نظمیں سنائی ساتھ ہی مظفر شہمیری،قاسم خورشید، علیم صبا نویدی، فیض قادری، شاعر مدراسی، ماہر مدراسی، شہزاد آبرو، سید سجاد حسین،راحت حرارت ، ابراہیم ایاز ،مظفر الدین، شفیق عابدی، حسن فیاض ،اشفاق الرحمن مظہراوردوسرے کئی شعرائے کرام نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔

اکیڈمی کے چئیر مین جناب کلیم الدین کی صدار ت میں مخصوص نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں مہمان خصوصی کے طور پر علیم صبا نویدی،قاسم خورشید ،مظفرشہمیر ی شامل ہوئے۔

جیسا کہ اردو آبادی واقف ہے کہ مشہور محقق و نقاد پروفیسر ارتضیٰ کریم کو قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کا ڈائریکٹر بنایا گیا ہے ۔ تقریب کے دور ان لگ بھگ سبھی دانشوروں اور سامعین میں شامل کئی لوگوں نے ڈاکٹر ارتضیٰ کریم کو ڈائریکٹر بنائے جانے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور اس میں یہ بات ابھر کر سامنے آئی کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کو چاہئے کہ نام نہاد افرادسے کونسل کو بچائے اور پوری تیار ی کے ساتھ کونسل کو عملی سطح پر فعال کرے اور پرانی کمیٹی کو تحلیل کرکے اردو کے نامور مشاہیر کی الگ ٹیم بنائی جائے ۔اس طرح مختلف نوعیت کے پروگراموںکے ساتھ قومی اردو کونسل کو نیا آسمان مل جائے گا۔اس طرح مختلف پروگراموں کے انعقاد کے بعد جلسے کا انتہائی کامیابی کے ساتھ اختتام ہوا۔